سابق وزیر اعظم عمران خان تک ان کے ذاتی معالج کی رسائی نہ دیے جانے پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی جمعے کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کے ہمراہ اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کر رہے ہیں۔
سہیل آفریدی نے احتجاج کے دوران انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ اگر عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دی گئی تو پارٹی کے پاس واحد راستہ احتجاج ہو گا۔
انہوں نے کہا اگر کم از کم ذاتی معالج کی عمران خان سے ملاقات ہو جاتی ہے تو معاملہ حل ہو جائے گا، لیکن اگر اجازت نہ ملی تو سیاسی کمیٹی کا اجلاس پہلے ہی بلا لیا گیا ہے۔
’مشاورت کے بعد اگلا قدم اٹھایا جائے گا اور ہمارے پاس واحد راستہ احتجاج کا ہو گا۔‘
یہ احتجاج ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے جمعرات کو تصدیق کی تھی کہ راول پنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کو آنکھوں کے علاج کے لیے 24 جنوری کو اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لایا گیا، جہاں اُن کا تقریباً ’20 منٹ‘ تک علاج کیا گیا، جس کے بعد ان کی صحت بہتر ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مطابق عمران خان کی آنکھ کا آپریشن ان کے اہل خانہ کی اجازت اور ذاتی ڈاکٹروں کو اعتماد میں لیے بغیر کیا گیا۔
’ہم چاہتے ہیں ان کے ذاتی ڈاکٹر ان سے ملاقات کریں، معائنہ کریں اور قوم کو ان کی صحت خصوصاً آنکھ کی موجودہ صورت حال سے آگاہ کریں، یہی مطالبہ چیف جسٹس کو پیش کیا گیا۔‘
احتجاج کے حوالے سے اگلے لائحہ عمل پر سہیل آفریدی نے کہا کہ ’ابھی تک ہمیں اس پر ہاں یا نہ میں کوئی جواب نہیں ملا، جواب آنے کے بعد ہی آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔‘
اس معاملے پر عدالت سے رجوع سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ’باقاعدہ کیس دائر نہیں کیا البتہ یادداشت جمع کروائی ہے تاکہ اس پر غور کیا جا سکے۔
’یہ کوئی سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ عمران خان صاحب کی زندگی کا معاملہ ہے۔ اگر ان کی صحت مزید خراب ہوتی ہے اور حالات سنگین ہوتے ہیں تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس سے قبل سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل کے باہر رات گئے سابق وزیر اعظم کے ذاتی معالج کی موجودگی میں احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا تھا۔
آج پی ٹی آئی کے وکلا و سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور لطیف کھوسہ نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات میں عمران خان کی صحت اور ملاقات نہ کروائے جانے کے معاملے پر گفتگو کی اور یادداشت جمع کروائی۔
سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کو بتایا کہ عمران خان کے اہل خانہ کو ان کی طبی رپورٹ کی کاپی فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہا ’ہمارے لیے عمران خان صاحب کی صحت سے بڑھ کر کوئی چیز اہم نہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیر اعظم کی صحت کے بارے میں سامنے آنے والی رپورٹس ’اطمینان بخش‘ نہیں تھیں۔
سلمان اکرم راجہ کے مطابق عمران خان کو اہلِ خانہ کے علم میں لائے بغیر ہسپتال لے جایا گیا ’اور پھر جھوٹ بولا جاتا ہے پانچ دن تک کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پورا دن چیف جسٹس، ان کے عملے اور اٹارنی جنرل سے بات چیت کی۔ تاہم، ان کے مطابق دن بھر کی کوششوں کے بعد جو کچھ ’حاصل‘ ہوا، وہ ’اطمینان بخش‘ نہیں تھا۔
’کہا گیا ہے کہ عمران خان صاحب کی میڈیکل رپورٹس، پمز ہسپتال میں کیا ہوا، اس سے پہلے جیل میں کیا تشخیص ہوئی، وہ رپورٹ عمران خان صاحب کو سیل بند لفافے میں دی جائے گی اور اس رپورٹ کی ایک کاپی آج ان کے اہل خانہ یعنی ان کی بہنوں کو فراہم کی جائے گی۔‘