وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بدھ کو پشاور میں منعقدہ جلسے میں اعلان کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اڈیالہ میں قید سربراہ عمران خان کی رہائی کے لیے 27 ستمبر کو اسلام آباد لانگ مارچ کیا جائے گا۔
جلسے میں تقریر کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا ’ہمارے مطالبات یہی ہیں کہ عدالتیں انصاف دے کر عمران خان کو رہا کریں اور آپ کو انصاف دینا ہی پڑے گا۔‘
انہوں نے جلسے کے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’اگر انصاف نہیں دیا گیا تو 27 ستمبر کی تاریخ یاد رکھنا۔‘
دوسرا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں پر پابندی ہٹائی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمارے سارے مطالبات جائز ہے ہیں اور ہم نے قانونی جنگ بہت لڑی ہے۔‘
عمران خان اگست 2023 سے ایک کرپشن کیس میں سزا کے بعد جیل میں قید ہیں۔
ان کے خلاف متعدد دیگر مقدمات بھی درج کیے گئے اور سزائیں سنائی گئیں، جن میں کرپشن، ریاستی راز افشا کرنے اور نکاح کے قوانین کی خلاف ورزی جیسے الزامات شامل ہیں۔
تاہم عمران خان اور ان کی جماعت ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات قرار دیتے ہیں جن کا مقصد انہیں سیاست سے باہر رکھنا ہے۔
پاکستان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور مؤقف اختیار کرتی ہے کہ قانونی کارروائیاں آزادانہ طور پر کی گئیں۔
آج کا جلسہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد سے پی ٹی آئی کی جانب سے کیے جانے والے مظاہروں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہیں۔
پارٹی اپنے قائد کی رہائی اور نئے انتخابات کے مطالبے کے لیے بارہا اپنے حامیوں کو متحرک کرتی رہی ہے، تاہم ان میں سے کئی جلسوں اور مظاہروں کو حکام کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا اور بعض مواقع پر یہ پرتشدد بھی ہو گئے۔
سب سے سنگین بدامنی عمران خان کی پہلی گرفتاری کے بعد مئی 2023 میں سامنے آئی، جب ان کے حامیوں نے کئی شہروں میں فوجی تنصیبات اور دیگر سرکاری عمارتوں پر حملے کیے۔
اس کے ردعمل میں حکام نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ہزاروں پی ٹی آئی کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کیا جبکہ بعد ازاں تشدد میں ملوث بعض کارکنوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے کی اجازت بھی دی گئی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سہیل آفریدی نے آج کے جلسے میں کہا خیبر پختونخوا لہولہان ہے اور بنوں، لکی مروت اور سوات جل رہا ہے لیکن پالیسی سازوں کو کوئی فکر نہیں۔
انہوں نے کہا اگر نظام مفلوج ہوچکا ہے تو کوئی متبادل ہونا چاہیے اور عمران خان کو رہا کرنا چاہیے جو اس ملک و قوم کے لیے لڑ رہے تھے اور ابھی بھی لڑ رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ صرف خیبر پختونخوا ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان میں کارکن سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور پی ٹی آئی اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان گذشتہ تین برس سے قید میں ہیں اور’ اگر وہ چاہیں تو ایک دستخط سے رہائی حاصل کر سکتے ہیں، تاہم وہ یہ قید قوم اور آنے والی نسلوں کے لیے برداشت کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتوں سے امیدیں ختم ہو چکی ہیں اور ادارے مفلوج ہو چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو ایک سازش کے تحت اقتدار سے ہٹایا گیا جبکہ ملک میں امن و امان کی صورت حال بھی متاثر ہوئی ہے، خاص طور پر خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا نوجوان ملک چھوڑ رہے ہیں جبکہ حکمران طبقہ عوامی مسائل سے لاتعلق ہے۔
انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ وہ کسی بھی قسم کے تشدد سے گریز کریں اور کسی سیاسی مخالف کے خلاف کارروائی نہ کریں۔
انہوں نے واضح کیا ’اگر کسی اور کی طرف سے آپ کو مخالف جماعتوں کے کارکنوں کے خلاف کارروائی کا کہا جائے تو اس پر عمل نہ کریں، یہ پارٹی پالیسی نہیں۔‘
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ پارٹی نے ہمیشہ آئینی اور قانونی راستہ اختیار کیا ہے، تاہم اب عوامی تحریک کے ذریعے اپنے مطالبات منوائے جائیں گے۔
’میں آپ کی قیادت کروں گا، آپ نے خوف زدہ نہیں ہونا۔‘
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر نے کہا کہ پارٹی نے ہمیشہ تصادم سے بچنے اور درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کی، لیکن ریاستی اداروں نے اسے کمزوری سمجھا۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ملک بھر میں احتجاج جاری ہے اور پشاور کا یہ جلسہ پارٹی کے حالیہ جلسوں میں سے ایک اہم اجتماع ہے۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ یہ بڑے جلسوں کا آخری مرحلہ ہو سکتا ہے، جس کے بعد پارٹی باقاعدہ لائحہ عمل دے گی اور تحریک کو اگلے مرحلے میں داخل کیا جائے گا۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے کہا کہ تحریک کا مقصد عمران خان کی رہائی ہے اور اسی ہدف کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی۔