بلوچستان آپریشن میں 18 شہری، 15 اہلکار اور 133 عسکریت پسند مارے گئے: فوج

آئی ایس پی آر کے مطابق 31 جنوری کو ہونے والے کلیئرنس آپریشن کے دوران بلوچستان بھر میں 92 عسکریت پسند مارے گئے جن میں تین خودکش بمبار بھی شامل تھے۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 31 جنوری 2026 کو ہونے والی عسکریت پسندوں کی کارروائیوں اور جوابی آپریشنز کے دوران 18 شہری اور 15 سکیورٹی اہلکار جان سے گئے جبکہ سکیورٹی فورسز نے گزشتہ دو روز میں مجموعی طور پر 133 عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 31 جنوری کو ہونے والے کلیئرنس آپریشن کے دوران بلوچستان بھر میں 92 عسکریت پسند مارے گئے جن میں تین خودکش بمبار بھی شامل تھے۔

اس سے قبل 30 جنوری کو پنجگور اور ہرنائی میں 41 عسکریت پسندوں کو نشانہ بنا گیا تھا۔

’فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشت گردوں نے 31 جنوری کو کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی کے علاقوں میں امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔‘

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ’متاثرہ علاقوں میں سینیٹائزیشن آپریشنز بدستور جاری ہیں اور ان کارروائیوں میں ملوث منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور معاونین کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘

اس سے قبل پاکستان میں سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ہفتے کو صوبہ بلوچستان کے مختلف مقامات پر عسکریت پسندوں کے مربوط حملوں کے خلاف جوابی کارروائی میں اب تک 67 عسکریت پسند مارے گئے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق پچھلے دو دنوں میں پنجگور اور شاپان میں41 عسکریت پسند مارے گئے، جس کے بعد صوبے بھر میں مرنے والے عسکریت پسندوں کی تعداد 108 ہو گئی۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ مختلف علاقوں میں فالو اَپ آپریشن جاری ہیں۔

سرکاری چینل ’پاکستان ٹی وی‘ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ عسکریت پسندوں نے ’آج صبح کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، پسنی اور گوادر سمیت 12 سے زائد مقامات پر مربوط حملے کیے۔‘

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق گوادر میں حملے کے دوران تین خواتین، تین بچوں سمیت 11 شہری بھی جان سے گئے۔

پولیس افسر عباد خان کا کہنا تھا کہ پولیس نے فوری طور پر حملے کا جواب دیا اور تمام حملہ آوروں کو مار دیا۔

پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ایک بیان میں ’فتنہ الہندوستان‘ کے عسکریت پسندوں کے ’مربوط‘ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جھڑپوں میں 10 سکیورٹی اہلکار جان سے گئے۔

انہوں نے متعدد مقامات پر درجنوں عسکریت پسندوں کو مارنے پر سکیورٹی فورسز کی تعریف بھی کی۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے ہائی سکیورٹی جیل، پولیس سٹیشنز اور نیم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ایک بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے ان حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔

بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ حملوں کے دوران کچھ بینکوں میں ڈکیتیاں بھی کی گئیں۔

تنظیم نے ویڈیوز جاری کیں جن میں خواتین لڑاکا بھی کارروائیوں میں حصہ لیتی نظر آئیں۔

بی ایل اے نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے بلوچستان کے متعدد شہروں میں حملوں پر مشتمل ’آپریشن ہیروف 2.0‘ شروع کر دیا ہے۔

صحافی محمد عیسیٰ کے مطابق کوئٹہ میں حملوں کا آغاز ہفتے کی صبح چھ بجے شہر میں ایک زور دار دھماکے سے ہوا، جس کے بعد شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا، جو متعدد دھماکوں کے ساتھ دو گھنٹے تک جاری رہا۔

کوئٹہ کے ریڈ زون میں مبینہ خود کش حملے میں سیکورٹی پر موجود ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ پولیس فیصل یوسف زئی جان سے گئے۔

نوشکی میں بی ایل اے نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں مبینہ طور پر ڈپٹی کمشنر نوشکی محمد حسین ہزارہ اپنے مختصر پیغام میں بتا رہے ہیں کہ وہ گروپ کے قبضے میں ہیں، ان کے عقب میں خاتون اسسٹنٹ کمشنر  بھی نظر آ رہی ہیں۔

کوئٹہ میں پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عرب نیوز کو بتایا تھا کہ ’دہشت گردوں نے سریاب روڈ پر پولیس موبائل کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار جان سے چلے گئے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوئٹہ شہر میں دہشت گردوں کے لیے جگہ تنگ کر دی ہے اور کلیئرنس آپریشن تاحال جاری ہے۔‘

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ حملے ’عسکریت پسندوں کے گرتے ہوئے مورال کی علامت ہیں۔‘

ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ گذشتہ 12 ماہ میں بلوچستان میں سیکورٹی فورسز نے 700 سے زائد ’دہشت گردوں‘ کو مار گرایا اور صرف گذشتہ دو دن میں 70 کے قریب عسکریت پسند انجام کو پہنچے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ آج علی الصبح عسکریت پسندوں نے ’اپنے گرتے ہوئے مورال کو بچانے کے لیے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حملوں کی کوشش کی جس کو بلوچستان کی بہادر پولیس اور ایف سی کے جانباز سپاہی مل کر ناکام‘ بنا رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ کے بقول ’یہ حملے دہشت گردی کے خلاف ہمارے عزم کو ختم نہیں کر سکتے، ہم آخری دہشت گرد تک پیچھا جاری رکھیں گے۔‘

پاکستانی حکام بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند تنظیموں کو انڈین پراکسی ’فتنہ الہندوستان‘ قرار دیتے ہیں۔

یہ تنظیمیں سکیورٹی فورسز، حکومتی تنصیبات اور ترقیاتی منصوبوں پر حملوں میں ملوث رہی ہیں۔

اسلام آباد ان تنظیموں پر انڈیا سے مالی اور لاجسٹک مدد کا بھی الزام لگاتا ہے، جسے نئی دہلی مسترد کرتا ہے۔ 

دوسری جانب محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے مطابق کوئٹہ میں ہفتے کو سریاب کے علاقے میں خفیہ اطلاع پر کارروائی میں چار عسکریت پسندوں کو مار دیا گیا۔

سی ٹی ڈی نے اپنے بیان میں بتایا کہ عسکریت پسند شہر میں ’دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے کہ خفیہ اطلاع پر کارروائی کی گئی۔‘ 

سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق مارے جانے والے عسکریت پسندوں کے زیر انتظام کمپاؤنڈ سے اسلحہ، دستی بم اور کالعدم تنظیم کا لٹریچر برآمد ہوا۔

صورت حال کے پیش نظر کوئٹہ میں بڑے کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ سرکاری دفاتر میں بھی حاضری نہ ہونے کے برابر ہے۔

مستونگ میں ایک سرکاری اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ مسلح افراد نے شہر  میں جیل سمیت مقامات پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں 27 قیدی فرار ہو گئے۔

دوسری جانب مچھ کے علاقے میں ممکنہ دہشت گردی کے پیش نظر انتظامیہ نے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعلی بلوچستان کے معاون برائے میڈیا شاہد رند کے مطابق یہ حملے حالیہ دنوں میں سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 70 سے زائد عسکریت پسندوں کی اموات کے بعد کیے گئے ہیں۔

ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے لکھا ’گذشتہ دو روز میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 70 سے زائد دہشت گردوں کے مارے جانے کے بعد بلوچستان میں چند مقامات پر دہشت گردوں نے حملے کی کوشش کی ہے، جس کو پولیس اور ایف سی نے بروقت کارروائی کر کے ناکام بنا دیا ہے۔

’اس وقت بھاگنے والے دہشت گردوں کا پیچھا جاری ہے۔ مزید تفصیلات بہت جلد سامنے لائی جائیں گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صحافی محمد عیسیٰ کے مطابق کوئٹہ کے علاوہ نوشکی، خاران، پسنی اور مستونگ سمیت صوبے کے متعدد علاقوں میں دھماکوں اور فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب گذشتہ روز ہی پاکستانی فوج نے بتایا تھا کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی دو مختلف کارروائیوں میں ’41 انڈین حمایت یافتہ دہشت گرد‘ مارے گئے۔ 

رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان، جس کی سرحدیں پڑوسی مسلمان ممالک ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں، طویل عرصے سے عسکریت پسندی کا شکار ہے۔

ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ، انٹرنیٹ سروس بند، ریلوے سروس معطل

وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ اور سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمن نے موجودہ حالات کے پیشں نظر کوٸٹہ کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی۔

 ترجمان محکمہ صحت وسیم بیگ کے مطابق سول ہسپتال، بی ایم سی ہسپتال اور ٹراما سینٹر  میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور تمام کنسلٹنٹس، ڈاکٹرز ، فارماسسٹس، سٹاف نرسز  اور پیرا میڈیکل سٹاف کو ہسپتالوں میں طلب کر لیا گیا ہے۔

دوسری جانب حکام نے کوئٹہ میں انٹرنیٹ کی سروس بھی معطل کر دی ہے۔

اسی طرح ریلوے حکام کے مطابق کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں کشیدہ صورت حال کے پیش نظر کوئٹہ سے اندرون ملک اور اندرون صوبے میں آج تمام ٹرین آپریشن معطل کر دیا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان