’اگر وہ انگریزی میں بات کرنے لگے تو میری نوکری کا کیا ہوگا؟‘ یہ جواب تھا شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی کے شامی مترجم کا، جب گذشتہ روز ہم ان کی چند صحافیوں سے گفتگو کے لیے اسلام آباد کے فائیو سٹار ہوٹل کے گلگت روم پہنچے۔
مہمان وزیر کی آمد سے قبل انتظار کے دوران میں نے ان کے مترجم سے استفسار کیا کہ الشیبانی تو دمشق یونیورسٹی سے انگریزی زبان و ادب میں ڈگری رکھتے ہیں تو خود کیوں نہیں بولتے؟ شامی مترجم کا وزیر موصوف کے انگریزی نہ بولنے کے دفاع میں کہنا تھا کہ وہ شاید زیادہ مدلل بات کرسکتے ہیں، اس لیے عربی کو ترجیح دے رہے ہیں۔
اسعد حسن الشیبانی شام کے موجودہ وزیر خارجہ اور تارکین وطن کے امور کے وزیر ہیں۔ وہ استنبول کی صباح الدین زعیم یونیورسٹی سے سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات میں بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ وہ دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد قائم ہونے والی نئی شامی انتظامیہ میں اس عہدے پر فائز ہوئے اور صدر احمد الشرع کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
شامی خانہ جنگی کے دوران وہ اپوزیشن اور بعد میں ایک سرگرم مسلح اور سیاسی گروہ ہیئت تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) سے منسلک رہے اور تنظیم کے خارجی روابط میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ ہیئت تحریر الشام 2017 میں کئی باغی تنظیموں کے اتحاد سے وجود میں آئی تھی۔ اس کی بنیاد کا مرکزی جزو جبہۃ النصرہ تھا، جو ماضی میں القاعدہ سے وابستہ رہی تھی۔ دراصل القاعدہ ہی ماضی میں افغانستان میں طالبان کی حکومت کے دوران موجود رہی تھی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جبہۃ النصرہ نے 2016 میں القاعدہ سے علیحدگی کا اعلان کیا، جس کے بعد مختلف گروہوں کے انضمام سے 2017 میں ہیئت تحریر الشام بنی۔ اس کی قیادت ابو محمد الجولانی کرتے تھے، جو اب اپنے اصل نام احمد الشرع سے جانے جاتے ہیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو سے قبل اس موقعے پر مدعو ایک صحافی نے بتایا کہ مہمانان القاعدہ یا ماضی میں عسکریت پسندی سے متعلق بات کرنا پسند نہیں کریں گے لہذا اس طرف نہ ہی جائیں تو بہتر ہے۔ تاہم ان ہی صحافی کی جانب سے مہمان وزیر سے افغانستان کی پشتو یا دری زبان جاننے کے بارے میں سوال اور بولنے کے استفسار نے سب کو حیران کر دیا۔ قوی امکان ہے کہ وہ الشیبانی کے افغانستان سے کسی تعلق کی تصدیق کرنا چاہتے تھے۔
یہ تنظیم عالمی ’جہادی‘ تحریک کا حصہ تھی۔ بعض شامی جہادی یا عسکریت پسند شخصیات اور گروہوں کے ارکان ماضی میں افغانستان میں لڑ چکے ہیں لیکن تمام شامی باغی یا ہیئت تحریر الشام کے تمام افراد کے بارے میں ایسا نہیں کہا جا سکتا۔
ہیئت تحریر الشام اور افغان طالبان کے درمیان ماضی میں کوئی باضابطہ تنظیمی تعلق یا اتحاد معروف نہیں رہا، لیکن ان کے درمیان بالواسطہ تاریخی اور نظریاتی روابط ضرور پائے جاتے ہیں۔
اسعد حسن الشیبانی کا پاکستان کا دورہ تقریباً 19 سال میں کسی شامی وزیر خارجہ کا پہلا سرکاری دورہ تھا۔ اس دوران انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں اور دوطرفہ تعاون، دفاع، تجارت اور علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔
ان کے دورے سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریباً دو سال تک شام میں تعمیر نو کے چیلنجز سے ابتدائی طور پر نمٹنے کے بعد اب وہاں کی حکومت بین الاقوامی تعلقات اور تجارت کی جانب دیکھ رہی ہے۔ مختصراً، اسعد حسن الشیبانی شام کی نئی قیادت کا اہم چہرہ ہیں اور ان کا بنیادی کام خانہ جنگی اور سیاسی تبدیلی کے بعد شام کو دوبارہ علاقائی اور عالمی سفارتی دھارے میں لانا ہے۔
شام یا دمشق کا ذکر کریں تو ایک پاکستانی کے ذہن میں کچھ زیادہ یاد کرنے کو نہیں ہوگا۔ پاکستان میں شام کا سفارت خانہ اگر بند نہیں تو کئی برسوں سے غیرفعال ہے تاہم سفارتی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور پاکستان نے شامی خانہ جنگی کے دوران بھی دمشق میں اپنا سفارت خانہ برقرار رکھا۔ دمشق حضرت زینبؓ، حضرت رقیہؓ اور دیگر تاریخی اسلامی مقامات کی وجہ سے پاکستانی زائرین کے لیے مذہبی اہمیت رکھتا ہے۔
1970 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو اور شامی صدر حافظ الاسد کے درمیان ذاتی اور سیاسی قربت نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے کافی قریب کر دیا تھا۔ ان تعلقات کی وجہ سے بے نظیر بھٹو اور خاندان کے بعض افراد وقتاً فوقتاً دمشق بھی جاتے رہے اور شام نے انہیں سیاسی اور سفارتی سطح پر خوش آمدید کہا۔
شامی سرکاری اور قریب سمجھے جانے والے ذرائع نے اسعد حسن الشیبانی کے دورۂ پاکستان کو ایک بڑی سفارتی کامیابی اور دوطرفہ تعلقات کی بحالی میں اہم سنگ میل کے طور پر پیش کیا ہے۔ مجموعی طور پر شامی میڈیا کا لہجہ مثبت رہا۔
اگرچہ شامی قیادت ترکی اور سعودی عرب کے کافی قریب سمجھی جاتی ہے لیکن شام کے حالیہ سہہ فریقی مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کی بات فی الحال قبل از وقت ہے۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی صنعا (SANA) نے بار بار اس بات کو نمایاں کیا کہ یہ 19 برس بعد کسی شامی وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا دورہ تھا۔ رپورٹوں میں اسے اس بات کی علامت قرار دیا گیا کہ دمشق نئی شامی حکومت کے تحت اپنی سفارتی رسائی کو مزید وسعت دے رہا ہے۔
صنعا کے مطابق، دورے کے اختتام پر الشیبانی نے کہا: پاکستان کا دورہ ’ایک تاریخی اور کامیاب دورہ‘ تھا اور اس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے اور تعاون کے نئے دروازے کھولنے میں اہم کردار ادا کیا۔