لاپتہ افراد کا معاملہ فراڈ ہے: وزیر دفاع کا دعویٰ

خواجہ آصف کے مطابق بلوچستان کے طول و عرض میں امن قائم ہو چکا ہے اور عسکریت پسندوں کے گذشتہ روز کے مربوط حملوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف 18 جون، 2025 کو عرب نیوز کو انٹرویو دے رہے ہیں (عرب نیوز)

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اتوار کو صوبہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کے معاملے کو ’فراڈ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بیانیہ بنایا گیا ہے۔

انہوں نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو میں کہا ’زیادہ تر مسنگ پرسنز بی ایل اے یا دہشت گرد تنظیموں کے اراکین ہیں، ایجنٹس ہیں، جو وطن عزیز کے مختلف حساس مقامات، سویلین مقامات، دفاتر پر حملے کرتے ہیں اور جب یہ ٹارگٹ ہوتے ہیں، مارے جاتے ہیں تو ثابت ہوتا ہے کہ مسنگ پرسنز کی 

فہرستوں میں بھی ان کے نام شامل ہیں۔ یہ ایک فراڈ ہے۔ یہ ایک بیانیہ بنایا گیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’زیادہ تر مسنگز پرسنز ملک سے باہر رہتے ہیں اور ان کے رشتے دار مسنگ پرسنز کا الاؤنس وصول کرتے ہیں۔ ایک انسانی حقوق کا بیانیہ بنایا ہوا ہے تاکہ دنیا کی توجہ حاصل کی جا سکے۔‘

پاکستان میں کئی سالوں سے صوبہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کا معاملہ حساس رہا ہے۔ لاپتہ افراد کے اہل خانہ اس حوالے سے اسلام آباد میں احتجاج اور دھرنے بھی دے چکے ہیں، جبکہ عدالتوں میں بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا ہے۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے 20 جنوری کو صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کہا تھا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ طویل عرصے سے ریاست کے خلاف ایک پروپیگنڈا ٹول کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے، تاہم اب ان کی حکومت نے اس معاملے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے ایک جامع قانونی فریم ورک تیار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یکم فروری کے بعد کوئی جبری گمشدگی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا جبری گمشدگی کے دعوؤں کا جائزہ لینے کے لیے عدالتیں اور متعلقہ کمیشن پہلے ہی موجود ہیں۔

خواجہ آصف نے آج میڈیا سے گفتگو میں کہا بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) ایک عالمی دہشت گرد تنظیم ہے، جس پر پاکستان میں بھی پابندی ہے۔

’یہ پچھلے سال اور اس سے پہلے بھی اپنا وجود کسی نہ کسی طرح قائم رکھنے کے لیے، تاکہ ان کی فارن فنڈنگ خصوصاً ہندوستان کی طرف سے جاری و ساری رہ سکے، اس قسم کے حملے شہری آبادی پر اور شہریوں کو اغوا کرنا، سرکاری ملازمین کو اغوا کرنا اور اس قسم کے حملے کرتے رہتے ہیں۔

’انہوں نے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے بھی چہرے رکھے ہوئے ہیں، نقاب پہنا ہوا ہے، ایک طرح کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) اور مسنگ پرسنز (لاپتہ افراد) کا ایک بیانیہ بنایا ہوا ہے۔‘

وزیر دفاع کی میڈیا گفتگو ایک ایسے موقعے پر ہوئی ہے جب گذشتہ روز بی ایل اے نے بلوچستان کے تقریباً 12 مختلف مقامات پر ’مربوط‘ کارروائیاں کی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اتوار کو پریس کانفرنس میں بتایا کہ گذشتہ 40 گھنٹوں میں سکیورٹی فورسز نے صوبے میں کارروائیاں کرتے ہوئے 145 عسکریت پسندوں کو مار دیا۔

انہوں نے بتایا کہ بی ایل اے کے حملوں میں 17 قانون نافذ کرنے والے اہلکار اور 31 شہری بھی جان سے گئے۔

خواجہ آصف نے آج میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ بلوچستان کے طول و عرض میں امن قائم ہو چکا ہے اور عسکریت پسندوں کے مربوط حملے کو ناکام بنا دیا گیا جبکہ ’ہماری افواج اس وقت بھی علاقے کو عسکریت پسندوں سے پاک کرنے کے لیے آپریشن میں مصروف ہیں۔‘

 وزیر دفاع کے مطابق بلوچستان میں کارروائیوں کے دوران ’جو لوگ گرفتار ہوئے ان کے اعترافی بیانات سے بھی ثابت ہوا اور انٹیلی جنس فائنڈنگ سے سارے تانے بانے انڈیا کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا ’افغانستان میں ان کے پلاننرز، ہینڈلز اور لیڈرز بیٹھے ہیں، جو نوجوانوں کو استعمال کر کے قربان کر رہے ہیں۔‘

خواجہ آصف نے بتایا کہ یہ عسکریت پسند تنظیمیں چھوٹے بچوں، خواتین، غریب مزدوروں اور بیروزگار افراد کو بھی استعمال کر رہی ہیں۔ 

’کل 12 شہروں میں جو واقعات ہوئے، اس میں دو جگہ خواتین استعمال کی گئیں۔ بچیوں کو اِن ڈاکٹرنیٹ کیا جا رہا ہے۔ ان کے ذہن کو آلودہ کیا جا رہا ہے۔‘

وزیر دفاع نے کہا ’ہمارا قومی ایجنڈا ہے کہ پاکستان کے تمام صوبوں میں امن قائم ہو اور کوئی بیرونی طاقت خصوصاً ہندوستان اور افغانستان ہمارے ملک میں امن کو درہم برہم کرنے کے لیے دہشت گردی کے اس قسم کے فرنچائز استعمال نہ کریں، جن میں بی ایل اے بھی ہے اور ٹی ٹی پی بھی ہے۔‘

خواجہ آصف نے واضح کیا ’کسی قسم کی رعایت کی توقع نہ رکھیں۔ پاکستان کے طول و عرض میں کسی جگہ سے ان کے لیے رعایتی کلمات نہیں نکلنا چاہیے۔ 

’چاہے وہ سیاسی لوگ ہوں، یا عام عوام، دہشت گردی کے خلاف قوم مکمل اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا ’بلوچستان کا رقبہ باقی تمام صوبوں سے بڑا ہے اور آبادی کم ہے، جس کی وجہ سے ان لوگوں کو آپریٹ کرنے کی سولت میسر ہے لیکن آنے والے دنوں میں ان کا یہ فائدہ بھی کم کریں گے‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان