صدر مملکت آصف علی زرداری نے ہفتے کو پڑوسی ملک افغانستان کی طالبان حکومت کو خبردار کیا کہ اس نے پاکستان کے شہری علاقوں پر ڈرون حملے کر کے ’سرخ لکیر عبور کر لی ہے۔‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کابل کی انتظامیہ نے ’اپنے اوپر سنگین نتائج مسلط کر لیے ہیں۔‘
پاکستانی صدر کی جانب سے یہ بیان دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان اب تک کی سب سے مہلک جھڑپوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ گذشتہ ماہ کے آخر میں شروع ہونے والی سرحد پار جھڑپوں میں، چین اور ترکی کی جانب سے جنگ بندی کروانے کی کوششوں کے باوجود، تھمنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔
جمعے کو افغان طالبان حکومت نے پاکستان پر ملک کے دارالحکومت کابل اور مشرقی افغانستان کے دیگر علاقوں میں فضائی حملے کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم چھ شہریوں کی اموات جبکہ 15 دیگر زخمی ہوئے۔
تاہم پاکستان نے شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس کی کارروائیاں پاکستانی طالبان کے جنگجوؤں اور ان کے معاون نیٹ ورکس پر مرکوز ہیں۔
چند گھنٹوں بعد کابل نے دعویٰ کیا کہ اس کی فضائیہ نے جواباً پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے قریب اور شمال مغربی پاکستان میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
تاہم پاکستان نے کہا تھا کہ اس کی افواج نے جمعے کو افغانستان سے داغے گئے ڈرونز کو روک لیا، لیکن ڈرون کا ملبہ گرنے سے کوئٹہ شہر میں دو بچے زخمی ہوئے جبکہ ملک کے دیگر مقامات پر بھی دو افراد زخمی ہوئے۔
صدر آصف علی زرداری نے ڈرون حملوں پر کابل کی حکومت پر سخت تنقید کی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق ایوانِ صدر کے میڈیا ونگ کی جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں صدر کے حوالے سے کہا گیا: ’دہشت اور وحشیانہ طاقت کے ذریعے قائم کی گئی افغانستان کی غیر قانونی حکومت دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے کے اپنے وعدوں سے مسلسل پھر رہی ہے اور اب اسلامی دنیا کی ایک بڑی فوجی طاقت کو اشتعال دلانے کی جسارت بھی کر رہی ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دونوں ملکوں کے درمیان تازہ جھڑپیں گذشتہ ماہ 26 فروری کی شب اس وقت شروع ہوئیں جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سے پاکستان نے اسے ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے آپریشن غضب للحق کے تحت اپنی جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
اس تنازع سے بین الاقوامی برادری میں علاقائی استحکام کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں کے ردعمل میں تہران کے جوابی حملوں نے مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے کے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
پاکستان افغان طالبان حکومت پر الزام لگاتا ہے کہ وہ پاکستانی عسکریت پسند گروہوں، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان کو پناہ دیتی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان غیر محفوظ اور غیر مستحکم سرحد عبور کر کے پاکستانی افواج پر حملے کرتے ہیں، اور یہ بھی کہ وہ پاکستان کے ازلی حریف انڈیا کے ساتھ گٹھ جوڑ رکھتی ہے۔ تاہم کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ ’جب افغان دہشت گرد حکومت پاکستان کے دوست ممالک کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کر رہی تھی تو اس نے شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر کے سرخ لکیر عبور کر لی، جبکہ پاکستان خلیج کے خطے اور مغربی ایشیا میں امن اور استحکام کے فروغ کی کوششوں میں مصروف تھا۔‘
چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے جمعے کو افغانستان اور پاکستان کے تنازع کے پرامن حل پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ طاقت کا استعمال کشیدگی کو بڑھاتا ہے اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ بنتا ہے۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا نے ہفتے کو رپورٹ کیا کہ وانگ یی نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے بات چیت کی۔
وانگ نے کہا کہ چین کا خصوصی ایلچی دونوں ممالک سے بات کر رہا ہے کہ تاکہ تحمل کی تلقین کی جا سکے اور جنگ بندی کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
شنہوا کے مطابق امیر خان متقی نے کہا کہ افغانستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور فوجی تصادم نہیں چاہتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مکالمہ ہی واحد حل ہے اور چین سے زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔