سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ ان کے بھائی کی صحت سے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کا مقصد دراصل ’لوگوں کا ردعمل جانچنا‘ ہے۔
عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ انہیں متعدد مقدمات میں سزا سنائی گئی جنہیں ان کے حامی وسیع طور پر سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے مقدمات قرار دیتے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما اور ان کے اہل خانہ مسلسل جیل میں ان کی صحت اور قانونی مشیروں اور خاندان تک محدود رسائی پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
رواں ہفتے پاکستان میں عمران خان کی اڈیالہ جیل سے منتقلی اور صحت سے متعلق افواہیں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں، جنہیں انڈین میڈیا نے خاص طور پر اجاگر کرتے ہوئے جیل میں ان کی مبینہ موت کی خبریں بھی شائع کیں، تاہم جیل حکام نے ان افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم ’اڈیالہ جیل میں موجود‘ اور ’مکمل طور پر صحت یاب‘ ہیں۔
اسی سلسلے میں انڈپینڈنٹ اردو نے عمران خان کی بہن علیمہ خان سے خصوصی گفتگو کی، جن کا کہنا تھا کہ انہیں اڈیالہ جیل سے ملنے والی معلومات پر یقین نہیں۔
علیمہ خان کے مطابق انہیں آج تک جیل کے اندر سے کوئی اطلاعات نہیں ملیں۔ ’ہم اگر جائیں گے تو کچھ پتہ چلے گا۔ اگر یہ کچھ بتائیں گے بھی، تو ہمیں یقین نہیں ہے۔ مجھے یہ نہیں سمجھ آتی کہ اتنا تماشا لگا ہے تو اتنا تو کر سکتے تھے کہ اجازت دے دیتے۔‘
عمران خان صحت مند ہیں: جیل سے آنے والی خبروں کا مقصد ’لوگوں کا ردعمل جانچنا‘ ہے: علیمہ خان
— Independent Urdu (@indyurdu) November 29, 2025
مزید تفصیلات: https://t.co/NhYoALVkwo pic.twitter.com/p874kV7ST2
سوشل میڈیا پر چلنے والی عمران خان کی مبینہ موت کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے علیمہ خان نے کہا: ’اس قسم کی خبر کہاں سے نکلی ہے کہ ان کو مار دیا گیا ہے؟ ہم تک تو کوئی خبر پہنچ ہی نہیں سکتی۔ کسی نے آج ہمیں کہا کہ یہ ٹیسٹ رن کر رہے ہیں، دیکھنے کے لیے کہ لوگوں کا کیا ردعمل آتا ہے۔ کیونکہ یہ سوچتے ہیں اگر لوگوں کا ردعمل نہیں آتا، اگر قابل انتظام (Manageable) ردعمل ہے، تو سچ مچ ان (عمران خان) کو کچھ نہ کر دیں۔‘
سابق وزیر اعظم کی بہنیں گذشتہ کئی ہفتوں سے ان سے ملاقات کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان سمیت پاکستان تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت بھی راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر کبھی احتجاج تو کبھی دھرنا دے رہی ہے۔
دو روز قبل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاجی دھرنا دیا، جو تقریباً 22 گھنٹے جاری رہنے کے بعد گذشتہ روز ’دو دسمبر کو دوبارہ آنے کی یقین دہانی‘ پر ختم کیا گیا۔ اس سے قبل عمران خان کی بہنوں نے انتظامیہ کی جانب سے آئندہ ہفتے سابق وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کی یقین دہانی کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر رات گئے دھرنا ختم کیا تھا۔
عمران خان سے ملاقات کروائیں تو احتجاج کی جانب نہیں جائیں گے: سہیل آفریدی
— Independent Urdu (@indyurdu) November 28, 2025
مزید معلومات: https://t.co/6kYtQszHhs pic.twitter.com/dpeMfy6jmD
علیمہ خان نے کہا: ’صرف ایک بہن کو جانے دیں، ہمارے ایک فیملی ممبر یا ایک وکیل کو جانے دیں۔ ایک دفعہ وہ اندر جا کر دیکھ کر آ کے ہمیں بتا دیں کہ وہ ٹھیک ہیں۔ تین منٹ کے لیے بھی جانے دیں۔ یہ کیوں نہیں کر رہے؟ یا یہ خود ہی خبریں نکال رہے ہیں۔‘
سابق وزیر اعظم سے آخری ملاقات کے حوالے سے انہوں نے بتایا: ’آخری مرتبہ 16 اکتوبر کو ہماری دوسری بہن ڈاکٹر عظمی خان نے عمران خان سے ملاقات کی تھی۔‘
بقول علیمہ خان: ’وہ جیل میں جانے سے پہلے اور اب ماشاء اللہ فٹ ہیں اور صحت مند ہیں، لیکن انہوں نے ان کو قید تنہائی میں رکھا ہے۔‘
عمران خان کی خوراک اور روزمرہ معمول
سابق وزیر اعظم کی بہن نے بتایا کہ ’عمران خان ایک 8×10 کے سیل میں ہیں، اسی میں ٹوائلٹ بھی ہوتا ہے۔ یہی ہر قیدی کے پاس ہوتا ہے۔‘
ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ’گھر سے کوئی کھانے کی چیز ان کے پاس نہیں جاتی۔ سارا کچھ جیل سے ہی جاتا ہے جبکہ جیل حکام اس کی پرکیورمنٹ کرتے ہیں۔ ان کے پاس ایک مشکتی ہے جو ان کو کھانا بنا کر دیتا ہے۔‘
انہوں نے جیل میں ملنے والی سہولیات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا: ’عمران خان مکمل آئیسولیشن میں ہیں، سوائے اس مشکتی کے یا جو پولیس گارڈز ہیں، ان کی ملاقات کسی انسان سے نہیں ہو سکتی۔ عمران خان نارمل قیدیوں سے زیادہ سخت جیل کاٹ رہے ہیں۔‘
بقول علیمہ خان: ’عمران خان کے اکاؤنٹ میں پیسے جاتے ہیں، جس میں سے جیل والے ان کے لیے سودا لاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی روٹین بنائی ہوئی ہے۔ شاید وہ صحیح کہہ رہے ہیں کہ عمران نے بھی کہا تھا کہ میں ہفتے میں دو دفعہ مرغی کھاتا ہوں، رات کو نہیں کھاتا، دوپہر کو کھا لیتا ہوں۔ وہ زیادہ گوشت نہیں کھاتے۔ رات کو شاید دلیہ کھا لیتے ہیں، صبح کو دہی اور تھوڑا سا پھل کھا لیتے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’عمران خان دو چیزیں مانگتے ہیں۔ بچوں سے بات کروا دیں، جو شاید پچھلے ایک سال میں تین یا چار دفعہ کروائی گئی ہے، حالانکہ ہر ہفتے ہونی چاہیے۔ یا کہتے ہیں میری کتابیں دے دیں، یہ کتابیں نہیں دیتے۔‘
تاہم علیمہ خان نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا کبھی کسی نے کلثوم نواز شریف سے سوال کیا تھا کہ ان (نواز شریف) کے فیصلوں پر وہ کتنا اثر انداز ہوتی تھیں؟ آدھی اسمبلی ان کے رشتے داروں سے بھری ہوتی تھی، کیا میاں بیوی مشاورت نہیں کرتے؟‘
’سخت ہدایت ہے کہ اسلام آباد نہیں آنا‘
دو روز قبل وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ اور وزیر مملکت داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اہل خانہ اور قائدین کی عمران خان سے اس لیے ملاقات نہیں کروائی جا رہی کہ وہ انہیں ’تحریک چلانے‘ کا کہیں گے۔ ’یہ دوبارہ ڈی چوک آ کر 26 نومبر کی صورت حال پیدا کرنا چاہ رہے ہیں، اس لیے ہم ان کی ملاقات کیوں ہونے دیں۔‘
اس سوال پر کہ کیا واقعی کوئی تحریک چلنے جا رہی ہے؟ علیمہ خان نے جواب دیا: ’یہ بیچارے دونوں تو خود ملازم ہیں، ان کے پاس کون سا اختیار ہے؟ تحریک تو چل رہی ہے، عمران خان نے جو اعلان کیا تھا، تحریک چل رہی ہے۔ عمران خان نے سخت ہدایت دی ہے کہ اسلام آباد نہیں آنا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
گذشتہ برس 26 نومبر کو پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان اور سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کے درمیان اسلام آباد میں شدید جھڑپیں ہوئی تھیں، جس کے نتیجے میں کئی فراد جان سے گئے اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
حکام نے رہنماؤں اور اہل خانہ سے عمران خان کی ملاقات کا عندیہ تو دیا ہے لیکن ساتھ ہی کچھ ’شرائط‘ بھی عائد کی ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے جمعے کو کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان سے اہل خانہ کی ملاقات ہونی چاہیے لیکن ’جلاؤ گھیراؤ‘ کی باتیں نہیں ہونی چاہییں۔
جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں میزبان شہزاد اقبال سے گفتگو میں رانا ثنا نے کہا: ’ملاقات کی اجازت ہونی چاہیے لیکن ملاقات کے بعد ڈیڑھ گھنٹے کی پریس کانفرنس نہیں ہو سکتی۔ کوئی قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔‘
وزیراعظم کے مشیر کا مزید کہنا تھا کہ ’ان ملاقاتوں میں سیاست پر بات نہیں ہو سکتی، کیوں کوئی بھی شخص جو جیل میں قید ہو حوالات میں ہو تو کوئی قانون اسے اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ وہاں بیٹھ کر باہر کوئی تحریک چلانے کی مصوبہ بندی کرے۔‘
انٹرویو کے دوران حکام سے مذاکرات سے متعلق سوال پر علیمہ خان نے کہا: ’کس سے مذاکرات؟ عمران خان نے تو بڑی دیر پہلے (مذاکرات) بند کر دیے تھے۔ کہا تھا کہ اس حکومت کے پاس کچھ نہیں ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی کسی نے بات نہیں کرنی۔‘
اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پیغامات پر علیمہ خان نے کہا: ’پتہ نہیں، ہماری طرف سے نہ کوئی پیغام گیا، نہ ہمارے پاس آیا۔‘
عمران خان کے بیٹوں کے پاکستان آنے سے متعلق سوال پر علیمہ خان نے کہا: ’ان کے پاس نائیکوپ کارڈ ہے، جس کی تجدید ہونا تھی۔ ہمیں بتایا گیا کہ اس حکومت سے (کارڈ کی) تجدید کا کہیں گے تو کارڈ لندن تک پیدل آئے گا اور اس کے آنے میں سال لگا دیں گے۔ بہتر یہ ہے کہ یہ برطانیہ کے پاسپورٹ پر ویزا کے لیے اپلائی کیا جائے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ عمران خان کے بیٹوں نے رواں برس جولائی میں ویزہ کے لیے اپلائی کیا تھا، لیکن انہیں ان دستاویزات کی وصولی تک نہیں دی گئی۔
کچھ عرصہ قبل وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا تھا کہ عمران خان کے بیٹوں کی ویزہ یا نائیکوپ کی درخواست کی تفصیلات فراہم کی جائیں تو وہ ان کی فوری رہنمائی کریں گے، اس حوالے سے سوال پر علیمہ خان نے جواب دیا: ’اگر انہیں نائیکوپ کی تصاویر دے دیں، آپ کنفرم کر رہی ہیں؟ ان بیچاروں کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔ طلال چوہدری کو (تفصیلات) دے دیتے ہیں، آپ انہیں دے دینا۔‘
