وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے جمعے کو بتایا ہے کہ سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کو اسلام آباد کے ہسپتال سے صبح 5 بجے واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
انہیں جمعے کی شب اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال طبی معائنے کے لیے منتقل کیا گیا تھا۔ اس دوران پولیس کی بھاری نفری موجود رہی۔ وفاقی وزیر کے ایکس پر بیان تک خود پارٹی کے رہنما اور ترجمان بھی عمران خان کی موجودگی کے بارے میں لاعلم تھے۔
انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار قرۃ العین شیرازی کے مطابق رات گئے شفا ہسپتال کے اطراف میں تعینات کی گئی سکیورٹی ہٹا دی گئی ہے۔ نصب کی گئی رکاوٹیں اور خاردار تاریں بھی اب موجود نہیں ہیں۔ ہسپتال کی سکیورٹی صورت حال بظاہر معمول پر آ گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے دون دن قبل حکم دیا تھا کہ جمعے کی رات 12 بجے سے قبل عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا جائے جبکہ پی ٹی آئی نے عندیہ دیا تھا کہ اگر عدالتی حکم پر عمل نہ ہوا تو جمعے کو سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں، قیدی کو 20 اور 21 اگست 2026 کی درمیانی شب مناسب حفاظتی انتظامات کے تحت ہسپتال لے جایا گیا۔ ماہرِ امراضِ چشم، ماہرِ امراضِ قلب اور فزیشن سمیت مستند ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا اور انہیں طبی طور پر صحت مند قرار دیا۔ ان کی ہمشیرہ…
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) August 21, 2026
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ایکس پر لکھا: ’سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قیدی کو 20 اور 21 اگست 2026 کی درمیانی شب مناسب سکیورٹی انتظامات کے تحت ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے، جس میں ماہر امراض چشم، ماہر امراض قلب اور معالج شامل تھے، ان کا تفصیلی معائنہ کیا اور انہیں طبی طور پر صحت مند قرار دیا۔‘
عطا تارڑ نے مزید لکھا: ’ان کی بہن مسز عظمٰی خان طبی معائنے اور علاج کے تمام مراحل کے دوران موجود رہیں۔ اس پورے عمل کی تکمیل کے بعد انہیں 21 اگست 2026 کی صبح تقریباً 5 بجے دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔‘
73 سالہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو گذشتہ سال کے آخر میں بدعنوانی اور دیگر جرائم کے الزامات میں 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ 2023 سے جیل میں قید عمران خان کا اصرار ہے کہ ان کے خلاف مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔
رواں برس انہیں دائیں آنکھ میں ریٹینا سے متعلق ایک بیماری تشخیص ہوئی تھی، جس کے بارے میں ان کے وکلا نے خبردار کیا تھا کہ اس سے بینائی مستقل طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اڈیالہ جیل کے حکام کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی ان کی گذشتہ دنوں طبی رپورٹ کے مطابق عمران خان میں بلڈ پریشر اور بے چینی کی ’شدید‘ علامات پائی گئیں۔ تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے عمران خان کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس پر اڈیالہ جیل حکام کی جانب سے رپورٹ جمع کروائی گئی ہے۔
ان کی جماعت پی ٹی آئی مسلسل مطالبہ کرتی رہی ہے کہ ان کا علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ان کے منتخب کردہ ڈاکٹروں سے کروایا جائے۔
نجی ہسپتال کے قریب عمران خان کے درجنوں حامی کل رات جمع ہوئے جبکہ بعض نے وہاں سے گزرنے والی گاڑیوں پر سرخ پھولوں کی پتیاں بھی نچھاور کیں۔
69 سالہ یونس قریشی نے خبر رساں ادارے ایے ایف پی کو بتایا کہ وہ ’اس شخص سے اظہارِ یکجہتی کے لیے آئے ہیں جس نے پاکستان کے لیے بہت سی قربانیاں دی ہیں۔‘
ایک اور حامی، 52 سالہ بلال نے امید ظاہر کی کہ سابق ورلڈ کپ فاتح کرکٹ کپتان عمران خان کو مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا: ’ہماری محبت اور وابستگی ہمیشہ خان صاحب کے ساتھ رہے گی۔‘
ادھر جمعرات کو حکومت نے عندیہ دیا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو عمران خان کو علاج کے لیے بیرونِ ملک بھیجا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے سپریم کورٹ سے رجوع صرف یہ وضاحت حاصل کرنے کے لیے کیا ہے کہ حالیہ عدالتی حکم میں دیا گیا ریلیف صرف ایک فرد تک محدود ہے یا دیگر قیدیوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
یہ بیان پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سینیٹ کے ایک اجلاس کے دوران دیا۔
اس موقع پر قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور زیر حراست پی ٹی آئی رہنماؤں، جن میں ڈاکٹر یاسمین راشد اور اعجاز چوہدری شامل ہیں، کو صحت کی ناکافی سہولیات فراہم کیے جانے کا معاملہ اٹھایا اور تمام سیاسی قیدیوں کے لیے ریلیف کا مطالبہ کیا۔
عمران خان کے وکلا نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اپنایا تھا کہ ان کی صحت ٹھیک نہیں اور انہیں طبی معائنے کی ضرورت ہے۔ عدالت نے منگل کو اپنے حکم میں کہا کہ عمران خان کو دو دن کے اندر ہسپتال منتقل کیا جائے۔
اس سال کے اوائل میں بھی عمران خان نے ایک ہسپتال میں آنکھوں کا علاج کروایا تھا۔ اس وقت ان کے اہلِ خانہ نے کہا تھا کہ ان کی دائیں آنکھ کی زیادہ تر بینائی متاثر ہو چکی ہے۔
تین رکنی بینچ نے اپنے حکم میں مزید کہا کہ عمران خان کو ہفتے میں ایک مرتبہ اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات اور ہفتے میں دو مرتبہ اپنے بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرنے کی اجازت ہوگی۔
عدالت نے مزید کہا کہ ان کے علاج کے لیے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ایک پینل تشکیل دیا جائے گا، جس میں ان کی بہن اور ڈاکٹر، عظمیٰ خان کو بھی شامل ہونے کی اجازت ہوگی۔
عمران خان 2018 سے 2022 تک پاکستان کے وزیر اعظم رہے۔ انہیں 2022 میں ایک سیاسی بحران کے دوران تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔ یہ بحران ان کی حکومت اور طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں پیدا ہوا تھا۔
