بلوچ مسنگ پرسنز تحریک کی اہم رکن اماں حوری 80 سال کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔
2012 میں ان کے بیٹے گل محمد مری کے لاپتہ ہونے کے بعد سے اماں حوری مسلسل لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے متحرک رہیں۔
بلوچ مسنگ پرسنز تحریک کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ اماں حوری کا تعلق کوئٹہ کے نواحی علاقے نیو کاہان ہزار گنجی سے تھا۔
اماں حوری کا خاندان 1990 میں نواب خیربخش مری کے ساتھ جلاوطنی ختم کر کے ہزار گنجی میں بس گیا تھا۔
2012 میں اماں حوری کا بیٹا گل محمد مری پراسرار طور لاپتہ ہو گیا تھا، جن کی بازیابی کے لیے ماں نے ہر ممکن کوشش کی۔ انہوں نے سپریم کورٹ اور لاپتہ افراد کے لیے بنائے گئے کمیشن سمیت ہر دروازہ کھٹکھٹایا۔ لیکن گل محمد کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل پایا ہے۔
اماں حوری نے اپنے بیٹے کی بازیابی کی کوششوں کے دوران دوسرے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم مسنگ پرسنز تحریک سے وابستہ ہو گئیں۔
تحریک سے وابستگی کے دوران انہیں مرحوم ماما قدیر، ماہرنگ بلوچ کے علاوہ کئی دوسرے کارکنوں کے ہمراہ اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا اور نیشنل پریس کلب کے سامنے دھرنا بھی دیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیٹے کی کمشدگی کا دکھ اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے عزم نے اماں حوری کو آخری سانسوں تک مسنگ پرسنز تحریک سے منسلک رکھا۔ لیکن ان کی لخت جگر کی بازیابی اور اسے دیکھنے کی خواہش پوری نہ ہو سکی۔
نصراللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ گل محمد مری کی ایک کم عمر بچی بھی ہے، جو ہمیشہ اپنے باپ کی بازیابی کے لیے دادی کا دامن پکڑے احتجاجوں اور اجلاسوں میں موجود ہوتی تھی۔ معاشی طور پر کمزور خاندان سے تعلق رکھنے والی اماں حوری کے خاوند پہلے ہی فوت ہو چکے ہیں۔
اماں حوری کچھ دنوں سے بیمار تھیں اور بدھ کی صبح کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی نیو کاہان میں اپنے گھر میں خالق حقیقی سے جا ملیں۔