پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) اور افغانستان کی نجی ایئرلائن کام ایئر نے فضائی رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے انٹرلائن معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت افغانستان سے مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک جانے والے مسافروں کو اسلام آباد کے راستے سفر کی سہولت ملے گی۔
پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خان نے پیر کو بتایا: ’اس معاہدے کے تحت کابل سے آنے والے مسافروں کا چیک اِن سامان اسلام آباد ایئرپورٹ پر ان کی کنیکٹنگ پی آئی اے پرواز میں منتقل کیا جائے گا۔‘
اس انتظام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ خلیجی ممالک جانے والے افغان مسافر پاکستان میں امیگریشن کلیئرنس کے بغیر اسلام آباد ایئرپورٹ پر اپنی اگلی پرواز لے سکیں گے، تاہم اس کے لیے انہیں ایئرپورٹ کے ایئر سائیڈ ٹرانزٹ ایریا کے اندر ہی رہنا ہوگا۔
انٹرلائن معاہدے کے تحت مختلف ایئرلائنز ایک دوسرے کی پروازوں کے ساتھ مسافروں کے سفر کو مربوط کرتی ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ مسافر ایک ہی ریزرویشن کے تحت اپنے پورے سفر کی بکنگ کرا سکتے ہیں اور ہر پرواز کے لیے الگ الگ ٹکٹ خریدنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس معاہدے کے بعد کابل سے آنے والے مسافر اسلام آباد کو ایک کنیکٹنگ پوائنٹ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے پی آئی اے کی پروازوں کے ذریعے مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک تک سفر کر سکیں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب افغانستان کے مسافروں کے لیے بین الاقوامی فضائی رابطے اور آسان ٹرانزٹ روٹس ایک اہم ضرورت ہیں۔
پاکستان کے لیے بھی یہ معاہدہ اسلام آباد ایئرپورٹ کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان زمینی آمدورفت اور تجارتی سرگرمیاں طویل عرصے سے سکیورٹی اور سرحدی کشیدگی سے متاثر ہیں جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی گزرگاہوں کی بندش نے مسافروں اور تاجروں کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔
پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ سرحدی صورت حال اور افغانستان سے ہونے والی مبینہ عسکریت پسند سرگرمیاں ان اقدامات کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان زمینی آمدورفت اور تجارتی سرگرمیاں طویل عرصے سے سکیورٹی اور سرحدی کشیدگی سے متاثر ہیں جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی گزرگاہوں کی بندش نے مسافروں اور تاجروں کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔