پاکستان، افغانستان امن بات چیت آگے بڑھ رہی ہے: چین

چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں بیجنگ کی ثالثی کو اہمیت دیتے ہیں۔

چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ 15 جنوری۔ 2024 کو کو بیجنگ میں پریس کانفرنس  کر رہی ہیں (اے ایف پی)

چین نے جمعہ کو کہا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت مستحکم انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے معمول کی پریس کانفرنس میں جمعے کو بتایا ’پاکستان اور افغانستان دونوں چین کی ثالثی کو اہمیت دیتے ہیں اور اس کا خیرمقدم کرتے ہیں، اور دوبارہ بات چیت کے لیے بیٹھنے پر آمادہ ہیں، جو کہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔‘

پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعرات کو تصدیق کی تھی کہ چین کے شہر ارومچی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ مہینے سرحدی جھڑپیں شروع ہوئیں جس کے بعد دونوں نے ایک دوسرے پر فضائی حملے بھی کیے۔

چین کی مغربی سرحد دونوں، پاکستان اور افغانستان، سے ملتی ہے اور وہ ان ممالک کے درمیان ثالثی کی کوشش کر رہا ہے۔

چینی ترجمان ماؤ ننگ نے یہ نہیں بتایا کہ مذاکرات کہاں ہو رہے ہیں، تاہم دونوں ہمسایہ ممالک اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ وہ شمال مغربی شہر ارومچی میں ہو رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ماؤ ننگ نے کہا کہ چین سازگار حالات پیدا کرنے اور ایک پلیٹ فارم مہیا کرنے کے لیے دونوں فریقوں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے ثالثی کر رہا ہے اور مذاکرات کو فروغ دے رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تینوں ممالک مناسب وقت پر مزید معلومات جاری کریں گے۔

کشیدہ تعلقات کے دوران دونوں ملکوں کے سرحدی راستے بھی بند ہیں جس کی وجہ سے تاجروں اور عام لوگوں کو مسائل کا سامنا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعہ کو ’ایکس‘ پر ایک بیان میں کہا کہ تعلقات میں پیش رفت کے لیے افغانستان سے واضح اور قابلِ تصدیق تحریری یقین دہانیاں ضروری ہیں۔

انہوں نے مزید لکھا: ’زبانی وعدے ناکافی ثابت ہوتے ہیں، جیسا کہ 2021 کے دوحہ معاہدے سے ظاہر ہوتا ہے، جس پر ٹی ٹی اے نے نہ لفظی طور پر عمل کیا اور نہ ہی اس کی روح کے مطابق۔‘


اس سے قبل ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی سے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں جب افغانستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات سے متعلق سوال پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’جی ہاں، پاکستان نے اپنے مستقل مؤقف کے مطابق ارومچی ایک وفد بھیجا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اب ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ہمارے خدشات کو دور کرے اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرے۔‘

انہوں نے واضح کیا کہ ’ارومچی میں ہونے والے مذاکرات ورکنگ لیول کے مذاکرات ہیں۔‘

طاہر اندرابی نے مزید کہا کہ ’ہم اپنی کارروائیاں نہایت احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیتے ہیں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ شہریوں کو کسی بھی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔‘

چین میں ہونے والے مذاکرات پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ ’ہمارا وفد وہاں ابھی مصروف ہے اور واپس نہیں آیا، جب وہ واپس آئے گا تو ہمیں پیش رفت کی واضح تصویر مل سکے گی۔‘

ترجمان افغان وزارت خارجہ عبدالقہار بلخی نے جمعرات کی شام ایکس پر جاری بیان میں کہا تھا کہ : ’عوامی جمہوریہ چین کی دعوت پر افغانستان کی اسلامی امارت کا ایک وفد چین پہنچ گیا ہے تاکہ پاکستانی فریق کے ساتھ اپنے اصولی موقف کے مطابق باضابطہ بات چیت کرے۔‘

ادھر افغانستان کے خبر رساں ادارے بی این اے کی ایک خبر کے مطابق پاکستان کے حالیہ فوجی حملوں کے نتیجے میں افغانستان کے مختلف صوبوں میں 27 ہزار سے زائد خاندان بے گھر ہو گئے ہیں، جنہیں فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

اس دعوے کی آذادانہ طور پر یا حکومت پاکستان کی جانب سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

افغانستان کی وزارتِ اقتصاد نے اقوامِ متحدہ کے دفاتر اور ملکی و غیر ملکی غیر امارتی اداروں کے نمائندوں کے ساتھ بے گھر خاندانوں کے لیے ہنگامی امداد کے حصول کے لیے کابل میں ایک رابطہ اجلاس منعقد کیا۔

باختر کے مطابق وزیرِ اقتصاد قاری دین محمد حنیف نے اجلاس میں بتایا کہ افغانستان کے نو صوبوں میں پاکستانی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 27344 خاندان بے گھر ہوئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا