پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حکومت نے کہا ہے کہ جمعرات کو ضلع مستونگ میں مسلح افراد کے حملے میں ایڈیشنل سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن میں جان سے گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری زخمی ہوئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ پر حملہ ریاست پر حملہ ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’دہشت گردوں کو ہر قیمت پر انجام تک پہنچائیں گے۔ قانون کے محافظوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔‘
اس علاقے میں گذشتہ 36 گھنٹوں کے دوران مسلح افراد کے حملوں میں دو خواتین سمیت چھ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیھٹے ہیں۔ سیکورٹی فورسز کی آپریشن میں 10 عسکریت پسند مارے گئے جب کہ دو خودکش حملہ آور خواتین کو گرفتار کر لیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ پر حملے کی شدید مذمت۔
— Govt. of Balochistan (@dpr_gob) July 23, 2026
سیشن جج پر حملہ ریاست پر حملہ ہے، دہشتگردوں اور انکے سہولت کاروں کی ہرقیمت پر انجام تک پہنچایا جائے گا، وزیراعلیٰ میرسرفرازبگٹی۔ pic.twitter.com/2LcCugtngl
مستونگ کی سب تحصیل کھڈکوچہ میں تاحکم ثانی کرفیو نافذ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت نے امن وامان کے قیام اور مسلح افراد کے خلاف آپریشن کی پیش نظر مستونگ کی سب تحصیل کھڈکوچہ میں تاحکم ثانی کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
صوبے میں بدامنی کے خاتمے اور عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے لیے پہلی بار کسی علاقے کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔
کھڈکوچہ ضلع کوئٹہ سے ملحقہ ضلع مستونگ کی ایک سب تحصیل ہے جو شہر سے تقریبا جنوب مغرب میں 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون بابر یوسفزئی کی جانب سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق کرفیو کے دوران شہریوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ کرفیو کا اطلاق بدھ کی رات نو بجے سے کردیا گیا ہے جواگلے احکامات تک جاری رہے گا۔
بابر یوسفزئی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر انتظامیہ کے احکامات پر مکمل عمل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی شہری غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور انتظامیہ سے تعاون کریں۔‘
دوسری جانب آئی ایس پی آر کےمطابق عوام کی جان ومال کی حفاظت کی خاطر شرپسند عناصر کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مشترکہ آپریشنز کیے جا رہے ہیں۔
گذشتہ 48 گھنٹے کے دوران ضلع سوراب اورمستونگ میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر آپریشن کیے گئے۔ علاقے کوعسکریت پسندوں سے پاک کرنے کے لیے کارروائی کی گئی۔
ضلع سوراب میں سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔
بدھ کو کھڈکوچہ کے علاقے انجیری میں نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر واقع پل پر دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جس کے پھٹنے سے پل کو نقصان پہنچا اور اس اہم شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہوگئی۔
اسی علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے دو مختلف مقامات پر مسافر کوچوں پر فائرنگ کی۔ فائرنگ سے کوئٹہ سے کراچی جانے والی ایک بس میں سفر کرنے والے تین افراد جان سے گئے اور تین زخمی ہوئے۔ بدھ کی صبح سوراب کے مقام پر تربت جانے والی کو پر فائرنگ سے ایک مسافر کی جان گئی۔
کوئٹہ کراچی شاہراہ پر دو روزقبل مسلح افراد نے ایک گاڑی پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں دو خواتین جان سے گئی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بدھ کو کھڈ کوچہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں مسلح افراد نے متعدد گاڑیوں اور این 40 شاہراہ پر فیول ٹینکر کو نذر آتش کر دیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ عسکریت کے ٹھکانوں کی تباہی اور خودکش حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث عناصر کی گرفتاری قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی کامیابی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔ ریاست دشمن عناصر کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں منطقی انجام تک جاری رہیں گی۔‘
حکومت بلوچستان عسکریت پسندی کے مکمل خاتمے تک سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔