پاکستان، امریکہ تعلقات میں حالیہ بہتری کو کیسے سمجھا جائے؟

پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کی اس نئی شروعات کو ایک منظم اور باقاعدہ رابطے کے قیام کے لیے کیسے استعمال کرتا ہے، چاہے اس کی بنیاد سودے بازی ہی کیوں نہ ہو۔

پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر  26 ستمبر 2025 کو وائٹ ہاؤس واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد موجود ہیں (پی ایم ہاؤس)

تاریخی طور پر امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں مسلسل اتار چڑھاؤ کا ایک سلسلہ رہا ہے۔ دونوں ممالک کبھی بھی کوئی پائیدار اور وسیع البنیاد تعلق قائم نہیں کر سکے۔

دونوں ایک دوسرے کے قریب تب ہی آئے جب ان کے مفادات ہم آہنگ ہوئے، مثال کے طور پر 1950، 1980 اور 2000 کی دہائیوں میں۔ یہ تعلقات بنیادی طور پر ’لین دین‘ کی نوعیت کے رہے ہیں جن میں امریکہ نے پاکستان کے ساتھ مخصوص امور، جیسے کہ سکیورٹی، انڈیا یا افغانستان پر ہی رابطہ رکھا۔ تاہم، عوامی سطح پر روابط کا سلسلہ جاری رہا، اگرچہ بعض اوقات حکومتوں کے مابین تعلقات کے اونچ نیچ نے ان پر بھی اثر ڈالا۔

برسوں کی باہمی سرد مہری کے بعد 2025 میں تعلقات میں بہتری (یا برف پگھلنے) کا عمل دیکھنے میں آیا۔ تعلقات کی اس نئی تشکیل کا باعث بننے والے عوامل اور اس کے پائیدار رہنے کے امکانات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے، یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ امریکہ بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ خود کو کس طرح ہم آہنگ کر رہا ہے۔

اس صدی کے آغاز تک، امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور کے طور پر ابھر چکا تھا۔ چین ترقی کر رہا تھا لیکن ابھی اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ امریکہ کی بالادستی کو چیلنج کر سکے۔ تاہم، چند ہی برسوں میں طاقت کے کئی دیگر مراکز ابھر کر سامنے آئے جبکہ امریکہ طویل اور دور دراز کی جنگوں میں الجھ گیا۔

امریکہ اور کئی ابھرتی ہوئی طاقتوں نے اپنے مخالفین کے خلاف یکطرفہ طور پر اور بعض اوقات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے طاقت کا استعمال شروع کر دیا۔ یوں، ایک دوسرے کی خودمختاری کے احترام پر مبنی عالمی نظام بکھرنے لگا۔

آج کی دنیا زیادہ عسکری اور تجارت میں تحفظ پسند ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ جیسے کثیر الجہتی اداروں کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔ انتہا پسندانہ قوم پرستی نے کئی معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ عوامی مقبولیت کے دعویدار رہنما (پاپولسٹ لیڈرز) نسلی، لسانی، رنگ و نسل، عقیدے یا تارکینِ وطن کی حیثیت کی بنیاد پر نفرت پھیلا رہے ہیں۔ عالمی کشمکش کے کئی محاذ سامنے آئے ہیں اور امریکہ تقریباً ان سب میں ملوث ہے۔

اس ہنگامہ خیز اور پیچیدہ دنیا میں ٹرمپ انتظامیہ کی دوسری مدتِ صدارت کا آغاز ہوا۔ صدر ٹرمپ کا ماننا ہے کہ عالمگیریت (گلوبلائزیشن) نے امریکی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے تجارتی محصولات کی جنگوں (ٹیرف وارز) میں حصہ لیا، یورپیوں کو اپنے دفاع پر زیادہ خرچ کرنے کا مشورہ دیا اور مغربی نصف کرہ کو اپنے ملک کی اولین ترجیح قرار دیا۔ ملکی سطح پر، ٹرمپ غیر قانونی تارکینِ وطن کے مخالف ہیں اور ملک کے بنیادی ڈھانچے اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں کو دوبارہ فعال کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے ناقدین انہیں خود پسند اور سفید فام بالادستی کا حامی قرار دیتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے دنیا، بشمول جنوبی ایشیا، پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ امریکہ اور انڈیا کے تعلقات میں کئی وجوہات کی بنا پر شدید گراوٹ آئی ہے، ان وجوہات میں 10 مئی 2025 کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کروانے میں امریکہ کے کردار کو تسلیم کرنے سے انڈیا کی ہچکچاہٹ، امریکی پابندیوں کو نظر انداز کر کے روسی تیل کی خریداری اور چین کے خلاف توازن قائم کرنے کے لیے امریکہ کا شراکت دار ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود چین کے ساتھ انڈیا کے مسلسل تعلقات شامل ہیں۔

اب یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا انڈیا چین کے مقابلے میں ایک مؤثر قوت (کاؤنٹر ویٹ) بن سکتا ہے یا جنوبی ایشیا میں 'کلیدی سکیورٹی فراہم کنندہ' کا کردار ادا کر بھی سکتا ہے یا نہیں۔

جہاں تک امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کا تعلق ہے، 2025 کے آغاز سے ہی ان میں ایک نئی شروعات (ری سیٹ) نظر آئی ہے۔ فروری میں، ٹرمپ انتظامیہ نے ایف-16 پروگرام کے لیے فنڈز جاری کیے۔ اگلے مہینے، صدر ٹرمپ نے امریکی کانگریس سے اپنے 'سٹیٹ آف دی یونین' خطاب میں پاکستان کا شکریہ ادا کیا؛ یہ شکریہ افغانستان سے امریکی انخلا کے موقع پر کابل میں ہونے والے بم دھماکے کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری پر ادا کیا گیا تھا۔

مئی میں امریکہ نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان عسکری کشیدگی کے خاتمے اور جنگ بندی کے لیے ثالثی کی، پاکستان نے اس امریکی کردار کا اعتراف کیا لیکن انڈیا نے اس کی تردید کی۔ بعد ازاں، سینٹ کام  کے سربراہ جنرل کوریلا نے امریکی کانگریس کے سامنے پاکستان کو ’انسدادِ دہشت گردی کی دنیا میں ایک شان دار شراکت دار‘ قرار دیا۔ جون میں، صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں پاکستان کے آرمی چیف کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا۔ اور اگست میں، امریکہ نے بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ سال کا اختتام ایف 16طیاروں کی دیکھ بھال کے لیے مزید 686 ملین امریکی ڈالر کی فراہمی پر ہوا۔

اس کے جواب میں پاکستان نے جنوبی ایشیا میں جنگ بندی کے قیام میں مثبت کردار ادا کرنے پر صدر ٹرمپ کو نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا۔ یہ خوش گوار تعلقات کا سلسلہ 2026 میں بھی جاری رہا کیونکہ پاکستان خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے ثالثی کی غرض سے امریکہ اور ایران کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک تزویراتی نظرِ ثانی کے تحت، دونوں ممالک اب مضبوط عسکری اور انٹیلی جنس تعاون برقرار رکھے ہوئے ہیں اور توانائی، زراعت، نئی ٹیکنالوجیز اور اہم معدنیات کے حصول جیسے شعبوں میں اقتصادی و تجارتی تعلقات اور تعاون کو وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تعلقات میں یہ حالیہ بہتری محض کسی خاص مقصد یا سودے بازی پر مبنی ہے؟ غالب امکان یہ ہی ہے کہ ایسا ہی ہے۔ تاہم، امریکی نظام میں اس رجحان کو ادارہ جاتی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے کہ دوطرفہ تعلقات کا ایجنڈا صرف سکیورٹی کے معاملات تک محدود نہیں ہے بلکہ باہمی تعاون کے کئی دیگر ممکنہ شعبوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

کیا تعلقات کی اس نئی شروعات (reset) کا اثر پاکستان کے باقی دنیا کے ساتھ تعلقات پر پڑے گا؟ غالباً نہیں۔ واشنگٹن، بیجنگ کے ساتھ اسلام آباد کے تعلقات کی نوعیت اور وسعت سے بخوبی آگاہ ہے۔ ویسے بھی، چین کو امریکہ کے ساتھ پاکستان کے خوش گوار تعلقات پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ مزید برآں، چونکہ عالمی اتحاد اور صف بندیاں ہمیشہ تبدیل ہوتی رہتی ہیں، اس لیے ہر ملک کے پاس اپنے قومی مفاد کی بنیاد پر دیگر طاقتوں کے ساتھ تعاون کرنے کی کافی گنجائش موجود ہے۔

دریں اثنا، انڈیا امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بہتری اور پاکستان کو تنہا کرنے میں اپنی ناکامی پر پریشان ہے۔ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے، امریکہ نے ابھی تک وہاں دوبارہ دلچسپی لینے کے کوئی آثار ظاہر نہیں کیے ہیں، حالانکہ متعدد دہشت گرد تنظیموں نے ایک بار پھر افغانستان کو اپنا مرکز بنا لیا ہے۔ امریکہ پاکستان پر فارسی ثقافت اور زبان کے اثرات سے بھی واقف ہے اور ایران کے ساتھ امن کے قیام کے لیے اسے ایک مثبت ذریعے (leverage) کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

اب یہ پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کی اس نئی شروعات کو ایک منظم اور باقاعدہ رابطے کے قیام کے لیے کیسے استعمال کرتا ہے، چاہے اس کی بنیاد سودے بازی (transactional) ہی کیوں نہ ہو۔ یہاں قریبی تعاون کے لیے آٹھ امید افزا شعبوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے:

•       اول، امریکی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کے لیے زیادہ حصہ۔

•       دوم، پاکستان کے نوجوانان اور ٹیکنالوجی سے باخبر کاروباری افراد (entrepreneurs)، ی ٹی برآمدات، سٹارٹ اپس، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل رجحان اور ای کامرس کے لیے روشن امکانات۔ اپنی جانب سے، پاکستان کو ضابطہ کار کی رکاوٹوں، بنیادی ڈھانچے کے مسائل اور وینچر کیپیٹل کی سرمایہ کاری جیسے امور پر توجہ دینے کی ضرورت ہوگی۔

•       سوم: امریکی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کرنا کہ وہ پاکستان کے ’شیل آئل‘ (shale oil) کے امکانات اور معدنیات کے شعبے—خاص طور پر لیتھیم، نایاب زمینی عناصر (rare earth elements) اور تانبے—میں سرمایہ کاری کریں؛ یہ تمام چیزیں سیمی کنڈکٹر انڈسٹری، دفاعی ٹیکنالوجی اور روبوٹکس وغیرہ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

•       چہارم: دفاع، سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبوں میں باہمی تعاون کو بڑھانا، جس میں انٹیلی جنس کا تبادلہ، سرحدی انتظام، مشترکہ مشقیں اور تربیتی پروگرام شامل ہیں۔

•       پنجم: ’پاکستان کرپٹو کونسل‘کی سرپرستی میں کرپٹو کے شعبے میں تعاون؛ یہ کونسل ایک ریگولیٹری ادارہ ہے جس کا مقصد پاکستان میں بلاک چین ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اثاثوں کو فروغ دینا ہے۔

•       ششم: زراعت کا شعبہ 1950 کی دہائی سے جاری پاک-امریکہ تعاون کی ایک مثبت میراث ہے۔ امریکہ ٹیکنالوجی تک رسائی، کسانوں کی صلاحیتوں میں اضافے، کھاد اور پانی کے موثر استعمال اور منڈیوں تک بہتر رسائی کے معاملات میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔

•       ہفتم: تعلیم اور عوامی صحت کے شعبوں میں تعاون کا تسلسل۔

•       ہشتم: امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی دونوں ممالک کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتی ہے۔

آج کے پاکستان کو امریکہ ایک ایسی باصلاحیت اور پراعتماد قوت کے طور پر دیکھ رہا ہے جو علاقائی امن، استحکام اور ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم، خطے کی جغرافیائی سیاست کے پیشِ نظر، یہ موقع شاید ایک محدود مدت کے لیے ہی دستیاب ہو۔ چین کے ساتھ پاکستان کے کلیدی تعلقات کا تحفظ کرتے ہوئے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا مفید ثابت ہوگا۔

مصنف امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر ہیں اور اس وقت صنوبر انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

یہ تحریر ان کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ