مظفرآباد میں پولنگ کا وقت ختم، پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں الزامات کا پھر تبادلہ

ڈپٹی کمشنر مظفرآباد منیر قریشی نے کہا کہ ’الیکشن پرامن طریقے سے جاری ہیں اور پولنگ کے وقت میں ایک گھنٹے کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔

دو اگست 2026 کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران ایک پولنگ سٹیشن پر پولیس اہلکار پہرہ دے رہا ہے جبکہ خواتین ووٹرز ووٹ ڈالنے کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہی ہیں (سجاد قیوم / اے ایف پی)

پاکستان کے زیر انتظام  کشمیر کے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں اتوار کو مظفرآباد ڈویژن کے مختلف حلقوں میں پولنگ کا وقت ختم ہو گیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان ایک مرتبہ پھر دھاندلی اور بدانتظامی کے الزامات کا سخت تبادلہ ہوا ہے۔

کشمیر کے حکام نے مظفرآباد ڈویژن میں پولنگ کے وقت میں ایک گھٹنے کی توسیع کی گئی، اضافی وقت ختم ہونے کے بعد پولنگ کا عمل اختتام پذیر ہو گیا۔ 

الیکشن کمشن کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کے اگلے مرحلے، ووٹوں کی گنتی، کے لیے تمام تیاریاں مکمل ہیں جب کہ حتمی نتائج الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ پاکستان میں کشمیریوں کی 12 نشستوں پر بھی ووٹنگ آج ہوئی۔

کشمیر میں حکام کے مطابق خراب موسم، شدید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بعض علاقوں میں پولنگ ملتوی کر دی گئی نیز ووٹر ٹرن آؤٹ کم دیکھنے میں آیا۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پولنگ دو روز کے لیے ملتوی کی گئی ہے اور امن و امان پر قابو رکھنے کے لیے مظفرآباد میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

مظفرآباد میں انٹرنیٹ سروس پھر سے بند ہے۔ تاہم الیکشن کوریج کے لیے موجود میڈیا کی جانب بعض مقامی افراد کا رویہ شدید جارحانہ تھا۔ 

ڈپٹی کمشنر مظفرآباد منیر قریشی نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں کہا، ’الیکشن پرامن طریقے سے جاری ہیں۔ خراب موسمی حالات کے باعث بعض حلقوں میں پولنگ دو روز کے لیے ملتوی کی گئی ہے۔ کچھ عناصر انتخابی عمل میں خلل ڈالنا چاہتے تھے، تاہم انتظامیہ نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ مظفرآباد میں پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے مختلف صوبوں سے ہزاروں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔‘

الیکشن کمیشن کے مطابق شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث حلقہ ایل اے-27 مظفرآباد ون میں پولنگ ممکن نہ ہو سکی کیونکہ متعدد سڑکیں بند ہونے سے پولنگ عملہ اور انتخابی سامان بروقت نہیں پہنچ سکا۔ کمیشن نے اعلان کیا کہ اس حلقے میں پولنگ کی نئی تاریخ بعد میں جاری کی جائے گی۔

اسی طرح حلقہ ایل اے-28 مظفرآباد 2 (لچھراٹ) کے متعدد پولنگ اسٹیشنوں پر بھی خراب موسم اور راستوں کی بندش کے باعث پولنگ چار اگست تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے کے تحت آج (بروز اتوار) مظفرآباد ڈویژن اور پاکستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں کے لیے مختص 12 نشستوں پر پولنگ ہو رہی ہے۔

اس مرحلے میں مظفرآباد، نیلم اور جہلم ویلی کے اضلاع میں ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔

ممبر کشمیر الیکشن کمیشن سید نظیر الحسن گیلانی نے آج حلقہ ایل اے-29 مظفرآباد 3 کے مختلف پولنگ سٹیشنز کا دورہ کر کے پولنگ کے عمل، ووٹر سہولیات اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا، انہوں نے انتخابی عملے کو شفاف، غیر جانبدار اور منظم پولنگ یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی اولین ترجیح ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے اتوار کو کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات ان سے ’چھین لیے گئے‘، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی قیادت پر جوابی تنقید کی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’گولی، لاٹھی اور زور زبردستی سے مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے عوام کے ووٹ پر ڈاکہ مار رہی ہے۔‘ ان کے بقول، ’دھاندلی کر کے مسلم لیگ (ن) کا جیتنا عوام کا ریاست پر اعتماد ختم کر دے گا۔‘

انہوں نے ایک کارکن کے مارے جانے کا بھی دعوی کیا جس کی سرکاری سطح پر ابھی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

دوسری جانب، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما قمر زمان کائرہ نے مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’آزاد کشمیر کا الیکشن ہم سے چھینا گیا ہے۔‘ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض مقامات پر انتخابی عملے کو اغوا کر کے بیلٹ پیپرز پر ٹھپے لگائے گئے۔

بلاول نے اپنے رہنما چوہدری لطیف اکبر کے انتخابی حلقے ایل اے 31 کھاوڑہ میں پارٹی کے رکن قومی اسمبلی صلاح الدین جونیجو پر حملے کی بھی مذمت کی اور ذمہ داروں کو فی الفور گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔

قمر زمان کائرہ نے کہا، ’اگر گولیاں مار کر اور خون بہا کر جیتنا ہے تو پھر یہ کون سا الیکشن ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر انتخابی عمل ہی متنازع ہو جائے تو اس کے نتیجے میں بننے والی حکومت پر عوام کا اعتماد متاثر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ابتدا ہی سے مرحلہ وار انتخابات کی مخالفت کی تھی اور خراب امن و امان کی صورت حال کے باعث انتخابات مؤخر کرنے کی درخواست بھی کی تھی، تاہم بعد ازاں تحفظات کے باوجود انتخابی عمل میں حصہ لیا۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کشمیر میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی تنقید کا جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’زرداری صاحب کے ایک برخوردار فرما رہے ہیں کہ یہ سسٹم ختم ہو چکا ہے اور آگے نہیں چل سکتا۔‘

سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا، ’ہمیں نہ ڈرایا جائے کہ کاکروچ اکٹھے ہو گئے تو سنبھالے نہیں جائیں گے، ہم نے ان کاکروچوں کو اچھے طریقے سے سنبھالا ہوا ہے۔‘

مسلم لیگ ن کی سینیئر رہنما مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ مخالفین کے رونے سے لگتا ہے کہ وہ جیت رہے ہیں۔

ادھر پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے مختلف حلقوں میں خراب موسم، شدید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بعض پولنگ سٹیشنز پر ووٹنگ دو روز کے لیے ملتوی کر دی گئی، جبکہ الیکشن کمیشن نے متعدد علاقوں میں پولنگ کے وقت میں بھی توسیع کی۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مظفرآباد میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

مظفرآباد ڈویژن کے نو انتخابی حلقوں میں مجموعی طور پر 207 امیدوار مدمقابل ہیں، جن میں ضلع مظفرآباد کے پانچ، جہلم ویلی کے دو اور نیلم کے دو حلقے شامل ہیں۔

آج ہی پاکستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں کے لیے مختص 12 نشستوں پر بھی پولنگ ہو رہی ہے، جہاں 137 امیدوار میدان میں ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان نشستوں میں سے چھ وادی کشمیر جبکہ چھ جموں ریجن کے لیے مختص ہیں۔ یہ وہی نشستیں ہیں جن پر کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کا احتجاج جاری ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم نے مختلف پولنگ سٹیشنوں کے دورے کے دوران دیکھا کہ کئی مقامات پر ووٹر ٹرن آؤٹ توقع سے کم رہا۔ متعدد شہریوں نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی انتخابی بائیکاٹ کی کال کے باعث ووٹ ڈالنے سے گریز کیا۔

مظفرآباد ڈویژن میں مجموعی طور پر آٹھ لاکھ 95 ہزار 66 رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، جن میں چار لاکھ 27 ہزار 400 مرد جبکہ تین لاکھ 82 ہزار 167 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔

دوسری جانب، پاکستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں کی 12 نشستوں پر مجموعی ووٹرز کی تعداد چار لاکھ 38 ہزار 834 ہے، جن میں دو لاکھ 47 ہزار 776 مرد اور ایک لاکھ 91 ہزار 54 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔

پولنگ کے لیے مظفرآباد ڈویژن میں مجموعی طور پر ایک ہزار 483 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔

ان میں سے 533 کو انتہائی حساس، 741 کو حساس جبکہ 209 کو نارمل قرار دیا گیا جبکہ پاکستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں کی 12 نشستوں کے لیے ایک ہزار 57 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔

رپورٹنگ کے دوران انڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم نے مظفرآباد کے مختلف علاقوں میں شیلنگ جیسی آوازیں بھی سنیں۔ اسی دوران لوئر پلیٹ اور نیلم پل کے قریب پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کرتے ہوئے بھی دیکھا۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان