ایک پاکستانی شہری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ حکومت کو 16 سال سے کم عمر بچوں اور نوعمروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے یا چلانے سے روکنے کے لیے قانون سازی کی ہدایت کی جائے۔
درخواست گزار کے وکیل نے اتوار کو بتایا کہ اس اقدام کا مقصد سائبر بُلنگ، جنسی استحصال اور نقصان دہ مواد تک رسائی جیسے خطرات سے بچوں کو محفوظ رکھنا ہے۔
یہ درخواست ایسے وقت میں دائر کی گئی ہے جب پاکستان میں سوشل میڈیا کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
ڈیجیٹل انٹیلی جنس فرم ڈیٹا ریپورٹل کے اندازے کے مطابق پاکستان میں 11 کروڑ 70 لاکھ انٹرنیٹ صارفین اور سات کروڑ 99 لاکھ فعال سوشل میڈیا صارفین کے اکاؤنٹس موجود ہیں، جو ملک کی مجموعی آبادی کا 31.2 فیصد بنتی ہیں۔
بچے اور نوجوان ملکی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی 11 فیصد سے زائد آبادی کی عمر 13 سے 17 سال کے درمیان ہے جبکہ ملک میں اوسط عمر تقریباً 20.6 سال ہے۔
وکیل جلال حیدر، یحییٰ فرید خواجہ اور محمد ذیشان علی نے وقاص ناصر کی جانب سے درخواست دائر کی ہے، جس میں 16 سال سے کم عمر افراد کے سوشل میڈیا استعمال پر آسٹریلیا کی پابندیوں کو بطور مثال پیش کرتے ہوئے بچوں اور نوعمروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے لیے عمر کی تصدیق کا طریقہ کار متعارف کرانے کی استدعا کی گئی ہے۔
حیدر نے کہا ’بنیادی طور پر ہم نے آسٹریلیا کے قانون کو مثال کے طور پر پیش کیا ہے، جہاں انہوں نے 2024 میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر سے متعلق قوانین متعارف کرائے۔
’ان قوانین کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے۔‘
انہوں نے کہا ’پاکستان میں اگر مثال کے طور پر ٹک ٹاک کو دیکھیں تو یہاں 10 لاکھ صارفین میں سے شاید نصف کی عمر 16 سال سے کم ہے۔
’اس لیے اس معاملے کو ریگولیٹ کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بچے اس کے عادی ہو گئے ہیں۔‘
حیدر نے کہا کہ بچوں کے سوشل میڈیا سے بڑے پیمانے پر متاثر ہونے کے باعث ریاستی سطح پر ضابطہ کاری ضروری ہو گئی ہے۔
وکیل نے کہا ’سائبر بُلنگ، جنسی استحصال اور نقصان دہ مواد جیسے مسائل پیدا ہو چکے ہیں جبکہ 16 سال سے کم عمر بچے خود وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے رجوع نہیں کر سکتے۔‘
حیدر کے مطابق درخواست میں ’پیرنس پیٹریا‘ کے قانونی اصول کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے تحت ریاست نابالغوں کے تحفظ کے لیے سرپرست کا کردار ادا کرتی ہے۔
درخواست میں بنیادی زور والدین پر مکمل انحصار کی بجائے ٹیکنالوجی کے ذریعے عمر کی تصدیق کے نظام پر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا ’ہم نے والدین کے کنٹرول پر بھی زور دیا ہے، لیکن ہماری زیادہ توجہ عمر کی تصدیق کے طریقہ کار پر ہے۔‘
انہوں نے کہا ’پی ٹی اے اور نادرا کو مشترکہ طور پر ایسا نظام وضع کرنا چاہیے جس سے معلوم ہو سکے کہ صارف کی عمر 16 سال سے کم ہے یا نہیں تاکہ ایسے صارف کا اکاؤنٹ بنایا یا چلایا ہی نہ جا سکے۔‘
مجوزہ اقدام میں خاندانوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، دونوں پر ذمہ داریاں عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
حیدر نے کہا ’ہم نے والدین کو بھی سزا دینے کی بات کی ہے اگر وہ 16 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت دیں۔
’دوسری جانب سوشل میڈیا ایپس کو بھی پابند کیا جائے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز کو پاکستانی قوانین سے ہم آہنگ کریں۔‘
پلیٹ فارمز کی جانب سے مواد اور کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی اور مقامی سطح پر بڑی تعداد میں مواد اور نابالغوں کے اکاؤنٹس حذف کیے جاتے ہیں۔
ٹک ٹاک پاکستان میں کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر ہر سہ ماہی میں کروڑوں ویڈیوز حذف کرتا ہے جبکہ عالمی سطح پر کم از کم 13 سال کی عمر کی شرط پوری نہ کرنے والے مشتبہ صارفین کے دو کروڑ سے زائد اکاؤنٹس ہر سہ ماہی میں ہٹا دیے جاتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
صحت عامہ سے متعلق تحقیقات بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال پر بڑھتی ہوئی عالمی تشویش کو اجاگر کرتی ہیں۔
امریکی سرجن جنرل کی ایک ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ جو نوعمر افراد روزانہ تین گھنٹے سے زیادہ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، ان میں ڈپریشن اور اضطراب کی علامات کا سامنا کرنے کا خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے۔
امریکی نفسیاتی ایسوسی ایشن بھی نوجوانوں کو خود کو نقصان پہنچانے، سائبر بُلنگ اور جنسی نوعیت کے مواد سے محدود رکھنے کی سفارش کرتی ہے اور اس کی وجہ نابالغوں میں موجود زیادہ حساسیت کو قرار دیتی ہے۔
آسٹریلیا نے 2024 میں ’آن لائن سیفٹی ترمیمی قانون (سوشل میڈیا کم از کم عمر)‘ منظور کیا، جس کے تحت سوشل میڈیا استعمال کرنے کے لیے قانونی عمر 16 سال مقرر کی گئی۔
حیدر نے کہا کہ درخواست کا مقصد ملک بھر میں قانون سازی کرانا ہے۔
انہوں نے کہا ’ہم نے وفاقی حکومت اور وفاق پاکستان کو فریق بنایا ہے تاکہ وفاقی قانون بنایا جائے۔ ایک مرتبہ یہ قانون منظور ہو جائے تو وہ قدرتی طور پر پورے پاکستان میں نافذ العمل ہوگا۔‘