پانچ سال میں امریکہ کے ساتھ تجارت 20 ارب ڈالر تک بڑھانا چاہتے ہیں: اسحاق ڈار

اسلام آباد میں منعقد تقریب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ اس مقصد کے لیے اقتصادی تعاون کو فروغ دیا جائے گا اور مزید امریکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جائے گا۔

اسحاق ڈار 28 جولائی 2026 کو اسلام آباد میں امریکی کانگریس کے وفد سے خطاب کر رہے ہیں (وزارت خارجہ)

نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کو امریکی کانگریس کے اراکین کے ایک وفد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آئندہ پانچ سال میں امریکہ کے ساتھ اپنی دوطرفہ تجارت کو بڑھا کر 20 ارب ڈالر تک لے جانا چاہتا ہے۔

اسلام آباد میں منعقد تقریب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ اس مقصد کے لیے اقتصادی تعاون کو فروغ دیا جائے گا اور مزید امریکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جائے گا۔

اسحاق ڈار نے پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مقام کے پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں معاشی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں، ساختی اصلاحات جاری ہیں اور مصنوعی ذہانت، اہم معدنیات، توانائی، مینوفیکچرنگ اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں وسیع مواقع موجود ہیں۔

انہوں نے کہا: ’گذشتہ مالی سال کے دوران پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارت 9.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ اگرچہ یہ ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے، لیکن ہمیں یقین ہے کہ ہم اپنی معیشتوں کی تکمیلی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے آئندہ پانچ سال میں اس تجارت کو دگنا کر کے 20 ارب ڈالر تک لے جا سکتے ہیں۔‘

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان، عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے گذشتہ سال بیل آؤٹ پیکیج حاصل کرنے کے بعد معاشی استحکام کے آثار کے ساتھ، امریکہ کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کے دوسری بار امریکی صدر بننے کے بعد پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان نے امریکہ و ایران کی جنگ رکوانے کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا ہے اور پاکستان کی ثالثی پر مبنی کوششوں کے نتیجے میں ہی ایک مفاہمتی یادداشت پر دونوں ملکوں نے دستخط کیے ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ’منصفانہ، متوازن اور باہمی فائدے پر مبنی تجارت‘ پر یقین رکھتا ہے، جو دونوں معیشتوں کے لیے قدر پیدا کرے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان امریکہ سے کپاس اور سویا بین درآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، جبکہ امریکی توانائی مصنوعات کے لیے بھی ایک اہم منڈی کے طور پر ابھر رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ اس وقت 80 سے زائد امریکی کمپنیاں پاکستان میں کام کر رہی ہیں، جو ملک کی منڈی اور طویل المدتی معاشی امکانات پر اعتماد کی عکاسی کرتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: ’مجھے خاص طور پر خوشی ہے کہ معروف امریکی کمپنیاں پاکستان کے ٹیکنالوجی، اہم معدنیات، توانائی اور دفاعی شعبوں میں مواقع تلاش کر رہی ہیں۔ یہ بڑھتی ہوئی دلچسپی پاکستان کے بہتر ہوتے معاشی منظرنامے اور طویل المدتی سرمایہ کاری کے امکانات پر اعتماد کا اظہار ہے۔‘

اسحاق ڈار نے سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ حکومت کے سپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل کے پلیٹ فارم سے استفادہ کریں، جو ایک ون ونڈو نظام کے تحت منظوری کے عمل کو آسان بنانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو سہولت دینے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا: ’ہم نے ضابطہ جاتی طریقہ کار کو آسان بنایا ہے، بیوروکریسی کی رکاوٹیں کم کی ہیں، لائسنسنگ کے تقاضوں کو سادہ بنایا ہے، منظوری کے اوقات کو کم کیا ہے اور شفافیت کو بہتر بنایا ہے تاکہ سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔‘

اسحاق ڈار نے امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی جانب سے ریکو ڈک کی تانبے اور سونے کی کان کنی منصوبے کے لیے 1.25 ارب ڈالر کی فنانسنگ کا بھی خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ پاکستان کے معاشی مستقبل پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے اور مزید امریکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرے گا۔

معاشی ایجنڈے کے ساتھ ساتھ، انہوں نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو مضبوط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ سطح کے رابطوں میں اضافہ اور علاقائی امور پر تعاون میں توسیع اس کی واضح مثال ہے۔

انہوں نے مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مختصر مگر شدید فوجی کشیدگی کے بعد جنگ بندی میں کردار ادا کرنے پر واشنگٹن کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ پاکستان پائیدار امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ہی واحد راستہ سمجھتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی