مجھے دھمکیاں ملیں، پیچھا کیا گیا: ڈاکٹر سمیہ کا میر رضا کمیشن کو بیان

ڈاکٹر سمیہ نے بتایا کہ عوامی سطح پر ان کے خلاف مہم بھی چلائی جا رہی ہے اور انہوں نے اس ضمن میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں شکایت درج کرائی ہے۔

خاتون پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید (ویڈیو گریب/ عرب نیوز)

کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کی پراسرار موت کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی کارروائی اتوار کو جاری رہی، جس میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید کو روسٹرم پر طلب کر کے ان کا بیان قلم بند کیا گیا۔

ڈاکٹر سمیہ نے کمیشن کو بتایا کہ نمونے بھیجنے میں تاخیر کے باعث نتائج ’فالس نیگیٹو‘ بھی آ سکتے ہیں۔

میر رضا کی موت کا معاملہ گذشتہ کئی ماہ سے زیرِ بحث ہے اور اس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی سربراہی جسٹس عمر سیال کر رہے ہیں۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر خاندان کے اعتراضات کے بعد عدالتی حکم پر قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کرایا گیا تھا۔

میڈیکل بورڈ کی تبدیلی

ڈاکٹر سمیہ نے کمیشن کو بتایا کہ انہوں نے دو اگست کو ایس ایس پی ایسٹ سے گفتگو میں اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد تین اگست کو قبر کشائی کی سفارش کرتے ہوئے خط لکھا اور پانچ اگست کو پولیس کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں بھی دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے کہا۔

کمیشن کے استفسار پر ڈاکٹر سمیہ نے بتایا کہ عدالت سیکریٹری صحت یا ڈی جی ہیلتھ سروسز کو ہدایت جاری کرتی ہے جبکہ عدالت براہ راست پولیس سرجن کو بھی ہدایت دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق میر رضا کی قبر کشائی کے عدالتی احکامات ملنے کے بعد انہوں نے سیکریٹری صحت اور دیگر متعلقہ حکام کو مطلع کیا تھا۔

ڈاکٹر سمیہ نے بتایا کہ سیکریٹری صحت نے اس کے بعد پرانے میڈیکل بورڈ کو بحال کر دیا۔ کمیشن کے یہ پوچھنے پر کہ بورڈ اچانک کیوں تبدیل ہوا، ڈاکٹر سمیہ نے کہا کہ ’مجھے وجوہات کا علم نہیں۔‘ انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی سیکریٹری صحت نے زبانی ہدایت دی تھی کہ وہ خود کو میڈیکل بورڈ سے علیحدہ کر لیں، جس پر انہوں نے واضح کیا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے آرڈر میں ان کا نام شامل ہے۔

ڈاکٹر سمیہ کے مطابق آٹھ اگست کو قبر کشائی کی کارروائی میں صرف پرانی ٹیم موجود تھی، کسی غیر متعلقہ فرد کو اجازت نہیں دی گئی اور میر رضا کی فیملی کو بھی موقع پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس بارے میں وضاحت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’فیملی کے لیے وہاں موجود رہنا بہت پریشان کن ہو سکتا تھا، ہم نہیں چاہتے کہ ان کے پیاروں کی یادیں ایسی ہوں۔‘

قبر کشائی کی تفصیلات

پولیس سرجن نے قبر کشائی کی کارروائی سے متعلق کمیشن کو پریزینٹیشن بھی دی۔ ان کے مطابق میر رضا کے سر پر چوٹ کا نشان اور ناک کی ہڈی ٹوٹی ہوئی پائی گئی جبکہ سر کے عقبی حصے پر کسی سخت چیز کے لگنے کا نشان بھی موجود تھا۔ ڈاکٹر سمیہ نے کمیشن کو بتایا کہ یہ چوٹ زندہ حالت میں لگی تھی اور چہرے کی ڈی کمپوزیشن جسم کے باقی حصوں جیسی نہیں تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پوسٹ مارٹم کارروائی میں صرف وہی معلومات شامل کی گئیں جن پر بورڈ کے تمام ارکان کی متفقہ رائے تھی۔

ڈاکٹر سمیہ کے مطابق میر رضا کو لگنے والی گولی سے پسلیاں فریکچر ہوئیں اور گولی نے پھیپھڑے اور دل کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سینے کے جس نشان کو گولی داخل ہونے کا مقام قرار دیا گیا تھا، وہ غلط تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر سمیہ نے مزید بتایا کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم میں ہاتھوں کی جلد خراب ہونے کو ڈی کمپوزیشن کا نتیجہ قرار دیا گیا تھا، تاہم ان کے مطابق میر رضا کے ہاتھوں اور پیروں پر دراصل کیمیکل سے جلنے کے نشانات تھے، جس کی تصدیق کے لیے چار ماہرینِ جلد سے مشاورت کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ہائیڈروکلورک ایسڈ پولیسٹر کو کاربن میں تبدیل کر دیتا ہے اور میر رضا کی شرٹ پر کاربنائزیشن کے آثار موجود تھے۔

خون کی مقدار سے متعلق سوال پر ڈاکٹر سمیہ نے بتایا کہ انسانی جسم میں عمومی طور پر پانچ سے چھ لیٹر خون ہوتا ہے، جبکہ کرائم سین پر خون کم مقدار میں ملا حالانکہ دل پر لگنے والے زخم کے پیشِ نظر خون کی مقدار زیادہ ہونی چاہیے تھی۔ ان کے مطابق میر رضا کی پشت پر ڈی کمپوزیشن کا کوئی نشان نہیں تھا۔

موت کے وقت پر بحث

کارروائی کے دوران کمیشن نے ریمارکس دیے کہ ’سمجھ نہیں آ رہا اتنے تنازعات کیوں ہیں جب سب کچھ واضح ہے۔‘ ڈاکٹر سمیہ نے جواب دیا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں پہلی بار کیمیکل ٹارچر کا کیس دیکھا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لوکل اینس تھیزیا سے احساس ختم ہو جاتا ہے اور اس کا اثر زائل ہونے میں دو سے نو گھنٹے لگتے ہیں جبکہ زیادہ مقدار میں نس کے ذریعے دیے جانے کی صورت میں یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر سمیہ کے مطابق کیس کے میڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر اسامہ نے اینس تھیزیا کی ہاف لائف کی مدت غلط بتائی تھی کیونکہ دوا کی ہاف لائف زندگی کے ساتھ ہی رک جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانزک رپورٹ میں دل میں اینس تھیزیا کی موجودگی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ گولی لگنے کے وقت میر رضا کے جسم میں یہ دوا موجود تھی۔

ڈاکٹر سمیہ نے بتایا کہ ڈاکٹر اسامہ نے حتمی رپورٹ میں موت کا وقت پوسٹ مارٹم سے 20 سے 22 گھنٹے قبل قرار دیا تھا۔ کمیشن کے اس سوال پر کہ کیا اینس تھیزیا سپرے کے ذریعے بھی دیا جا سکتا ہے، ڈاکٹر سمیہ نے کہا کہ اگر ایسا کیا جاتا تو ممکن ہے رپورٹ میں اس کا سراغ نہ ملتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فرانزک ٹیسٹ میں دوا کی مقدار کا تعین نہیں کیا جاتا۔

کمیشن نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ نسخے کے بغیر اینس تھیزیا کا حصول عمومی طور پر آسان نہیں ہونا چاہیے، جس پر ڈاکٹر سمیہ نے اتفاق کیا۔ انہوں نے کمیشن کو بتایا کہ میڈیکل بورڈ نے اپنی رپورٹ میں خودکشی کے امکان کو خارج از امکان قرار دیا تھا کیونکہ شواہد اس نکتے سے مطابقت نہیں رکھتے۔

دھمکیوں کا الزام

کارروائی کے دوران کمیشن نے ڈاکٹر سمیہ سے دریافت کیا کہ ان کا افسرِ بالا کون ہے، جس پر انہوں نے بتایا کہ سیکریٹری صحت ان کے باس ہیں۔ ڈاکٹر سمیہ نے کمیشن کو بتایا کہ ’اس کیس کے لیے میں نے اپنا کیریئر داؤ پر لگایا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ دو روز تک موٹر سائیکل پر ان کا پیچھا کیا گیا اور انہیں دھمکیاں بھی دی گئیں، جن میں کہا گیا کہ اگر رپورٹ میں خودکشی درج کر دی جائے تو ’ہلکا ہاتھ‘ رکھا جائے گا۔

ڈاکٹر سمیہ نے بتایا کہ عوامی سطح پر ان کے خلاف مہم بھی چلائی جا رہی ہے اور انہوں نے اس ضمن میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں شکایت درج کرائی ہے۔ ان کے مطابق یہ ان کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے اور ضرورت پڑنے پر مستقبل میں بھی وہ اسی طرح کارروائی کریں گی۔

جوڈیشل کمیشن کی کارروائی تاحال جاری ہے اور توقع ہے کہ آئندہ نشستوں میں میڈیکل بورڈ کے سربراہ اور دیگر متعلقہ حکام کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جائیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ