10 دسمبر 2025 کو آسٹریلیا 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا تھا۔ اس روز جب آسٹریلوی بچوں نے اپنے فون پر سوشل میڈیا ایپس کھولیں تو انہیں پلیٹ فارمز کی جانب سے نوٹیفکیشن ملے کہ وہ آسٹریلوی قانون کے تحت سوشل میڈیا استعمال نہیں کر سکتے۔
آسٹریلوی حکومت کے مطابق اس پابندی سے سوشل میڈیا کے ایسے ’ڈیزائن فیچرز‘ کے منفی اثرات کم ہوں گے جو نوجوانوں کو سکرین پر زیادہ وقت گزارنے کی ترغیب دیتے ہیں اور انہیں ایسا مواد دکھاتے ہیں جو ان کی صحت اور ذہنی و جسمانی بہبود کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
آسٹریلیا کے بعد دنیا کے کئی ممالک نے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لیے قانون سازی اور دیگر اقدامات پر غور و فکر شروع کر دی تھی۔ اب تک آسٹریلیا کے علاوہ برازیل، چین، انڈونیشیا، ملائیشیا، متحدہ عرب امارات اور ویت نام اپنے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔
ان میں سے زیادہ تر ممالک نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی ہے۔ برازیل اور ویت نام میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے کے لیے والدین کی اجازت ضروری ہے جبکہ چین میں عمر کے مختلف گروپس کے لیے الگ الگ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
یورپی یونین جمعرات کو 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا، ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارمز، اے آئی چیٹ بوٹس اور آن لائن گیمز کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی تجویز پیش کرنے جا رہی ہے۔
اس تجویز کے تحت 15 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس خود بنا سکیں گے جبکہ 13 اور 14 سال کی عمر کے بچے والدین کی اجازت سے سوشل میڈیا اور ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹس بنا سکیں گے۔ یہ اکاؤنٹس والدین کے کنٹرول میں ہوں گے اور ان میں رابطوں کی تعداد اور استعمال کے وقت پر سخت پابندیاں عائد ہوں گی۔
گذشتہ ماہ فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے امریکی وفاقی بچوں کی رازداری کے قوانین اور ریاستی صارفین کے تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی پر مالی جرمانہ ادا کرنے پر اتفاق کیا۔ کمپنی پر بچوں کا ڈیٹا جمع کرنے اور انہیں اپنے ڈیزائن فیچرز کی مدد سے پلیٹ فارم پر مصروف رکھنے کا الزام تھا۔
میٹا نے کہا کہ وہ نوعمروں کے لیے اپنے پلیٹ فارمز پر گزارے جانے والے وقت کو محدود کرنے پر کام کرے گا اور ایسی خصوصیات پر پابندی عائد کرے گا جو ذہنی صحت کے مسائل کو بڑھا سکتی ہیں۔
دنیا بھر میں ان پابندیوں کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ کیا بچوں کے سوشل میڈیا اور اے آئی کے استعمال پر پابندی عائد کرنا درست ہے؟ کیا ایسی پابندیاں ان کے انسانی حقوق اور آزادیِ اظہار کے حق کی خلاف ورزی ہیں؟ کیا یہ اقدامات بچوں کو سوشل میڈیا اور اے آئی کے ممکنہ فوائد سے محروم کر دیں گے؟ ان پابندیوں کے بچوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ اور کیا بچوں کو آن لائن محفوظ رکھنا صرف والدین کی ذمہ داری ہے یا حکومتوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے؟
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بچوں کو محفوظ آن لائن ماحول فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان پلیٹ فارمز کے ڈیزائن اور الگورتھمز میں ایسی خصوصیات شامل ہیں جو صارفین کو زیادہ دیر تک مصروف رکھنے کے لیے بنائی گئی ہیں مثلاً لامتناہی سکرولنگ، ویڈیوز کا خودکار طور پر چلنا اور مسلسل نوٹیفکیشنز۔
اس کے علاوہ کئی پلیٹ فارمز روزانہ لاگ اِن اور مسلسل سرگرمی پر صارفین کو مختلف انداز میں انعام دیتے ہیں۔ اس نظام کا مقصد صارفین کو روزانہ پلیٹ فارم پر واپس لانا اور انہیں زیادہ سے زیادہ سرگرمیوں میں مصروف رکھنا ہوتا ہے۔
اس کی ایک نمایاں مثال اسنیپ چیٹ کا ’سٹریک‘ فیچر ہے۔ اس کے ذریعے صارفین کو اپنے دوستوں کے ساتھ سٹریک برقرار رکھنے کے لیے روزانہ ایک دوسرے کو سنیپ بھیجنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ جتنے زیادہ دن یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، سٹریک اتنی ہی طویل ہوتی جاتی ہے۔
بظاہر یہ فیچر دوستوں کے درمیان رابطے کو برقرار رکھنے اور قربت کا احساس پیدا کرتا ہے لیکن یہ پلیٹ فارم کی صارفین کو روزانہ واپس لانے اور انہیں وہاں مسلسل سرگرمی میں مشغول رکھنے کی ایک کوشش ہے۔
ساتھ ہی ساتھ کسی بھی لمحے تصویر لے کر اس پلیٹ فارم کی مدد سے اپنے دوستوں کو شئیر کرنا اس پلیٹ فارم کو اپنی زندگی کے متعلق بہت کچھ بتانا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کو نت نئے طریقے سے استعمال کرنا اور اس استعمال میں ماہر نظر آنا بھی نوجوانوں پر ایک دباو ڈال رہا ہے۔ نوجوان اپنی انسٹاگرام سٹوریز کو دوسروں سے زیادہ منفرد اور دلکش بنانے کے لیے گھنٹوں ایڈیٹنگ کرتے ہیں۔
اس کے لیے وہ مختلف ایپس کا استعمال کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر دوسروں کے بنائے ہوئے ٹیوٹوریلز دیکھتے ہیں اور پھر ان ٹیوٹوریلز کے مطابق اپنی سٹوری اور پوسٹ ایڈٹ کرنے میں گھنٹوں صرف کرتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت نے بچوں کے لیے خطرات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ اے آئی چیٹ بوٹس کے بچوں کو خطرناک مشورے دینے کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔ حالیہ گروک سکینڈل میں پتہ چلا کہ گروک کو کم عمر بچوں کی جنسی نوعیت کی ڈیپ فیک تصاویر تیار کرنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا تھا۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں بہت سے بچے سوشل میڈیا پر ’چائلڈ انفلوئنسر‘ کے طور پر بھی کام کر رہے ہیں۔ وہ اپنی روزمرہ زندگی، کھیل، تعلیم، مشاغل اور دیگر سرگرمیوں پر مبنی سوشل میڈیا مواد بناتے ہیں جسے اکثر ان کے والدین خود ریکارڈ، ایڈٹ اور سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرتے ہیں۔
بعض بچوں کے یہ اکاؤنٹس اس قدر مقبول ہیں کہ ان سے خاندان کے لیے قابلِ ذکر آمدنی بھی حاصل ہو رہی ہے اور بعض صورتوں میں اس آمدنی نے خاندانوں کی قسمت ہی بدل دی ہے۔
متعدد تحقیقات میں سوشل میڈیا کے زیادہ اور طویل استعمال کو نوعمروں میں بے چینی، ڈپریشن، خود کو نقصان پہنچانے اور کھانے سے متعلق عوارض کی بڑھتی ہوئی شرحوں سے جوڑا گیا ہے۔ سوشل میڈیا بچوں اور نوعمروں کو مسلسل دوسروں سے اپنا موازنہ کرنے پر بھی آمادہ کر سکتا ہے۔ فلٹرز اور دیگر مصنوعی طریقوں سے تبدیل کی گئی تصاویر ان کے لیے اپنے جسم اور شخصیت کے بارے میں منفی احساسات پیدا کر سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ، سوشل میڈیا نے بچوں کی نجی زندگی کو ایک ایسے عوامی ماحول میں تبدیل کر دیا ہے جہاں ان کی سرگرمیوں کو اجنبی لوگ بھی دیکھ سکتے ہیں، ان سے رابطہ کر سکتے ہیں اور بعض صورتوں میں انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ان ممکنہ نقصانات کے پیش نظر ان کمپنیوں کو جواب دہ ٹھہرانا، ان سے اپنے نظام میں بہتری لانے کا مطالبہ کرنا اور قانون کی خلاف ورزی پر جرمانے عائد کرنا ایک اہم قدم ہے۔ تاہم، یہ جواب دہی صرف طاقتور اور مضبوط معیشت رکھنے والے ممالک تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ عالمی جنوب کے ممالک میں ان پلیٹ فارمز کے استعمال سے پیدا ہونے والے نقصانات پر بھی کمپنیوں سے جواب طلب کیا جانا چاہیے۔
ان ممالک کی جانب سے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی تجاویز کو جہاں بہت سے والدین تحفظ کے ایک ضروری اقدام کے طور پر دیکھ رہے ہیں، وہیں پرائیویسی کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان پابندیوں کے ممکنہ اثرات پر خدشات کا اظہار کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عمر کی تصدیق کے لیے بنائے گئے نظام سوشل میڈیا کمپنیوں کو بچوں اور ان کے خاندانوں سے متعلق حساس معلومات جمع کرنے کا موقع دے سکتے ہیں جو خود رازداری اور تحفظ کے لیے ایک نیا خطرہ بن سکتا ہے۔ نیز بچوں کو سوشل میڈیا سے مکمل طور پر دور رکھنے کی کوشش انہیں اظہارِ رائے، معلومات تک رسائی اور دوسروں کے ساتھ رابطے کے مواقع سے محروم کر سکتی ہے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہمیں مل بیٹھ کر یہ طے کرنے کی ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے نقصانات کو کم کرتے ہوئے ان کے فوائد سے کیسے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ لوگوں، خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کو ان پلیٹ فارمز سے مکمل طور پر دور رکھنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوگا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو جواب دہ بنایا جائے، مؤثر قوانین وضع کیے جائیں اور ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر سطح پر لوگوں کو سوشل میڈیا کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کے بارے میں تعلیم دی جائے۔ اسی طرح ہم لوگوں کو ان پلیٹ فارمز کے خطرات سے بچاتے ہوئے ان کے فوائد سے استفادہ کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔