وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے جمعے کو کہا ہے کہ ان کی جماعت کے ارکان پارلیمنٹ آئندہ منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ اور اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان سے یکجہتی کے لیے اکٹھے ہوں گے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل سے منتقلی اور ان کی صحت سے متعلق خبروں کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت سراپا احتجاج ہے اور اپنے بانی چیئرمین سے جلد از جلد ملاقات کا مطالبہ کر رہی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے صوبائی اسمبلی کے بعض اراکین کے ہمراہ جمعرات کو اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیا جو جمعے کی صبح تک جاری رہا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات شفیع اللہ جان نے جمعے کو انڈپینڈنٹ اردو کی سحرش قریشی سے گفتگو میں بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل سے کچھ فاصلے پر دیا گیا دھرنا ختم کر دیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بعد ازاں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچنے جہاں انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ جب تک عمران خان سے ان کی بہنوں کی ملاقات نہ ہو ’ہم اس طرح بزنس ایز یویوئل نہیں ہونے دیں گے۔‘
سہیل آفریدی نے کہا کہ ’منگل کے دن ہم نے تمام پارلیمنٹیرین کو بلایا ہوا ہے، تمام پارلیمنٹیرین پورے پاکستان سے (اسلام آباد) ہائی کورٹ کے سامنے بھی آئیں گے اس کے بعد اڈیالہ جیل بھی جائیں گے وہاں پر پرامن اظہاری یکجہتی کے لیے عمران خان صاحب کی بہنوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’آئین اور قانون قانون ہمیں احتجاج کی اجازت دیتا ہے یہ ضرور استعمال کریں گے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ان سے یا ان کی پارٹی سے کوئی رابطہ کیا گیا ہے تو وزیر خیبر پختونخوا نے کہا کہ ’میرا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔‘
عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ انہیں متعدد مقدمات میں سزا سنائی گئی جنہیں ان کے حامی وسیع طور پر سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے مقدمات قرار دیتے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما مسلسل جیل میں ان کی صحت اور قانونی مشیروں اور خاندان تک محدود رسائی پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔