عمران خان کو اہل خانہ سے ملنے دیا جائے تاکہ بلڈ پریشر، بےچینی قابو میں رہے: سرکاری ڈاکٹرز

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پیر کو سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، صوبائی صدر جنید اکبر خان اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق تازہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد پارٹی کی تشویش بڑھی ہے۔

سہیل آفریدی 17 اگست 2026 کو پریس کانفرنس کے درمیان گفتگو کر رہے ہیں (پی ٹی آئی، میڈیا سیل)

پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی عمران خان کی طبی رپورٹ پر پیر کو سوالات اٹھاتے ہوئے خاندان اور وکلا کو ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ میں سرکاری میڈیکل بورڈ نے ان کے قریبی اہل خانہ یا شریک حیات سے موجودہ اجازت سے زیادہ بار ملاقات کی سفارش بھی کی اور قرار دیا کہ اس سے ان کی بے چینی اور بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اڈیالہ جیل کے حکام کی جانب سے عدالت میں جمع کروائی گئی طبی رپورٹ کے مطابق عمران خان میں بے چینی کی ’شدید‘ علامات پائی گئی ہیں۔ تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے عمران خان کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس پر اڈیالہ جیل حکام کی جانب سے رپورٹ جمع کروائی گئی ہے۔ 

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی اس طبی رپورٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان کا معائنہ ذاتی معالجین کی نگرانی میں کرایا جائے اور خاندان کے افراد و وکلا کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔

جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں ایک تین رکنی بینچ منگل کو اس مقدمے کی سماعت کرے گا۔ عمران خان گذشتہ تین سالوں سے قید ہیں اور بدعنوانی کے الزامات میں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

میڈیکل رپورٹ کے مطابق عمران خان کا بلڈ پریشر 140/80 ملی میٹر مرکری اور نبض 54 فی منٹ تھی۔ رپورٹ میں سینے کا معائنہ اور ای سی جی معمول کے مطابق قرار دیے گئے جبکہ دل کے خانوں اور والوز کی ساخت بھی نارمل بتائی گئی۔ رپورٹ میں ان کی تشویش یا اینزائٹی (بے چینی) کا لیول تھری پلس بیان کیا گیا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق یہ عمران خان کے غصے کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے۔

رپورٹ میں عمران خان کی جانب سے سر میں بھاری پن اور دل کی دھڑکن محسوس ہونے کی شکایت کا ذکر کیا گیا، تاہم سینے میں درد یا بھاری پن اور سانس پھولنے کی شکایت نہیں تھی۔ طبی بورڈ نے ان میں بے چینی کی کیفیت بھی نوٹ کی۔

میڈیکل بورڈ نے عمران خان کو روزانہ ایک گھنٹہ چہل قدمی، آرام، اخبارات، میگزین، ٹی وی اور مطالعے کی کتابیں فراہم کرنے کی سفارش کی ہے۔

سابق صدر عارف علوی نے بھی ایکس پر ایک پوسٹ میں اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ 

رپورٹ میں مزید قلبی تحقیقات، بشمول سی ٹی اینجیو، کی ضرورت بھی ظاہر نہیں کی گئی جبکہ معمول کے خون کے بعض ٹیسٹ کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان کی ایک آنکھ تقریباً نارمل ہو چکی ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پیر کو سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر خان اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹ سامنے آنے کے بعد پارٹی قیادت اور کارکنوں میں تشویش بڑھی ہے۔

پی ٹی آئی کے رہنما جنید اکبر خان نے کہا کہ پارٹی قیادت عمران خان کی طبی رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے اور خاندان سے مشاورت کے بعد اس معاملے پر باضابطہ موقف سامنے لایا جائے گا۔

ان کے مطابق عمران خان سے خاندان اور پارٹی رہنماؤں کی ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے ان کی صحت سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کے ذاتی معالجین کی جانب سے ماضی میں کیے گئے معائنے کے دوران ان کا بلڈ پریشر معمول کے مطابق رہا، تاہم حالیہ سرکاری طبی رپورٹ میں بلڈ پریشر 140/80 درج ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی عمران خان کے ذاتی ڈاکٹروں سے بھی ان کا طبی معائنہ کرانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ریلیف نہیں مانگ رہے، ہم انصاف مانگ رہے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پی ٹی آئی خاندان اور وکلا سے ملاقات چاہتی ہے

سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے بارے میں براہ راست معلومات حاصل کرنے کے لیے ان کے خاندان اور وکلا کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ منگل عمران خان سے ملاقات کا مقررہ دن ہے اور حکام کو ان کے خاندان کی ملاقات یقینی بنانی چاہیے۔

وزیراعلیٰ نے عدلیہ سے بھی معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو اپنے ذاتی معالجین سے طبی معائنہ کرانے کا موقع ملنا چاہیے۔

انہوں نے حکومت اور متعلقہ حکام کو خبردار کیا کہ عمران خان کی صحت کو کوئی نقصان پہنچنے کی صورت میں انہیں ذمہ دار سمجھا جائے گا۔

سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کے آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں بتایا کہ پارٹی قیادت ذاتی معالجین، خاندان اور وکلا سے مشاورت کے بعد مزید اقدامات کا فیصلہ کرے گی۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’اگر عمران خان کی صحت کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری حکومت اور متعلقہ حکام پر ہو گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان