مستونگ: دھماکے اور فائرنگ کے دو واقعات میں چھ اموات، تین زخمی

پولیس کے مطابق کھڈ کوچہ میں ایک باغ میں دھماکے کے نتیجے میں چار مزدور جان سے گئے اور تین زخمی ہوئے جبکہ دوسرے واقعے میں سڑک کنارے سے دو افراد کی لاشیں ملیں، جنہیں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

پاکستانی سکیورٹی اہلکار 12 مئی 2017 کو ضلع مستونگ میں ایک خودکش دھماکے کے مقام کا جائزہ لے رہے ہیں (فائل فوٹو/اے ایف پی)

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں پولیس کے مطابق کھڈ کوچہ کے علاقے میں دھماکے اور فائرنگ کے دو مختلف واقعات میں چھ افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ تین افراد زخمی ہو گئے۔

ایس ایچ او کھڈ کوچہ بابو اویس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’جمعے کو کھڈ کوچہ میں ایک باغ میں دھماکے کی اطلاع ملی،  جائے وقوع پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ دھماکے میں جان سے جانے والے چار مزدوروں کی لاشیں موقع پر موجود تھیں اور تین افراد شدید زخمی تھے، جنہیں فوری طور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔‘

بابو اویس کے مطابق: ’فوری طور یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دھماکہ کس نوعیت کا تھا۔ اس سلسلے بم ڈسپوزل سکواڈ کی تحقیقات جاری ہیں۔‘

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ایک عہدیدار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ چار افراد کی لاشیں اور تین زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جن کی حالت تشویش ناک ہے۔

جان سے جانے والوں کی شناخت گل خان مغیری، عمران بروہی، عبیداللہ بروہی اور جہانزیب ابڑو کے نام سے ہوئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جبکہ ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں علی رضا مینگل، نصیب اللہ ابڑو اور خالد حسین شامل ہیں، جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ایس ایچ او بابو اویس  کے مطابق ایک اور واقعے میں  کھڈکوچہ کے علاقہ گرو کے مقام پر سڑک کنارے سے دو نامعلوم افراد کی لاشیں ملیں، جنہیں گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔

پولیس کے مطابق لاشیں تحویل میں لے کر نواب غوث بخش ہسپتال میموریل ہسپتال منتقل کر دی گئیں۔ دونوں افراد کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔

ایس ایچ او بابو اویس نے بتایا کہ دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں۔

حالیہ دنوں میں بلوچستان میں عسکریت پسندی کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں، جن کے دوران عام شہریوں کے علاوہ سکیورٹی اہلکاروں کی بھی اموات ہوئی ہیں۔

ضلع مستونگ خاص طور پر ان واقعات کا نشانہ بنا، جہاں گذشتہ ماہ حکومت عسکریت پسندوں نے بینکوں، تحصیل آفس اور دفاتر پر حملہ کیا جبکہ رواں ماہ 14 اگست کو بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا لانگو کے قافلے کو مستونگ میں مسلح افراد نے سنائپر سے نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی، تاہم وہ محفوظ رہے جبکہ ان کی گاڑی کو چھ گولیاں لگیں اور سکیورٹی کے پانچ اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان