عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل نہ کرنے پر حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست

پی ٹی آئی نے توہین عدالت کی درخواست میں وزیراعظم، وزیر قانون اور وزیر اطلاعات کو بھی فریق بنایا۔

پاکستان تحریک انصاف کی حامی خواتین 10 فروری 2024 کو کراچی میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاج کے دوران جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی تصویر اٹھائے ہوئے ہیں (رضوان تبسم / اے ایف پی)

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سابق وزیراعظم اور اپنے بانی چیئرمین عمران خان کو عدالتی حکم کے باوجود علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل نہ کرنے پر ہفتے کو سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی ہے۔

سپریم کورٹ نے تین دن قبل حکم دیا تھا کہ جمعے سے قبل عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا جائے۔ اس حوالے سے پی ٹی آئی نے عندیہ دیا تھا کہ اگر عدالتی حکم پر عمل نہ ہوا تو سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔

حکام نے عمران خان کو جمعرات اور جمعے کی شب اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں طبی طور پر صحت مند قرار دیا ہے، جس کے بعد سابق وزیراعظم کو جمعے کی صبح 5 بجے واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

عدالتی حکم پر عملدرآمد ہونے پر پی ٹی آئی نے ہفتے کو عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

توہین عدالت کی یہ درخواست وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے خلاف دائر کی گئی ہے جبکہ چیف کمشنر اسلام آباد، جیل سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ کو اس درخواست کا فریق بنایا گیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور عزیر بھنڈاری کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں ’18 اگست کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع‘ کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

اس درخواست میں توہین عدالت کے مرتکب ہونے والوں کو شوکاز نوٹس جاری کرنے اور ذاتی حاضری کا حکم دینے کی استدعا کی گئی ہے جبکہ عدالت سے جواب دہندگان کو توہینِ عدالت کا مرتکب قرار دے کر قانون کے مطابق سزا دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست میں عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے اور اس آرڈر پر عملدرآمد کرانے کے لیے ایک لوکل کمیشن تشکیل دیے جانے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ہسپتال منتقلی کے حکم کو قانونی دائرہ کار سے باہر بتایا جبکہ انہوں نے نظرثانی درخواست دائر کرنے کا بھی کہا۔

مزید کہا گیا کہ ’ڈاکٹر عظمی خان اور ڈاکٹر فیصل سلطان کو اڈیالہ میں گھنٹوں انتظار کروایا گیا اور انہیں عمران خان کے علاج کے حوالے سے لاعلم رکھا گیا۔‘

درخواست کے متن کے مطابق عمران خان کو شفا ہسپتال کے بجائے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ پمز میں بھی میڈیکل بورڈ کی تشکیل کے بجائے آنکھوں کا علاج کیا گیا۔

اس ضمن میں گذشتہ روز عمران خان کی بہن عظمیٰ خان، جن کا نام عدالت کی جانب سے تجویز کردہ میڈیکل بورڈ میں شامل کیا گیا تھا، نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ انہیں اندھیرے میں پمز ہسپتال لے جایا گیا جبکہ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق وزیراعظم کو جیل میں ٹارچر کیا جا رہا ہے، جس کی حکومت تردید کرتے ہوئے ان الزامات کو ’بے بنیاد‘ قرار دے چکی ہے۔

حکومت کا اصرار ہے کہ عمران خان کو سرکاری ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ سکیورٹی خدشات کے باعث کیا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے جمعے کو ایکس پر کہا تھا کہ ’(عمران خان کا) طبی معائنہ پمز ہسپتال میں کیا گیا، جہاں الشفا ہسپتال کے ڈاکٹر بھی موجود تھے۔ الشفا ہسپتال جاتے ہوئے اور اس کے باہر پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے پیدا کی گئی سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر انہیں پمز ہسپتال لے جایا گیا، جہاں طبی معائنے کے مطابق انہیں صحت مند قرار دیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان