کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ہفتے کو علی الصبح دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں حملے کیے، جن کے نتیجے میں پولیس حکام کے مطابق دو اہلکار جان سے چلے گئے۔
صحافی محمد عیسیٰ کے مطابق کوئٹہ میں حملوں کا آغاز ہفتے کی صبح 6 بجے شہر میں ایک زور دار دھماکے سے ہوا، جس کے بعد شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا، جو متعدد دھماکوں کے ساتھ دو گھنٹے تک جاری رہا۔
کوئٹہ میں پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عرب نیوز کو بتایا کہ عسکریت پسند شہر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز انہیں روک رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا: ’دہشت گردوں نے سریاب روڈ پر پولیس موبائل کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار جان سے چلے گئے۔‘
اہلکار کا مزید کہنا تھا: ’پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوئٹہ شہر میں دہشت گردوں کے لیے جگہ تنگ کر دی ہے اور کلیئرنس آپریشن تاحال جاری ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دیگر شہروں میں ہونے والے حملوں سے متعلق تاحال حکام کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم صحافی محمد عیسیٰ کے مطابق کوئٹہ کے علاوہ نوشکی، خاران، پسنی اور مستونگ سمیت صوبے کے متعدد علاقوں میں دھماکوں اور فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
علیحدگی پسند کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ہفتے کو جاری کیے گئے بیان میں بی ایل اے نے کہا کہ اس نے بلوچستان کے متعدد شہروں میں حملوں پر مشتمل ’آپریشن ہیروف 2.0‘ شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے بتایا کہ کوئٹہ میں ہفتے کو سریاب کے علاقے میں خفیہ اطلاع پر کی گئی کارروائی میں چار عسکریت پسندوں کو مار دیا گیا۔
سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں بتایا کہ عسکریت پسند شہر میں ’دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے کہ خفیہ اطلاع پر کارروائی کی گئی۔‘
سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق مارے جانے والے عسکریت پسندوں کے زیر انتظام کمپاؤنڈ سے اسلحہ، دستی بم اور کالعدم تنظیم کا لٹریچر برآمد ہوا۔
صوبے میں یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب گذشتہ روز ہی پاکستانی فوج نے بتایا تھا کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی دو مختلف کارروائیوں میں ’41 انڈین حمایت یافتہ دہشت گرد‘ مارے گئے۔
رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان، جس کی سرحدیں پڑوسی مسلمان ممالک ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں، طویل عرصے سے عسکریت پسندی کا شکار ہے۔
ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ، ریلوے سروس معطل
وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ اور سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمن نے موجودہ حالات کے پیشں نظر کوٸٹہ کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی۔
ترجمان محکمہ صحت وسیم بیگ کے مطابق سول ہسپتال، بی ایم سی ہسپتال اور ٹراما سینٹر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور تمام کنسلٹنٹس، ڈاکٹرز ، فارماسسٹس، سٹاف نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف کو ہسپتالوں میں طلب کر لیا گیا ہے۔
اسی طرح ریلوے حکام کے مطابق کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں کشیدہ صورت حال کے پیش نظر کوئٹہ سے اندرون ملک اور اندرون صوبے میں آج تمام ٹرین آپریشن معطل کر دیا گیا ہے۔