پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ پیر سے چار روزہ دورے پر برطانیہ روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ صومالی قزاقوں کے زیرِ حراست پاکستانی عملے کے ارکان سے متعلق بھی بات کریں گے۔
دفتر خارجہ پاکستان کی جانب سے اتوار کو جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار 24 سے 28 اگست 2026 تک برطانیہ کا سرکاری دورہ کریں گے۔
بیان کے مطابق اس دورے کے دوارن اسحاق ڈار برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ اور پاکستان کے لیے ایف سی ڈی او کے وزیرِ مملکت سٹیفن ڈوٹی سمیت برطانوی حکومت کے دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔
اسحاق ڈار جہاں دیگر اعلیٰ شخصیات سے ملاقاتیں کریں وہیں ان کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل سے بھی ملاقات ہونی ہے جس میں وہ ایم ٹی آنر 25 نامی آئل ٹینکر پر صومالی قزاقوں کے زیرِ حراست پاکستانی عملے کے ارکان کا معاملہ بھی اٹھائیں گے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
21 اپریل کو صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں نے ’ایم ٹی آنر 25‘ نامی آئل ٹینکر کو اغوا کر لیا تھا، جس پر سوار 17 رکنی عملے میں 10 پاکستانی شہری بھی شامل تھے، جنہیں قزاقوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔
قزاقوں کی قید میں موجود پاکستانی افراد کے اہلِ خانہ کراچی میں احتجاج بھی کر چکے ہیں اور حکومتِ پاکستان سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
اس حوالے سے یکم جون کو قزاقوں کی جانب سے ایک نئی ویڈیو جاری کی گئی تھی جس میں یاسر حسین سمیت دیگر پاکستانی شہریوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں تمام یرغمالی بظاہر نڈھال دکھائی دے رہے تھے۔
اس ویڈیو میں ان پاکستانیوں نے وزیراعظم، صدر مملکت اور آرمی چیف سے اپیل کی تھی کہ ان کی جلد از جلد رہائی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
انڈپینڈنٹ اردو نے اس حوالے سے پاکستانی دفتر خارجہ سے رابطہ کیا تھا جس پر ان کا کہنا تھا کہ صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی جلد رہائی کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے دورہ برطانیہ کے حوالے سے دفتر خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ وہ کامن ویلتھ کی سیکریٹری جنرل شرلی ایورکور بوچوے سے بھی ملاقات کریں گے۔
جبکہ اسحاق ڈار برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ اور برطانوی پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔