میزائل حملوں کے بعد یو  اے ای نے فضائی حدود جزوی طور پر بند کر دیں

متحدہ عرب امارات میں حکام نے کہا کہ ہنگامی سکیورٹی پروٹوکولز بھی نافذ کر دیے گئے ہیں اور صورت حال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

8 مارچ 2026 کو دبئی کے دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ایمریٹس کا طیارہ اڑان بھر رہا ہے (اے ایف پی)

متحدہ عرب امارات نے منگل کو فضائی حدود کو جزوی طور پر بند کر دیا گیا ہے اور پروازوں کو چند منظور شدہ روٹس تک محدود کر دیا ہے اور ہنگامی سکیورٹی پروٹوکول فعال کر دیے گئے ہیں۔

ان پابندیوں کا اطلاق کم از کم 11 مئی تک برقرار رہے گا۔

متحدہ عرب امارت کی جنرل ایوی ایشن اتھارٹی کی طرف سے جاری کردہ نوٹس ٹو ایئر مین ’نوٹمز‘ میں کہا گیا ہے کہ ملک کی فلائٹ انفارمیشن ریجن مکمل طور پر کھلی نہیں بلکہ جزوی طور پر بند ہے۔

حکام کے مطابق، یو اے ای آنے اور جانے والی پروازوں کو صرف مخصوص داخلی اور خارجی راستوں کے ذریعے ہی اجازت دی جا رہی ہے۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت کیا گیا جب صرف دو روز قبل حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ فضائی حدود مکمل طور پر محفوظ ہیں اور تمام احتیاطی پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پیر کو یو اے ای حکام کا کہنا تھا کہ ملک فضائی دفاعی نظام ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روک رہا ہے، جس کے باعث متعدد پروازوں کو اپنا رخ تبدیل کرنا پڑا۔ کئی پروازیں عمان کے دارالحکومت مسقط کی جانب موڑ دی گئیں جبکہ کچھ طیارے سعودی عرب کی کی فضائی حدود میں چکر لگاتے رہے۔

حکام نے ہنگامی سکیورٹی پروٹوکولز بھی نافذ کر دیے ہیں اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

متحدہ عرب امارات نے منگل کو کہا تھا کہ فجیرہ آئل انڈسٹریز زون میں میزائل اور ڈرون حملوں میں تین انڈین شہری زخمی ہو گئے تھے۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے منگل کو ایک بیان میں متحدہ عرب امارات پر میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سیز فائر کا احترام کرنے پر زور دیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا