گلگت بلتستان کے ضلع شگر میں واقع 7027 میٹر بلند سپانتک چوٹی پر خراب موسم کے باعث ڈاکٹر اسما مشتاق کی لاش نکالنے کی کوششوں میں مشکلات کے بعد ہیلی کاپٹر کے استعمال کی منظوری دے دی گئی ہے جبکہ گلگت بلتستان حکومت اور فورس کمانڈ ناردرن ایریاز کے درمیان رابطہ قائم کیا جا چکا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اتوار کو بتایا ’شدید برف باری اور تیز ہواؤں کے باعث ریکوری ٹیم کو کیمپ تھری کے قریب سے واپس کیمپ ٹو آنا پڑا۔ تاہم لاش کی بازیابی کے لیے متبادل انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں اور موجودہ حالات میں جو کچھ ممکن ہوا وہ کیا جائے گا۔‘
اپنے ایکس اکاؤنٹ پر انہوں نے مزید کہا وزیراعظم شہباز شریف کو صورتحال سے مسلسل آگاہ رکھا جا رہا ہے۔
سپانتک چوٹی پر ڈاکٹر اسما کی لاش نکالنے کی کوشش شدید برف باری اور تیز ہواؤں کے باعث روک دی گئی تھی۔
اسما جمعرات کو سپانتک، جسے گولڈن پیک بھی کہا جاتا ہے، کی چوٹی سے واپسی کے دوران تقریباً 6250 میٹر کی بلندی پر ہائی ایلٹیٹیوڈ سکنیس کے باعث جان کی بازی ہار گئی تھیں۔
ان کی لاش اس وقت کیمپ تھری کے قریب موجود ہے جبکہ ریسکیو اور ریکوری ٹیم خراب موسم کے باعث وہاں تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ ہائی ایلٹیٹیوڈ پورٹرز کی ٹیم ڈاکٹر اسما کی لاش کو کیمپ تھری سے بیس کیمپ منتقل کرنے کے لیے روانہ ہوئی تھی۔
الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق سرچ اور ریسکیو سرگرمیاں فی الحال سرکاری وسائل اور متعلقہ اداروں کی مدد پر انحصار کرتی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
الپائن کلب آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ایاز شگری نے ہفتے کو جاری بیان میں بتایا تھا کہ مختلف ٹیموں سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما ڈاکٹر اسما کی لاش نکالنے کے لیے آپریشن میں شریک ہیں اور یہ کارروائی ان کی اپنی ایکسپیڈیشن کمپنی کی نگرانی میں متعلقہ حکومتی اداروں اور الپائن کلب کے تعاون سے جاری ہے۔
کلب نے اس معاملے میں غلط معلومات پھیلانے سے گریز کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر اسما کی موت کے حالات اور ایکسپیڈیشن کمپنی کے کردار کی تحقیقات ریسکیو ٹیموں کی محفوظ واپسی اور لاش کی بازیابی کے بعد کی جائیں گی۔
ڈاکٹر اسما کا تعلق لاہور سے تھا اور وہ برطانیہ میں زچگی اور امراضِ نسواں کی ڈاکٹر کے طور پر کام کر رہی تھیں۔ وہ کوہ پیمائی اور سفر کی شوقین تھیں اور اپنی مہمات کو سوشل میڈیا پر بھی دستاویزی شکل دیتی تھیں۔
الپائن کلب آف پاکستان نے ریکوری آپریشن کی ترجیحات واضح کرتے ہوئے کہا ’اس وقت ہماری ترجیح ڈاکٹر اسما کی لاش کی محفوظ اور باوقار انداز میں بازیابی ہے۔‘