عمران خان سخت سکیورٹی میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل

پی ٹی آئی کے بین الاقوامی میڈیا ڈیپارٹمنٹ نے بھی تصدیق کی کہ عمران خان کو سپریم کورٹ کے حکم کے بعد اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے حکم پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کو جمعرات کی رات علاج کے لیے اسلام آباد کے نجی ہسپتال شفا میں منتقل کر دیا گیا۔

عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے دوران پولیس کی بھاری نفری موجود رہی، ذرائع کے مطابق تقریباً سینکڑوں اہلکار سکیورٹی پر موجود تھے۔

پاکستان تحریک انصاف کے بین الاقوامی میڈیا ڈیپارٹمنٹ نے بھی تصدیق کی کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو سپریم کورٹ کے حکم کے بعد اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے دون دن قبل حکم دیا تھا کہ آج رات 12 بجے سے قبل عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا جائے۔

پی ٹی آئی نے عندیہ دیا تھا کہ اگر عدالتی حکم پر عمل نہ ہوا تو جمعے کو سپریم کورٹ سے دوبارہ رجوع کیا جائے گا۔

شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے باہر سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے اور غیر متعلقہ افراد کو ہسپتال سے دور ہٹا دیا گیا۔ میڈیا کی بڑی تعداد ہسپتال کے باہر موجود رہی۔

اسلام آباد پولیس نے ہسپتال جانے والے متعدد راستے ٹریفک کے لیے بند رکھے۔

پی ٹی آئی رہنما ذوالفقار بخاری نے خبردار کیا تھا کہ اگر عمران خان کو آج (جمعرات) رات 11 بج کر 59 منٹ تک شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد منتقل نہ کیا گیا کل ان کی جماعت سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔

ان نے مزید لکھا ’اگر عمران خان کو آج رات 11 بج کر 59 منٹ تک ہسپتال منتقل نہ کیا گیا تو عدالت خود توہین عدالت کی کارروائی شروع کر سکتی ہے اور ایسا کرنا بالکل درست ہوگا۔

تاہم، اگر سپریم کورٹ ایسا نہیں کرتی تو پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم نے ایک درخواست تیار کرلی ہے، جو کل صبح دائر کی جائے گی۔‘

حکومتی درخواست اعتراضات کے ساتھ واپس

سپریم کورٹ نے آج حکومت پاکستان کی طرف سے عمران خان کو علاج کے لیے اڈیالہ جیل سے شفا ہسپتال منتقل کرنے کے حکم پر دائر نظر ثانی درخواست اعتراضات لگا کر واپس کر دی۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

حکومت کی طرف سے بدھ کو نظر ثانی کی درخواست دائر کی گئی تھی، جس پر رجسٹرار آفس کی جانب سے اعتراض عائد کیے گئے۔

نظرثانی درخواست کے ساتھ پیپر بُکس مکمل نہ ہونے کا اعتراض عائد کیا گیا۔

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کے مطابق یہ درخواست دوبارہ دائر کی جائے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سپریم کورٹ نے منگل کو حکم دیا تھا کہ سابق وزیراعظم کو علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔

یہ فیصلہ ان کے اہلِ خانہ اور حامیوں کے طویل عرصے سے جاری مطالبے کے بعد آیا، جو ان کی بینائی اور مجموعی صحت کے بارے میں مسلسل خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

نظر ثانی کی درخواست چیف کمشنر اسلام آباد نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے توسط سے دائر کی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ نے 18 اگست کو عبوری حکم جاری کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی۔

’یہ حکم عدالت کے اختیارِ سماعت سے تجاوز کرتا ہے، لہٰذا اس پر نظرثانی کی جائے۔‘

73 سالہ عمران خان اگست 2023 سے قید میں ہیں۔ رواں برس انہیں دائیں آنکھ میں ریٹینا سے متعلق ایک بیماری تشخیص ہوئی تھی، جس کے بارے میں ان کے وکلا نے خبردار کیا تھا کہ اس سے بینائی مستقل طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔

ان کی جماعت پی ٹی آئی مسلسل مطالبہ کرتی رہی ہے کہ ان کا علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ان کے منتخب کردہ ڈاکٹروں سے کروایا جائے۔

پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بدھ کو عرب نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس اعتماد کا اظہار کیا تھا کہ حکومت عدالت کے حکم پر عمل کرے گی۔

انہوں نے کہا ’آپ دیکھیں، حکومت کی جانب سے نظرثانی کی درخواست دائر کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کوئی بھی شخص کچھ بھی دائر کر سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کا عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا حکم اپنی جگہ برقرار ہے۔‘

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حکومت کو اس حکم پر عمل درآمد کرنا ہوگا اور ان کے بقول اگر ایسا نہ کیا گیا تو ’ یہ توہینِ عدالت کے زمرے میں آئے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان