اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش پر پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر کئی روز سے جاری دھرنا بدھ کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تاہم ٹی ٹی اے پی نے عمران خان کے خاندان کی جانب سے پی ٹی آئی کے بانی کو اپنے ذاتی معالجین تک رسائی دینے اور ان کے رشتہ داروں سے جیل میں ملاقات کی اجازت دینے کے مطالبے کو دہرایا۔
کرکٹر سے سیاست دان بننے والے 73 سالہ سابق وزیراعظم عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ شروع میں انہیں اٹک جیل میں رکھا گیا اور بعدازاں بانی پی ٹی آئی کو راولپنڈی کے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔
انہیں کئی مقدمات میں سزا سنائی گئی ہے جن کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ یہ تمام مقدمات 2022 کی پارلیمانی ووٹ کے بعد ان کی برطرفی کے نتیجے میں سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے۔
پی ٹی آئی مے عمران خان کی ایک آنکھ میں تکلیف کے بعد بینائی میں کمی کے خلاف اور انہیں صحت کی ہر ممکن سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے جمعے کو اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا شروع کیا تھا۔ اس احتجاج میں صرف اراکین پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں نے شرکت کرنا تھی۔
لیکن پی ٹی آئی کے مقامی رہنماؤں اور ورکرز نے خیبر پختونخوا میں مختلف اضلاع میں دھرنے دیے اور دوسرے صوبوں خصوصاً پنجاب کو آنے والے تمام راستے بند کر دیے۔
گذشتہ تقریباً پانچ دن سے موٹر وے (ایم ون) کے پشاورأاسلام آباد جی ٹی روڈ کے علاوہ صوبے سے دوسرے علاقوں کو جانے والی تمام بڑی چھوٹی شاہراہوں پر ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں کھڑی ہیں جنہیں پی ٹی آئی کارکن آگے جانے کی اجازت نہٰن دے رہے تھے۔
میں پاکستانیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم ایک کال دیں گے اور بہترین کال دیں گے لیکن اس سے پہلے ہم تیاری کریں گے ہم لڑائی لڑیں گے اور بھرپور تیاری سے لڑیں گے یہ لڑائی حقیقی آزادی کے لیے لڑیں گے ۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی
pic.twitter.com/YmGrP5AKKI
— PTI (@PTIofficial) February 18, 2026
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے قومی اسمبلی قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی، چیئرمین پی ٹی آئی گوہر علی خان اور سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے ہمراہ عمران خان کے خلاف مقدمات سے متعلق سپریم کورٹ میں سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کی۔
راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ’خدا کا شکر ہے، پہلے کی صورت حال کے مقابلے میں معمولی بہتری آئی ہے، پہلے بصارت مکمل طور پر ختم ہو گئی تھی۔ اب تھوڑا بہتر ہے۔‘
انہوں نے عمران خان کے خاندان یا ذاتی ڈاکٹروں کو ’بورڈ میں نہ لینے‘ پر حکومت پر تنقید کی۔
سینیٹر راجہ ناصر عباس نے اس بات کا اعادہ کیا کہ عمران کے دیرینہ معالج ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر فیصل سلطان کو پی ٹی آئی کے بانی کا معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اپوزیشن اراکین کو عمران خان کی حالت میں معمولی بہتری کے بارے میں جان کر خوشی ہوگی سینیٹر راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ’لہذا، جیسا کہ رمضان کا مہینہ بھی شروع ہو رہا ہے، ہم پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر کا دھرنا ختم کریں گے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا کہ ’اور آئندہ مرحلے میں، ہم ٹی ٹی اے پی کے طور پر مختلف اقدامات کر سکتے ہیں اور ہم ایسا کریں گے جیسا کہ ہمارے پاس وقت ہے۔‘
راجہ ناصر عباس نے عمران خان کے ذاتی معالجین کو ان تک رسائی دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، ’اگر ہمارے حکمران اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں، جو دنیا بھر میں اٹھایا گیا ہے اور دنیا نے تشویش کا اظہار کیا ہے، تو نظر بھی آنا چاہیے۔‘
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر نے زور دیتے ہوئے کر کہا کہ جب عمران خان نے کہا کہ انہیں تحفظات ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ خدشات ہیں۔
اس سے قبل ٹی ٹی اے پی کی قیادت، بشمول محمود خان اچکزئی، راجہ ناصر عباس، گوہر خان اور راجہ سلمان اکرم سابق وزیر اعظم کے مقدمات کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ پہنچی۔
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی جانب سے مطالبات
سابق وزیرِاعظم عمران خان کے واضح پیغام کی روشنی میں تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان درج ذیل فوری اور غیر مشروط مطالبات پیش کرتی ہے:
1.ذاتی معالجین تک فوری رسائی:
ڈاکٹر عاصم اور ڈاکٹر فیصل کو بلا تاخیر عمران خان تک مکمل اور نجی…
— Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan (@TTAP_OFFICIAL) February 17, 2026
ٹی ٹی اے پی نے اچکزئی کی سپریم کورٹ کے احاطے کے اندر اور عمران کی بہن علیمہ خان سے بات کرنے کی ویڈیو بھی شیئر کی۔
دریں اثنا سپریم کورٹ نے ایک بار پھر پی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ کی عمران سے ملاقات سے انکار کردیا، کیونکہ عدالت نے سابق وزیراعظم سے متعلق متعدد مقدمات کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔
سپریم کورٹ کی سماعت سے قبل خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے عمران خان کی تین بہنوں علیمہ، نورین نیازی اور عظمیٰ خانم سے ملاقات کی۔
پی ٹی آئی نے کہا کہ ’عمران خان کی صحت، عدالتی معاملات، دیگر امور اور ان میں درپیش چیلنجز پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔‘
ٹی ٹی اے پی نے عمران خان کے لیے مکمل طبی رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ عمران خان نے علامہ راجہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کو مذاکرات اور احتجاج کی ذمہ داریاں دی تھیں۔
’ان کا فیصلہ تھا کہ پارلیمنٹ میں دھرنا دیا جائے ہم نے ان کا فیصلہ تسلیم کیا۔ آج انہوں نے دھرنا ختم کیا ہے۔ ہم عمران خان کی بہنوں کی تسلی تک ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘