پاکستانی امدادی ٹیموں نے دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں سے ایک پر طاقت ور برفانی تودہ گرنے کے بعد لاپتہ ہونے والے سات کوہ پیماؤں کی بلندی پر ہفتے کو تلاش دوبارہ شروع کر دی۔ اب تک تین کوہ پیماؤں کی لاشیں مل چکی ہیں۔
برفانی تودہ جمعرات کو گرا، جس کے بعد معروف برطانوی نیپالی کوہ پیما نرمل پُرجا کی قیادت میں 10 رکنی بین الاقوامی مہم سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ اب تک ملنے والی لاشوں میں نرمل پُرجا کی لاش شامل نہیں۔
گلگت بلتستان حکومت نے جمعے کی رات جاری بیان میں بتایا کہ ملنے والی لاشوں میں ایک امریکی خاتون، ایک عمانی خاتون اور ایک نیپالی مرد شامل ہیں۔ لاشوں کو باقاعدہ شناخت کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پہاڑی شمالی علاقے گلگت بلتستان کی پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ بلندی پر کام کرنے والے مقامی باربرداروں اور امدادی ٹیموں نے ہفتے کو تلاش کے آپریشن کے دوسرے دن کا آغاز کیا۔ جمعے کو خراب موسم کے باعث تلاش روک دی گئی تھی۔
گلگت بلتستان حکومت کے مطابق امدادی کارکن اور فوجی ہیلی کاپٹر علاقے میں تلاش کرتے رہے، جب کہ ٹیموں نے رات بیس کیمپ میں گزاری۔
بیان میں کہا گیا، ’امدادی ٹیم نے بتایا ہے کہ ڈرون سے بنائی گئی ویڈیو میں کوہ پیماؤں کی چند مزید لاشیں نظر آئی ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’پاکستانی فوج مقامی بلند پہاڑوں پر چڑھنے والے کوہ پیماؤں اور امدادی کارکنوں کے ساتھ مل کر انتہائی دشوار گزار علاقے اور بلندی پر سخت موسمی حالات میں امدادی کارروائی کر رہی ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
طاقت ور برفانی تودہ
گلگت بلتستان حکام کے مطابق جمعرات کو کوہ پیما 8,047 میٹر بلند براڈ پیک سر کرنے کی مہم پر تھے۔ ٹیم تقریبا 6,600 میٹر کی بلندی پر چڑھ رہی تھی کہ برفانی تودہ آ گرا۔
اس 10 رکنی مہم میں نرمل پرجا، پانچ نیپالی، ایک پاکستانی، ایک عمانی، ایک امریکی اور چین سے تعلق رکھنے والا ایک کوہ پیما شامل تھے۔
سرکاری بیان کے مطابق ٹیم سے آخری رابطہ جمعرات کی صبح ہوا تھا، جبکہ اسی شام طاقت ور برفانی تودہ گرنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
پاکستان الپائن کلب کی نائلہ کیانی نے فرانس کے اخبار لا موند کو بتایا کہ ’ان کے ٹریکنگ آلات سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پہاڑی ڈھلوان پر سینکڑوں میٹر نیچے جا گرے۔‘