افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے ہفتے کو کہا ہے کہ افغانستان بطور پڑوسی پاکستان سے مسائل مذاکرات سے حل کرنا چاہتا ہے۔
افغانستان کے وزیرِ خارجہ مولوی امیر خان متقی اور متحدہ عرب امارات کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان کے درمیان ٹیلی فون پر تفصیلی بات چیت میں پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے حوالے سے افغان وزیرِ خارجہ نے کہا کہ افغانستان ایک پڑوسی کے طور پر پاکستان کے ساتھ مسائل کو ’مذاکرات اور افہام و تفہیم‘ کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔
مولوي امير خان متقي همداراز د افغانستان او پاکستان د وضعيت په اړه وويل، افغانستان د ګاونډي په توګه غواړي چې له پاکستان سره ستونزې د خبرو او تفاهم له لارې حل کړي او هیچا ته اجازه نه ورکوي چې د افغانستان خاوره د پاکستان په خلاف وکاروي په دې برخه کې جدي اقدامات هم شوي دي.
— Ministry of Foreign Affairs - Afghanistan (@MoFA_Afg) March 28, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور اس حوالے سے عملی اور سنجیدہ اقدامات کیے جا چکے ہیں۔
پاکستان کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’پاکستان کے خلاف افغانستان کے تمام فوجی اقدامات ’دفاعی‘ تھے اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں افغانستان اپنا 'حقِ دفاع' محفوظ رکھتا ہے۔‘
پاکستان افغانستان کشیدگی پر اماراتی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’افغانستان اور پاکستان کے درمیان تناؤ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے۔ متحدہ عرب امارات مسائل کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تازہ جھڑپیں گذشتہ ماہ 26 فروری کی شب اس وقت شروع ہوئیں جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سے پاکستان نے اسے ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے آپریشن غضب للحق کے تحت اپنی جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
پاکستان نے افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹھکانوں اور ان کی حمایت کرنے والوں کے خلاف آپریشن کا غضب للحق کا نام دیا۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان حکومت پاکستانی عسکریت پسند گروہوں، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان کو پناہ دیتی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان غیر محفوظ اور غیر مستحکم سرحد عبور کر کے پاکستانی افواج پر حملے کرتے ہیں، اور یہ بھی کہ وہ انڈیا کے ساتھ گٹھ جوڑ رکھتی ہے۔ تاہم کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔