کہا جاتا ہے کہ جب تقسیم کے فوراً بعد جونا گڑھ، حیدر آباد اور کشمیر کے مسئلے ایک ساتھ پیدا ہوئے تو پاکستان کے پاس موقع تھا کہ وہ بہتر حکمت عملی سے کشمیر لے سکتا تھا لیکن پاکستان نے یہ سنہری موقع ضائع کر دیا۔
تقسیم کے بعد چکوال سے جانے کے باوجود من موہن سنگھ اپنے آبائی گاؤں کو نہ بھلا سکے اور اس کا اظہار انہوں نے مئی 2008 میں اپنے بچپن کے دوست راجا محمد علی سے ملاقات کے دوران بھی کیا۔