افغانستان پاکستان سے مسائل مذاکرات اور افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتا ہے: افغان وزیر خارجہ

افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے ہفتے کو کہا ہے کہ افغانستان بطور پڑوسی پاکستان سے مسائل مذاکرات سے حل کرنا چاہتا ہے۔ 

15 اگست، 2022 کی اس تصویر میں افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کابل میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے(روئٹرز)

افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے ہفتے کو کہا ہے کہ افغانستان بطور پڑوسی پاکستان سے مسائل مذاکرات سے حل کرنا چاہتا ہے۔ 

افغانستان کے وزیرِ خارجہ مولوی امیر خان متقی اور متحدہ عرب امارات کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان کے درمیان ٹیلی فون پر تفصیلی بات چیت میں پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے حوالے سے افغان وزیرِ خارجہ نے کہا کہ افغانستان ایک پڑوسی کے طور پر پاکستان کے ساتھ مسائل کو ’مذاکرات اور افہام و تفہیم‘ کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور اس حوالے سے عملی اور سنجیدہ اقدامات کیے جا چکے ہیں۔

پاکستان کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’پاکستان کے خلاف افغانستان کے تمام فوجی اقدامات ’دفاعی‘ تھے اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں افغانستان اپنا 'حقِ دفاع' محفوظ رکھتا ہے۔‘

پاکستان افغانستان کشیدگی پر اماراتی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’افغانستان اور پاکستان کے درمیان تناؤ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے۔ متحدہ عرب امارات مسائل کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تازہ جھڑپیں گذشتہ ماہ 26 فروری کی شب اس وقت شروع ہوئیں جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سے پاکستان نے اسے ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے آپریشن غضب للحق کے تحت اپنی جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

پاکستان نے افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹھکانوں اور ان کی حمایت کرنے والوں کے خلاف آپریشن کا غضب للحق کا نام دیا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان حکومت پاکستانی عسکریت پسند گروہوں، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان کو پناہ دیتی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان غیر محفوظ اور غیر مستحکم سرحد عبور کر کے پاکستانی افواج پر حملے کرتے ہیں، اور یہ بھی کہ وہ انڈیا کے ساتھ گٹھ جوڑ رکھتی ہے۔ تاہم کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا