پاکستان نے شام کے صوبے ادلب میں واقع ابو الظہور ایئربیس پر اسرائیلی افواج کے بلااشتعال حملے کی بدھ کو شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اسرائیل نے منگل کو علی الصبح شمال مغربی شام میں ایک فضائی اڈے پر حملہ کیا، جس کا مقصد اس نے ترک فوجیوں کی وہاں ممکنہ تعیناتی کو روکنا قرار دیا تھا۔
پاکستانی دفتر خارجہ سے بدھ کو جاری بیان میں اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’اشتعال انگیز کارروائیاں بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں اور علاقائی امن و استحکام کو مزید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔‘
دفتر خارجہ کے بیان میں پاکستان نے برادر شامی عوام کے ساتھ اپنی غیرمتزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے شام کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، امن اور خوشحالی کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
پاکستان نے بین الاقوامی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ ’وہ اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی ان کارروائیوں پر اسے جوابدہ ٹھہرائے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حملے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل نے یہ حملہ اس لیے کیا کیونکہ شام ’سکیورٹی معاملات میں طے شدہ صورت حال‘ کی خلاف ورزی کے قریب تھا اور ترک فوجیوں کو وہاں تعینات کرنے کی اجازت دے رہا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل نے بارہا شام کو خبردار کیا تھا کہ ایسی تعیناتی اسرائیل کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہوگی، لیکن شام نے ان انتباہات کو نظرانداز کیا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق شامی حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والا ترکی شام کی فوج کو مختلف شعبوں میں معاونت فراہم کر رہا ہے، تاہم اسرائیل اور ترکی کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ دونوں ممالک پڑوسی ملک شام میں ایک دوسرے کے اثرورسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ادلب صوبے میں واقع ابو الظہور ایئربیس کے رن وے پر آٹھ حملے کیے گئے، جن سے نقصان پہنچا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے دمشق میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس کارروائی کو ’اسرائیلی جارحیت‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ بلاجواز اشتعال انگیزی، شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور علاقائی و عالمی استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔
دوسری جانب ترکی کی وزارت خارجہ نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ شام کے خلاف اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت روکنے اور بین الاقوامی قانون کو نظرانداز کرنے والی ان کارروائیوں پر جوابدہی یقینی بنانے کے لیے زیادہ فیصلہ کن مؤقف اختیار کرے۔