وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو کہا کہ پاکستان جمعے کو جنیوا میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے پر دستخطوں کی تقریب کا میزبان ہو گا۔
قومی اسمبلی سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا ’جنگ کی تاریک کے بعد امن کا سورج طلوع ہو چکا ہے کیوں کہ ایران اور امریکہ نے تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی کر دی ہے۔‘
انہوں نے کہا امن معاہدے پر پہنچنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کو مبارک باد پیش کی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اس معاہدے کی کاوشوں میں قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوغان کے شکر گزار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چینی صدر نے ابھی اس معاہدے کی پیش رفت میں اہم تعاون کیا۔
شہباز شریف نے کہا پاکستان کو خطے میں امن قائم کرانے میں جو عزت ملی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔
ان کے بقول یہ صرف دو ممالک کا معاہدہ نہیں بلکہ امن اور مکالمے کی فتح ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے پورے عمل کے دوران امریکہ اور ایران کی قیادت نے مشکل حالات میں صبر اور دانش مندی کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا ’اس کے نتیجے میں آج پوری دنیا اس عظیم دن کی گواہ بن رہی ہے۔‘
اس سے قبل شہباز شریف نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب ایکس پر اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعظم نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ’طویل اور نتیجہ خیز مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا۔ ’معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون بروز جمعہ سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہو گی۔‘
انہوں نے تنازعے کے سفارتی حل کے عزم کا اظہار کرنے پر امریکہ اور ایران کا شکریہ ادا کیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر مبارک باد دیتے ہوئے معاہدے کی تصدیق کی۔
’سب کو مبارک ہو!‘ تاہم انہوں نے معاہدے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ٹرمپ نے لکھا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا ’دنیا کے جہازو، اپنے انجن اسٹارٹ کرو۔ تیل کو بہنے دو!‘
تسنیم خبر ایجنسی کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ طویل مذاکراتی عمل میں پاکستان اور قطر کی ثالثی شامل رہی اور گذشتہ روز قطری وفد ایران آیا جہاں تقریباً 15 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک آخری نکات اور مطالبات کو متن میں شامل نہیں کیا گیا، اس وقت تک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق نہیں کیا گیا۔ مذاکرات ایک گھنٹے قبل تک جاری رہے۔
سعودی عرب، یورپی یونین، چین، برطانیہ، اٹلی، قطر، فن لینڈ، نیدرلینڈ، مصر اور کینیڈا سمیت متعدد ممالک نے پیر کو ایران امریکہ امن معاہدے کے لیے پاکستانی کی ثالثی اور سفارتی کاوشوں کی تعریف کی۔