کشمیر کا مسئلہ، تقسیم برِصغیر کے بعد سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایک ایسے تنازعے کی صورت میں موجود ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان پانچ باقاعدہ جنگوں کی وجہ بن چکا ہے۔
دونوں ملکوں کے ایٹمی ہتھیار ایک دوسرے کا نشانہ لیے ہوئے ہیں جس سے پاکستان انڈیا کی ڈیڑھ ارب سے زائد آبادی کا امن ہمیشہ خطرے کا الارم بجاتا رہتا ہے۔
اس مسئلے کے پس منظر کے بارے میں تو سب ہی جانتے ہیں کہ یہ تقسیم برصغیر کے برطانوی منصوبے کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ شروع میں جب پاکستان اور انڈیا کے درمیان ریاست جونا گڑھ، ریاست حیدر آباد اور ریاست جموں و کشمیر کے حوالے سے تنازعات سامنے آئے تو یہی خیال تھا کہ یہ جلد حل کر لیے جائیں گے۔
جونا گڑھ اور حیدر آباد کے نوابین مسلمان تھے لیکن رعایا کی اکثریت ہندو تھی جبکہ کشمیر میں رعایا کی اکثریت مسلمان تھی لیکن ریاست کا راجہ ہندو تھا۔ جونا گڑھ اور حیدر آباد کے نوابین پاکستان میں شمولیت چاہتے تھے لیکن انڈیا نے ان پر قبضہ کر لیا۔ دوسری جانب کشمیر کے عوام پاکستان میں شمولیت چاہتے تھے لیکن ہندو راجہ نے انڈیا کے ساتھ الحاق کر لیا۔
کہا جاتا ہے کہ جب تقسیم کے فوراً بعد جونا گڑھ، حیدر آباد اور کشمیر کے مسئلے ایک ساتھ پیدا ہوئے تو پاکستان کے پاس موقع تھا کہ وہ بہتر حکمت عملی سے کشمیر لے سکتا تھا لیکن پاکستان نے یہ سنہری موقع ضائع کر دیا۔ اس حوالے سے پاکستان کے پہلے صدر اور آخری گورنر جنرل سکندر مرزا کی یاد داشتیں نہایت اہم ہیں جن کا حوالہ آج تک دیا جاتا ہے۔
جب سردار پٹیل نے حیدر آباد کے بدلے کشمیر کی پیشکش کی
سکندر مرزا کے بیٹے احمد سلیم نے اپنے والد کی یاد داشتوں پر مشتمل کتاب ’Iskandar Mirza: Rise and Fall of a President‘ لکھی تھی جو 1997 میں چھپی تھی۔
اس کتاب کا ایک باب ’Kashmir: A Fair Offer‘ کے نام سے ہے، جس میں وہ لکھتے ہیں کہ حیدر آباد میں انڈین افواج کو سخت ہزیمت کا سامنا تھا۔ ایسے میں سردار پٹیل جو کہ انڈیا میں ریاستوں کے امور کے مدارالمہام تھے، انہوں نے ایک خصوصی ایلچی کراچی بھجوایا، جس نے پیشکش کی کہ ’اگر ہم حیدر آباد سے دستبردار ہو جائیں تو ہم کشمیر آپ کو دے سکتے ہیں۔‘
اس بات کی تصدیق چوہدری محمد علی بھی کرتے ہیں جو کہ پاکستان کے وزیر اعظم بھی رہے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ سردار پٹیل اگرچہ پاکستان کا سخت دشمن تھا لیکن وہ نہرو کے مقابلے میں زیادہ حقیقت پسند تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وہ ایک ملاقات کا احوال بیان کرتے ہیں جو کہ لیاقت علی خان اور سردار پٹیل کے درمیان ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں چوہدری محمد علی بھی موجود تھے جس میں لیاقت علی خان نے سردار پٹیل کے سامنے ریاستوں کے الحاق کے حوالے سے انڈین پالیسی کے تضادات کو واضح کیا۔
’اگر جونا گڑھ جس کے مسلمان حکمران نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا ہے اگر اس کے الحاق کو اس بنیاد پر رد کیا جا رہا ہے کہ اس کی آبادی کی اکثریت ہندو ہے تو پھر اس بنیاد پر کشمیر کے ہندو راجہ کا الحاق کیسے منصفانہ ہو سکتا ہے، جہاں کی آبادی کی اکثریت مسلمان ہے۔ اگر جونا گڑھ کے مسلمان حکمران کا الحاق نامہ غلط ہے تو پھر کشمیر کے ہندو راجہ کا الحاق نامہ کیسے درست ہو سکتا ہے؟ اگر عوام کی مرضی جونا گڑھ میں مقدم سمجھی گئی تو یہ اصول کشمیر پر بھی لاگو ہونا چاہیے تھا۔‘
جب لیاقت علی خان نے یہ مؤقف اپنایا تو سردار پٹیل خود پر قابو نہ رکھ سکے اور ترنت بولے: ’جونا گڑھ کو کشمیر سے کیوں ملاتے ہو؟ حیدر آباد اور کشمیر کی بات کرو تو ہم کسی معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں۔‘ تب پٹیل یہ سمجھتے تھے کہ مسلم علاقوں کو ان کی مرضی کے خلاف اپنے پاس رکھنا انڈیا کی طاقت نہیں بلکہ کمزوری کا باعث بن رہا ہے۔
ان کا خیال تھا کہ اگر انڈیا اور پاکستان اس پر متفق ہو جائیں کہ کشمیر پاکستان کو دے دیا جائے اور حیدر آباد انڈیا کو تو کشمیر اور حیدر آباد دونوں کے مسائل پرامن طریقے سے حل ہو سکتے ہیں، جس سے دونوں ملکوں کا فائدہ ہو گا۔
لیکن یہ ڈیل کیوں نہیں سکی؟ اس کا جواب تاریخ میں نہیں ملتا۔
پاکستان نے یہ سنہری موقع کیوں ضائع کیا؟
تقسیم برصغیر کے سلسلے میں پٹیل کی اس پیشکش کا دعویٰ سکندر مرزا اور چوہدری محمد علی کرتے ہیں۔ اس بنیاد پر یہ سوال آج تک کیا جاتا ہے کہ پاکستان نے اس اہم پیشکش کو کیوں اہم نہیں گردانا؟
راج موہن گاندھی اپنی کتاب ’Patel: A life‘ میں لکھتے ہیں کہ تقسیم کے وقت پٹیل کشمیر سے زیادہ اہم حیدر آباد کو سمجھتے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’حیدر آباد انڈیا کے دل میں ہے، اسے کسی صورت آزاد نہیں رہنے دیا جائے گا۔‘
جبکہ نہرو کشمیر پر کسی سودے بازی کے حق میں نہیں تھے۔ وہ خود کشمیری تھے اور اسے ذاتی اور انڈیا کے دور رس سٹریٹیجک مفادات کے تناظر میں دیکھ رہے تھے۔ اس لیے پٹیل اگرچہ ریاستی معاملات میں فیصلوں کے لیے مکمل خود مختار تھے تاہم کشمیر کے معاملے پر ایسا نہیں تھا۔ یہاں نہرو کی پالیسی چل رہی تھی۔
تاہم اگر پاکستان بھی اسی طرح کشمیر پر قبضہ کر لیتا جس طرح انڈیا نے جونا گڑھ اور حیدر آباد پر کیا تو صورت حال مختلف ہو سکتی تھی۔ دوسری جانب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ یہ بات سکندر مرزا اور چوہدری محمد علی بیان کرتے ہیں، لیکن انہوں نے اس پیشکش کو کابینہ اجلاس میں بیان نہیں کیا۔ اگر اس وقت کابینہ کے نوٹس میں کوئی ایسی بات لائی جاتی تو قائداعظم بھی اس پر ضرور کوئی گائیڈ لائن دیتے۔
کیا پاکستان کی ریاستوں کے ادغام کے بارے میں پالیسی میں تضادات تھے؟
تقسیم کے وقت ہندوستان میں 560 سے زیادہ ریاستیں اور راجواڑے موجود تھے۔ تقسیم ہند کے فارمولے میں آزاد ریاستوں کے بارے میں اس قدر ابہام پایا جاتا ہے کہ کئی ریاستیں آخر تک اپنے مستقبل کے بارے میں مخمصے کا شکار رہیں۔ ہندوستان کی ساحلی ریاست ٹراونکور نے بھی شروع میں ہندوستان میں شمولیت سے انکار کر دیا تھا اور خود کو آزاد ریاست کی حیثیت سے برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
جودھ پور کا راجہ سمجھتا تھا کہ ریاست کی سرحدیں پاکستان کے ساتھ ملتی ہیں، اس لیے پاکستان میں شمولیت اس کے مفاد میں ہو گی۔ بھوپال اور حیدر آباد کے نوابوں نے بھی لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے مطالبہ کیا تھا کہ ان کی ریاستوں کو نہ صرف آزاد رہنے دیا جائے بلکہ دولت مشترکہ میں بھی شامل کیا جائے۔
جب جونا گڑھ کے نواب نے الحاقِ پاکستان کی دستاویز پر دستخط کر دیے تو پاکستان نے اس دستاویز کو قانونی بنیاد بنا کر قبول کر لیا۔ دوسری جانب کشمیر کے راجہ نے جب انڈیا کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر مشروط دستخط کیے تو پاکستان نے اسے رد کر دیا۔
اس طرح سمجھا جاتا ہے کہ ریاستوں کے بارے میں پاکستان کی پالیسی میں تضادات واضح تھے جن کا نقصان اسے بعد میں برداشت کرنا پڑا۔ انڈیا میں ریاستوں کے ادغام کے بارے میں پٹیل اور وی پی مینن جتنے متحرک اور یکسو تھے پاکستانی قیادت اس قدر متحرک تھی، نہ ہی وہ سب ایک جسیی سوچ رکھتے تھے۔
اسے ابتدائی دنوں میں مہاجرین کی آبادکاری اور وسائل کی تقسیم کے معاملے میں جن چیلنجز کا سامنا تھا، وہ اتنے شدید تھے کہ پاکستانی قیادت شاید اپنے حقیقی اہداف کا درست تعین نہیں کر سکی۔
معروف تاریخ دان اور مصنف ڈاکٹر سید جعفر احمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پاکستان کی ہندوستانی ریاستوں کے ادغام کے بارے میں پالیسی کے تضادات دراصل تاج برطانیہ کی جانب سے تقسیم برصغیر کی پالیسی میں تضادات کا شاخسانہ تھے، جس کی وجہ سے پاکستانی قیادت تذبذب کا شکار رہی اور اس نے جو مؤقف جونا گڑھ کے بارے میں اختیار کیا وہ کشمیر سے مطابقت نہیں رکھتا تھا، جس کا فائدہ انڈیا نے اٹھایا۔
تاہم اس کا اصل ذمہ دار برطانیہ تھا جس نے ریاستوں اور راجواڑوں کے بارے میں کوئی واضح لائحۂ عمل نہیں دیا۔ نہ ہی یہ بتایا کہ پانی کی تقسیم کیسے ہو گی اور نہ ہی اس بات کا تعین کیا کہ وسائل میں سے کس کو کتنا حصہ ملے گا اور کیسے ملے گا۔ ایسے لگتا ہے کہ انہیں ہندوستان سے نکلنے کی اتنی جلدی تھی کہ وہ جو آگ لگا کر گئے وہ آج تک بجھ نہیں رہی۔