ایران نے ہفتے کو خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک امریکہ کی جانب سے اسلامی جمہوریہ کے خلاف شروع کی گئی ’معاشی جنگ‘ میں شامل ہوگا اسے دشمن تصور کیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اتحادی ممالک پر ایرانی معیشت کو تنہا کرنے کی نئی مہم میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر کہا، ’ہم تمام ممالک سے کہتے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی معاشی جنگ میں شامل نہ ہوں۔ جو بھی ملک ہمارے خلاف معاشی پابندیاں عائد کرنے میں حصہ لے گا، اسے دشمن تصور کیا جائے گا۔‘
رضائی کے مطابق اگر متعلقہ ممالک امریکہ سے ’دوری اختیار‘ کرنے سے انکار کرتے ہیں تو ایران ان کے مفادات کو ’نقصان‘ پہنچائے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے پاس جنگ میں استعمال کرنے کے لیے مزید کئی راستے موجود ہیں اور دعویٰ کیا کہ ’ہم نے ابھی تک کسی امریکی معاشی مفاد کو نشانہ نہیں بنایا۔‘
رضائی نے دھمکی دیتے ہوئے کہا، ’اب تک ہم نے صرف فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، لیکن اگر وہ ہم پر معاشی پابندیاں عائد کرنا چاہتے ہیں تو ایران کے آس پاس اور دیگر مقامات پر امریکہ کی تیل اور معاشی کمپنیوں کو ہم نشانہ بنائیں گے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’کوئی کارروائی کی تو ہمارا مقابلہ زلزلے جیسا ہوگا۔‘
امریکہ نے دیگر حکومتوں، خصوصاً ایران کے اہم تزویراتی شراکت دار چین، سے بھی ایرانی معیشت کو تنہا کرنے کی کوششوں میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
تاہم چین نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی پابندیاں مشرق وسطیٰ کے تنازعے کو حل نہیں کریں گی۔
ایران کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شامل متحدہ عرب امارات نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ وہ تہران کے ساتھ تمام تجارتی اور مالی لین دین تاحکمِ ثانی معطل کر رہا ہے۔