سندھ اسمبلی نے ہفتے کو ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے کراچی کو سندھ کا ’ناقابلِ تقسیم اور لازمی حصہ‘ قرار دیتے ہوئے شہر کو الگ انتظامی حیثیت دینے یا صوبے کی تقسیم سے متعلق کسی بھی تجویز کو مسترد کر دیا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان سندھ کی تقسیم یا کراچی پر مشتمل الگ صوبہ بنانے کی کسی بھی سازش کی ’دوٹوک مذمت اور مکمل مخالفت‘ کرتا ہے۔ قرارداد میں واضح کیا گیا کہ ’کراچی ہمیشہ سندھ کا لازمی اور ناقابل تقسیم حصہ رہے گا۔‘
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پاکستان) کی جانب سے بارہا وفاق سے مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کراچی کو وفاقی علاقہ بنانے کی بات کی جا رہی تھی۔
قرارداد میں تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا گیا کہ وہ ایسے بیانات یا اقدامات سے گریز کریں جو صوبائی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔
Sindh is not just province-it is civilisation. From Mohenjo-daro to #Karachi (Kolachi), our history is unbroken & our unity indivisible.#Sindh Assembly has unanimously rejected any attempt to divide Sindh or separate Karachi.
— Sindh Chief Minister House (@SindhCMHouse) February 21, 2026
Karachi is &will remain, an integral part of Sindh pic.twitter.com/j7Kmy9yOgw
ساتھ ہی کہا گیا کہ سندھ کی وحدت، جغرافیائی سالمیت اور تاریخی شناخت ایک امانت ہیں جن کا دفاع آئینی، جمہوری اور سیاسی طریقوں سے کیا جائے گا۔
قرارداد میں کہا گیا کہ سندھ وہ پہلا صوبہ تھا جس نے قیام پاکستان کے حق میں قرارداد منظور کی، جو وفاقیت اور قومی اتحاد سے اس کے تاریخی وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں آئین 1973 کے آرٹیکل 239 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کی منظوری کے بغیر صوبائی حدود میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔
قرارداد کے مطابق کراچی کو پاکستان کی معاشی شہ رگ بنانے میں سندھ کے مختلف علاقوں، کراچی سے کیٹی بندر اور کشمور سے کارونجھر تک، کے لوگوں نے مشترکہ کردار ادا کیا، جو تقسیم نہیں بلکہ اتحاد کی علامت ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایوان نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ سندھ اسمبلی جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر صوبے کی سالمیت اور وقار کے دفاع کے لیے متحد ہے۔
جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق اور پی ٹی آئی کے اراکین شبیر قریشی اور سجاد سومرو نے قرارداد کی حمایت کی جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان نے اپنی تقاریر میں اس کی حمایت نہیں کی اور اسے آئین سے متصادم قرار دیا۔
بعد ازاں ایوان سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی کو سندھ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی صوبائی اتحاد اور یکجہتی کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
انہوں نے کراچی کو الگ صوبہ یا وفاقی علاقہ بنانے سے متعلق بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دشمن عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور جو پاکستان پر یقین رکھتا ہے وہ اس قرارداد کی حمایت کرے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کسی نئے صوبے کے قیام کی صورت میں فیصلہ سندھ اسمبلی کی دو تہائی اکثریت ہی کرے گی۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 2019 اور اس سے قبل 1994 میں بھی سندھ اسمبلی صوبے کی تقسیم کے خلاف قراردادیں منظور کر چکی ہے۔
مراد علی شاہ نے مخالفین کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد میں کوئی ایسی شق دکھائی جائے جو آئین کے خلاف ہو، جبکہ انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان کے مؤقف کو ’غیر مستقل‘ قرار دیا۔