ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جمعرات کو ترکی، مصر اور پاکستان کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ الگ الگ ٹیلی فونک بات چیت میں علاقائی ہم آہنگی پر زور دیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ایرانی فوج نے اپنی توانائی کے ڈھانچے پر کسی بھی نئے حملے کی صورت میں مزید سخت جواب دینے کی وارننگ دی ہے۔
بدھ کو ساؤتھ پارس گیس فیلڈ اور عسلویہ میں واقع ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ایران نے اس کے جواب میں خلیجی ممالک میں موجود ان توانائی مراکز پر حملے کیے جنہیں وہ امریکہ سے منسلک قرار دیتا ہے۔
ان میں قطر کی راس لافان انڈسٹریل سٹی بھی شامل ہے، جو دنیا کا سب سے بڑا ایل این جی کمپلیکس ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق ’ترکی، مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ سے بات چیت میں عراقچی نے امریکہ اور صیہونی رجیم (اسرائیل) کی جانب سے ایرانی انفراسٹرکچر پر حملے کو خطے میں کشیدگی بڑھانے اور عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا اور علاقائی ممالک پر زور دیا کہ وہ صورتحال پر کڑی نظر کریں اور ان خطرات کے مقابلے میں باہمی ہم آہنگی کو مضبوط بنائیں۔‘
ایران کی مسلح افواج کی متحدہ کمان کے ترجمان نے کہا کہ ملک کے توانائی ڈھانچے پر حالیہ حملوں نے جنگ کو ’ایک نئے مرحلے‘ میں داخل کر دیا ہے، جس میں ایران نے خطے میں امریکہ اور امریکی سرمایہ کاروں سے منسلک توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق، ابراہیم ذوالفقاری نے کہا ’اگر (ایران کے توانائی ڈھانچے پر) حملے دوبارہ ہوئے تو آپ کے توانائی ڈھانچے اور آپ کے اتحادیوں کے انفراسٹرکچر پر ہمارے حملے نہیں رکیں گے، یہاں تک کہ وہ مکمل تباہ نہ ہو جائیں اور ہمارا ردعمل کہیں زیادہ سخت ہو گا۔‘
ترک نشریاتی ادارے Ahaber نے ریاض میں ترک وزیر خارجہ کے ہمراہ ایک صحافی کی ریکارڈ کردہ فوٹیج جاری کی ہے، جس میں بتایا گیا کہ وزرائے خارجہ کے اجلاس کے مقام کے قریب ایران نے متعدد حملے کیے، تاہم سعودی دفاعی نظام نے ان حملوں کو کامیابی سے ناکام بنا دیا۔
" هل خططت إيران لاستهداف وزراء خارجيه الدول العربيه والمسلمه خلال اجتماع الرياض
— Perde Arkası خلف الستار (@perde_arkasi1) March 18, 2026
.
" نشرت قناة Ahaber التركيه مشاهد التقطها صحفي القناه المرافق لوزير خارجية تركيا في الرياض
" أثناء شن إيران عدة هجمات بالقرب من موقع انعقاد اجتماع وزراء الخارجية.
" وتصدي أنظمة الدفاع السعوديه… pic.twitter.com/d6HeTrYrRw
اس ہفتے پاکستان اور کئی عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایران پر زور دیا کہ وہ خطے کے پڑوسی خلیجی ممالک پر اپنے حملے بند کرے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزرائے خارجہ نے تہران کو خبردار کیا کہ ان ممالک اور ایران کے باہمی تعلقات کا مستقبل خودمختاری کے احترام اور دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر منحصر ہے۔
پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بدھ کو ریاض میں عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشاورتی اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں آذربائیجان، بحرین، مصر، اردن، کویت، لبنان، پاکستان، قطر, سعودی عرب، شام، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔
پاکستان کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو ایک بیان میں بتایا کہ اسحاق ڈار نے گذشتہ شب ریاض میں ہونے والے مشاورتی وزارتی اجلاس کے موقعے پر ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان سے ملاقات کی۔
دونوں فریقوں نے خطے میں بدلتی ہوئی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور پاک–ترکی سٹریٹجک شراکت داری اور قریبی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔