چھانگا مانگا جنگل کے تالاب میں ایک ہی خاندان کے چار بچے ڈوب گئے

مرنے والے بچے فیصل آباد سے گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے اپنے ننھیال آئے ہوئے تھے۔

29 جون، 2015 کو لاہور میں ایک گھر کے باہر ایمبولنسیں کھڑی ہیں (اے ایف پی)

پنجاب کے ضلع قصور میں واقع چھانگا مانگا جنگل کے تالاب میں ایک ہی خاندان کے چار بچے ڈوب کر جان سے چلے گئے۔

مرنے والے بچے فیصل آباد سے گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے اپنے ننھیال آئے ہوئے تھے۔

محکمہ جنگلات پنجاب کے ترجمان حافظ طیب ستار نے بتایا کہ یہ افسوس ناک واقعہ جنگل کے کمپارٹمنٹ نمبر 65، بلاک نمبر تین میں پیش آیا۔

ان کے مطابق جس تالاب میں بچے ڈوبے وہ 2020-21 میں جنگلی حیات کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تعمیر کیا گیا تھا اور یہ عوامی تفریح یا نہانے کے لیے مختص نہیں تھا۔

ترجمان نے بتایا کہ محکمہ جنگلات نے تالاب کے اطراف حفاظتی انتظامات، غیر مجاز داخلے سے متعلق انتباہی بورڈز اور دیگر وارننگ سائن نصب کیے ہوئے تھے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق بچے اپنی نانی کے ہمراہ خاردار تار عبور کر کے جنگل کے اس حصے میں داخل ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اطلاع ملتے ہی محکمہ جنگلات، پولیس اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقعے پر پہنچیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق مرنے والوں میں 12 سالہ مراد اکبر، ان کے 11 سالہ بھائی عرفان اکبر، آٹھ سالہ بہن ماریہ اکبر اور 13 سالہ کزن عمران شامل ہیں۔

ریسکیو اہلکاروں نے بچوں کی لاشیں تالاب سے نکال کر پہلے چونیاں ہسپتال منتقل کیں، جہاں ضروری کارروائی کے بعد انہیں ورثا کے حوالے کر دیا گیا۔

اہل خانہ کے مطابق بچے گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کے لیے گاؤں ویر سنگھ والا میں اپنے ماموں کے گھر آئے ہوئے تھے۔

ریسکیو حکام کے مطابق تالاب کی گہرائی تقریباً آٹھ سے 10 فٹ تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واقعے کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ محکمہ جنگلات نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مکمل اور شفاف تحقیقات کے لیے متعلقہ اداروں سے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

محکمہ جنگلات نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ جنگلاتی علاقوں میں غیر ضروری یا غیر محفوظ مقامات پر داخل ہونے سے گریز کریں اور حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔

دریں اثنا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق چھانگا مانگا جنگل تقریباً 48.6 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔

یہ جنگل ضلع قصور اور لاہور کے درمیان واقع ہے اور 1866 میں برطانوی دور حکومت میں لگایا گیا تھا۔

چھانگا مانگا طویل عرصے سے سیاحوں اور تفریح کے شوقین افراد کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔

لاہور ریلوے سٹیشن سے خصوصی ٹرین بھی یہاں تک چلائی جاتی ہے جبکہ جنگل کے اندر سیاحوں کے لیے خصوصی ٹرام سروس موجود ہے۔ اس کے علاوہ جنگل مختلف اقسام کی جنگلی حیات کا مسکن بھی ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان