عمران خان کوآنکھوں کے علاج کے لیے گذشتہ ہفتے پمز لایا گیا، وہ بالکل ٹھیک ہیں: عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ گذشتہ ہفتے کی شب آنکھوں کے ڈاکٹروں کی سفارش پر عمران خان کو پمز لے جایا گیا اور وہ بالکل ٹھیک ہیں۔

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے جمعرات کو کہا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو آنکھوں کے طبی ماہرین کی تجویز پر گذشتہ ہفتے کی شب پمز ہسپتال لے جایا گیا تھا اور 20 منٹ کی طبی کارروائی کے بعد انہیں واپس جیل منتقل کر دیا گیا۔ اس پر پی ٹی آئی نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان اگست 2023 سے قید میں ہیں اور ان دنوں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں، جبکہ 9 مئی 2023 کے احتجاجی واقعات سے متعلق انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے)  کے تحت مقدمات بھی زیرِ سماعت ہیں۔

اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی صحت سے متعلق سہولیات پر پی ٹی آئی متعدد بار شکوہ اور عدم اطمینان کا اظہار کر چکی ہے۔ رواں ہفتے بھی خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ عمران خان کو آنکھوں کا سنگین مرض ’سنٹرل ریٹائنل وین اوکلوژن (CRVO)‘ لاحق ہو سکتا ہے اور شوکت خانم ہسپتال کی انتظامیہ نے ان کے طبی معائنے اور ان تک رسائی کی اجازت کے لیے درخواست کی ہے۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں ہونے لگیں۔

تاہم جمعرات کو میڈیا سے گفتگو میں وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بتایا کہ عمران خان ’بالکل ٹھیک‘ اور ’صحت مند‘ ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’آنکھوں کے طبی ماہرین نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کا معائنہ کیا، جس کے بعد انہوں نے تجویز دی کہ ایک معمولی طبی کارروائی کے لیے انہیں پمز لے جانا ضروری ہو گا۔ 

’گذشتہ ہفتے کی رات ان ہی آنکھوں کے ڈاکٹروں کی سفارش پر ان کو پمز لے جایا گیا اور پمز میں ان کی آنکھوں کا مزید معائنہ ہوا، جس کے بعد تحریری طور پر ان کی رضامندی کے بعد 20 منٹ کی طبی کارروائی ہوئی اور پھر انہیں ضروری ہدایات کے ساتھ واپس اڈیالہ جیل لے جایا گیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وفاقی وزیر کے مطابق: ’طبی کارروائی کے دوران بھی وہ بالکل ٹھیک تھے۔‘

وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ ’تمام قیدیوں کو جب کوئی ایسا مسئلہ ہو تو ڈاکٹرز تک رسائی دستیاب ہوتی ہے اور یہ بالکل قواعد کے مطابق ہے۔‘

پی ٹی آئی کے مشیر برائے غیر ملکی میڈیا ذلفی بخاری نے عمران خان کو طبی علاج کے لیے اہل خانہ اور وکلا کو اطلاع دیے بغیر پمز ہسپتال لے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ذلفی بخاری نے اپنے بیان میں کہا کہ ’حکام نے عمران خان کی طبی حالت، دیے گئے علاج، شامل ماہرین یا انہیں فوری طور پر دوبارہ جیل منتقل کرنے کی بنیاد سے متعلق کوئی قابلِ تصدیق تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ حکومت کا یہ دعویٰ کہ یہ معاملہ معمول کا تھا، شفاف طبی معلومات کی عدم فراہمی کے باعث بے بنیاد نظر آتا ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’ہمیں معتبر خدشات ہیں کہ عمران خان ایک سنگین طبی عارضے میں مبتلا ہیں جو ان کی بینائی سے متعلق ہے اور جس کے لیے آزاد ماہرین کے علاج کی ضرورت ہے۔

’ہسپتال میں داخلے کے بعد بھی اہلِ خانہ اور ذاتی معالجین تک رسائی سے مسلسل انکار سنگین انسانی حقوق کے خدشات کو جنم دیتا ہے اور بین الاقوامی معیار کے تحت پاکستان کی ذمہ داریوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔‘

ذلفی بخاری نے غیر ملکی سفارتی مشنوں سے ’قریبی نگرانی‘ کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ہم ’پاکستانی حکام سے رابطے کی اپیل کرتے ہیں تاکہ شفافیت، آزاد طبی نگرانی اور قانونی تقاضوں و زیرِ حراست فرد کے حقوق کا مکمل احترام یقینی بنایا جا سکے۔‘

اس سے قبل ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ عمران خان کو 16 گھنٹے سے زائد پمز ہسپتال میں رکھا گیا اور ان کی دائیں آنکھ میں ایک مخصوص انجیکشن بھی لگایا گیا، تاہم اس بارے میں نہ تو ہسپتال اور نہ ہی حکومت کی طرف سے باضابطہ طور پر کچھ کہا گیا۔

انڈپینڈنٹ اردو کو ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ پمز ہسپتال میں عمران خان کا معائنہ ایک نیورلوجسٹ (نام خفیہ رکھنے کی درخواست) نے کیا، جنہیں اپنی منشا کے خلاف جاکر یہ کام کرنا پڑا۔ قبل ازیں ایک اور معروف ڈاکٹر (نام خفیہ) سے رابطہ کیا گیا تھا، تاہم وہ شہر میں موجود نہیں تھے۔

پمز ہسپتال کے ذرائع نے اطلاع دی کہ عمران خان کو تین انجیکشن لگانے کا منصوبہ ہے اور ہر 30 دن بعد ایک انجیکشن لگے گا۔

ذرائع کی جانب سے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا گیا عمران خان کو جیل میں جس جگہ رکھا گیا، وہاں دھوپ کا مسئلہ ہے۔

ہسپتال میں طبی ذرائع کے مطابق مریض کی عمر، نیورولوجسٹ کا معائنہ، علاج کا دورانیہ اور صرف دائیں آنکھ میں انجیکشن لگنا یہ تمام عوامل ایک ایسی بیماری کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں جو آنکھ کے پردے (ریٹینا) کے مرکزی حصے کو متاثر کرتی ہے اور فوری علاج کی متقاضی ہوتی ہے۔ ناکافی دھوپ، مسلسل اور شدید ذہنی دباؤ کی وجہ سے بھی یہ بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔

ان کے بقول مریض کو جس بیماری کا قوی شبہ ہے وہ Wet Age-Related Macular Degeneration ہے، جو عموماً 60 سال سے زائد عمر کے افراد میں پائی جاتی ہے اور بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں مستقل بینائی کے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

مزید بتایا گیا کہ مریض کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ Anti-VEGF علاج دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد بیماری کے پھیلاؤ کو روکنا اور بینائی کو محفوظ رکھنا ہے۔

طبی ذرائع کے مطابق دستیاب تمام شواہد کی روشنی میں یہ کیس Near-Definitive Clinical Diagnosis کے زمرے میں آتا ہے، یعنی بیماری تقریباً کنفرم ہے اور بروقت علاج کے ذریعے بینائی محفوظ رکھنے کی سنجیدہ کوشش جاری ہے۔

ذرائع کے بقول عمران خان کے پمز ہسپتال میں آنکھ کے حالیہ علاج کے متعلق رپورٹ وزیراعظم کو بھی بھجوائی گئی ہے۔

شوکت خانم ہسپتال لاہور کے ڈائریکٹر کمیونکیشن خواجہ نذیر نے رواں ہفتے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ ’ہمیں ان (عمران خان) کی دیکھ بھال کرنے والے معالجین کی پیشہ ورانہ مہارت پر اعتماد ہے۔ اس کے باوجود ہم درخواست کرتے ہیں کہ شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹروں کی ٹیم کو خان صاحب تک رسائی دی جائے تاکہ ان لوگوں کو مطمئن کیا جاسکے جو ان کی صحت سے متعلق تشویش کا شکار ہیں۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان