اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیر کو پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے متعلق درخواست نمٹاتے ہوئے کہا ہے کہ صوبوں کے وزرائے اعلیٰ یقینی بنائیں کہ سرکاری مشینری سیاسی جماعت کے احتجاج میں استعمال نہ ہو۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پانچ اگست کو پشاور میں منعقدہ جلسے میں اعلان کیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اڈیالہ میں قید سربراہ عمران خان کی رہائی کے لیے 27 ستمبر کو اسلام آباد لانگ مارچ کیا جائے گا۔
پارٹی کے مطابق اس احتجاج کا مقصد بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی، جیل میں ان تک اہلِ خانہ اور وکلا کی رسائی اور ان کے مقدمات میں تیزی لانا ہے۔
اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیر کو ایبٹ آباد کے ایک تاجر کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کے بعد محفوظ فیصلہ سنایا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ احتجاج اور ممکنہ مارچ کے باعث ان کے کاروبار سمیت دیگر شہریوں کے کاروباری معاملات متاثر ہو رہے ہیں، لہٰذا احتجاج کو روکا جائے۔
اپنے مختصر عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’کسی سیاسی جماعت، پبلک آفس ہولڈر کے پاس اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنے کا اختیار نہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
عدالت نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’صوبوں کے وزرائے اعلیٰ یقینی بنائیں کہ سرکاری مشینری سیاسی جماعت کے احتجاج میں استعمال نہ ہو۔‘
تاہم عدالتی فیصلے میں پی ٹی آئی کو لانگ مارچ سے روکنے کے حوالے سے کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔
اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے 8 ستمبر کو پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے احتجاج اور لانگ مارچ کے معاملے کو ’آئینی بحران‘ قرار دیتے ہوئے لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان، چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز اور آئی جیز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں 10 ستمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا تھا۔