پاک افغان مذاکرات میں کردار ادا کرنے والے مقتول مولانا ادریس کون تھے؟

معروف عالم دین اور جمیعت علمائے اسلام کے صوبائی سرپرست مولانا محمد ادریس کی منگل کو نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں موت ہو گئی ہے۔

چارسدہ میں نامعلوم افراد کے حملے میں جان سے جانے والے مولانا محمد ادریس (سابق سینیٹر مشتاق احمد/ایکس)

خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق معروف عالم دین اور جمیعت علمائے اسلام کے صوبائی سرپرست مولانا محمد ادریس منگل کو چارسدہ کے علاقے ترنگزئی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جان سے چلے گئے۔

ضلعی پولیس سربراہ محمد وقاص خان کے مطابق واقعے میں مولانا ادریس کی سکیورٹی پر مامور دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کے ذریعے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پولیس سے رپورٹ طلب کی ہے جب کہ مختلف سیاسی و سماجی رہنماؤں کی جانب سے واقعے کی مذمت اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مولانا شیخ ادریس کون تھے؟

مولانا محمد ادریس خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ کے علاقے ترنگزئی میں 1961 میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم گاؤں کے سکول سے حاصل کی۔

دینی تعلیم پہلے علاقے کے مدرسے سے اور بعد میں نوشہرہ کے معروف مدرسے جامعہ دارالعلوم حقانیہ چلے گئے۔ ان دنوں وہ ترنگزئی میں جامعہ نعمانیہ کے نام سے مدرسہ چلا رہے تھے۔

وہ 2002 میں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے جب کہ جمیعت علمائے اسلام کی مرکزی شوریٰ کے رکن بھی تھے۔

مولانا محمد ادریس 2007 میں پشاور میں قتل ہونے والے معروف عالم دین مولانا حسن جان کے داماد تھے اور دونوں کا تعلق ضلع چارسدہ سے تھا۔

خودکش حملوں کے خلاف اس وقت فتویٰ دینے والے مولانا حسن جان کو پشاور کے وزیر باغ کے قریب نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔

پاکستان افغان امن مذاکرات میں مولانا ادریس کا کردار

مولانا محمد ادریس 2022 میں مفتی تقی عثمانی کی قیادت میں افغان طالبان سے مذاکرات کے لیے جانے والے علما کے وفد کا بھی حصہ تھے جس نے وفد کے ساتھ کابل جا کر افغان طالبان کے رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔

مولانا محمد ادریس دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں متعدد افغان طالبان رہنماؤں کے استاد رہ چکے ہیں اور اسی وجہ سے ان کا افغان طالبان میں کافی اثر و رسوخ موجود اور اس دورے کے بارے میں انہوں نے کچھ ہفتے پہلے پشاور میں منعقدہ جرگے میں گفتگو بھی کی تھی۔

انہوں نے پشاور یونیورسٹی کے ایریا سٹڈی سینٹر میں پاک افغان امن جرگے سے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ سب سے پہلے ہم پاکستانی ہیں اور ہمیں اپنے گھر سے زیادہ پاکستان اور یہاں کا امن عزیز ہے۔

کابل دورے کے بارے میں انہوں نے بتایا تھا کہ ’وہاں ہمارے شاگرد موجود ہیں جو یہاں پاکستان سے پڑھے ہیں اور دونوں ممالک کو امن قائم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھنی چاہییں کیوں کہ افغانستان میں امن ہوگا تو پاکستان میں بھی امن ہوگا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مولانا ادریس اور سیاست

مولانا محمد ادریس خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن رہے اور سیاست کو ایک دینی فریضہ سمجھتے تھے جب کہ سیاست کے بارے میں ان کی رائے یہ تھی کہ ’سیاست دراصل لوگوں کی رہنمائی کرنا ہے۔‘ ان کا مؤقف رہا کہ علما کا سیاست میں بہت بڑا کردار ہے اور ان کا کردار صرف مسجد اور منبر تک محدود نہیں ہے۔

خواتین کی سیاست پر ان کی رائے تھی کہ ’ہر ایک سیاسی جماعت کی خواتین کی سیاست میں کردار کے حوالے سے اپنی پالیسی ہوتی ہے اور بعض ان کو مظاہروں اور تقاریب میں شریک کرتے ہیں جب کہ بعض کی ایسی پالیسی نہیں ہے۔‘

’جمعیت علمائے اسلام کی اپنی خواتین کی ایک شاخ موجود ہے اور وہ فعال کردار ادا کرتی ہے لیکن ہماری پالیسی یہ ہے کہ ہم خواتین کو جلسے جلوسوں میں نہیں نکالتے۔‘

جمیعت علمائے اسلام کے صوبائی ترجمان اور مولانا ادریس کے قریبی ساتھی عبدالجلیل جان کے مطابق مولانا ادریس ان کی انتخابی مہم کے لیے خود آئے۔

انہوں نے بتایا کہ درس و تدریس کی بات کی جائے تو افغانستان سے لے کر جاپان، انڈونیشیا، سعودی عرب اور قطر میں میں بھی ان کے شاگرد موجود ہیں اور وہاں درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

امن کے حوالے سے جلیل جان نے بتایا کہ مولانا ادریس کا یہی موقف تھا کہ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ نہ لڑیں ان کا کہنا تھا کہ ‘بد قسمتی یہی ہے کہ امن کے داعے اور امن کی بات کرنے والے کو نشانہ بنایا گیا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان