پاکستان، سعودی عرب سمیت 12 ممالک کے وزرائے خارجہ نے شمال مغربی شام میں ابو الظہور فوجی ایئربیس پر اسرائیلی فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے شام کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی وحدت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جمعے کو جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شمال مغربی شام میں ابو الظہور فوجی ایئربیس کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملے انتہائی اشتعال انگیزی ہے اور پاکستان، سعودی عرب، ترکی، الجزائر، انڈونیشیا، اردن، لبنان، ملائیشیا، موریطانیہ، فلسطین، قطر اور صومالیہ کے وزرائے خارجہ نے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
مشترکہ بیان میں شام کے علاقے اور بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنانے اور نقصان پہنچانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
بیان کے مطابق اس طرح کی کارروائیوں سے شام میں سلامتی کی بحالی، قومی اداروں کی تعمیر نو اور کئی سال سے جاری تنازع کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی بحران سے نمٹنے کی کوششوں کو براہِ راست نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔
وزرائے خارجہ نے کہا کہ شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی اسرائیل کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیاں کشیدگی میں مزید اضافے، علاقائی امن و استحکام کو نقصان پہنچانے اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کے احترام کو کمزور کرنے کا خطرہ رکھتی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مشترکہ بیان میں عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ شام کے خلاف جاری جارحیت کے معاملے پر مضبوط، واضح اور اصولی مؤقف اختیار کرے۔
وزرائے خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ ان خلاف ورزیوں کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔
بیان میں 1974 کے جنگ بندی معاہدے کا مکمل احترام یقینی بنانے اور اسرائیلی فورسز کے ان علاقوں سے انخلا کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے جن پر انہوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات سے مزید کشیدگی کو روکا اور علاقائی امن و استحکام کا تحفظ کیا جا سکتا ہے۔
وزرائے خارجہ نے شام کی خودمختاری، آزادی، علاقائی سالمیت اور سیاسی وحدت کے احترام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے انہیں نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کر دیا۔