طالبان کا کابل میں ’ہسپتال پر بمباری‘ میں 400 اموات کا دعویٰ، پاکستان کی تردید

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات نے ہسپتال پر حملے کے افغان دعوے کو ’جھوٹ‘ اور ’گمراہ کن‘ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کیا ہے۔

کابل پر 16 مارچ 2026 کو ہونے والی فضائی بمباری کے بعد آگ کے شعلے اور دھواں دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)

افغان طالبان نے منگل کی صبح دعویٰ کیا ہے کہ کابل میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے ہسپتال پر پاکستان کی مبینہ فضائی کارروائی میں کم از کم 400 اموات ہوئی ہیں۔ پاکستان نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

طالبان ترجمان حمد اللہ فطرت نے ایکس پر اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ’کابل میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے ہسپتال پر پاکستانی فضائی بمباری میں کم از کم 400 افراد مارے گئے جبکہ 250 زخمی ہوئے ہیں۔‘

تاہم پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ایکس پر ہی اس افغان دعوے کو ’جھوٹ‘ پر مبنی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کیا ہے اور ساتھ ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ ’پاکستان نے پیر کی رات فوجی تنصیبات اور دہشت گردوں کی معاونت کے ڈھانچے کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔‘

افغان طالبان کے ترجمان حمد اللہ فطرت نے ایکس پر اپنے بیان میں بتایا کہ فضائی کارروائی پیر کی رات نو بجے کی گئی جس میں ’دو ہزار بستر والے منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہسپتال کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا ہے اور بھاری جانی نقصان کا خدشہ ہے۔‘

تاہم اموات اور زخمیوں کی تعداد کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغان طالبان ترجمان کے اس دعوے پر پاکستانی وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ دعویٰ ’حقائق کی غلط رپورٹنگ‘ ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کے تکنیکی آلات کے ذخائر اور اسلحہ گوداموں سمیت فوجی تنصیبات اور ’دہشت گردوں کی معاونت کے ڈھانچے‘ کو نشانہ بنایا جو پاکستانی شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہے تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کے اہداف انتہائی درستگی کے ساتھ منتخب کیے گئے اور کارروائی بہت احتیاط سے کی گئی تاکہ کوئی ضمنی نقصان نہ ہو۔

’بحالی ہسپتال کے طور پر حقائق کو پیش کرنا دراصل سرحد پار دہشت گردی کی غیر قانونی حمایت کو چھپانے کے لیے جذبات بھڑکانے کی کوشش ہے۔‘

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تازہ جھڑپیں گذشتہ ماہ اس وقت شروع ہوئیں جب پاکستان نے افغانستان میں فضائی حملے کیے جن کے بارے میں اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ان کا ہدف شدت پسندوں کے ٹھکانے تھے۔

افغانستان نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا جس میں شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، اور اس کے بعد اس نے اپنی جوابی کارروائیاں شروع کیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا