شام کے صدر احمد الشرع نے اتوار کو کرد زیر قیادت سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے سربراہ مظلوم عابدی کے ساتھ ایک معاہدے کا اعلان کیا جس میں شمال اور مشرق میں کردوں کے زیر قبضہ علاقوں میں حکومتی فورسز کی پیش قدمی کے بعد جنگ بندی بھی شامل ہے۔
امریکہ، جو برسوں سے شامی کرد جنگجوؤں کی حمایت کرتا رہا ہے لیکن اب دمشق کا ایک اہم اتحادی بھی ہے، نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا۔
امریکہ کے شام کے لیے ایلچی ٹام بارک نے اسے ’ایک اہم موڑ‘ قرار دیا اور دونوں فریقوں کی ’تعمیری کوششوں‘ کی تعریف کی۔
دمشق میں ٹام بارک سے ملاقات کے بعد احمد الشرع نے صحافیوں کو بتایا کہ ’میں مکمل جنگ بندی کی سفارش کرتا ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ خراب موسم کی وجہ سے عابدی کے ساتھ ملاقات پیر تک ملتوی کر دی گئی تھی لیکن ’صورت حال کو پرسکون کرنے کے لیے، ہم نے معاہدے پر دستخط کرنے کا فیصلہ کیا۔‘
انہوں نے کہا کہ تفصیلات کو پیر کو حتمی شکل دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ مارچ میں دستخط کیے گئے معاہدے کی ’روح‘ پر مبنی تھا۔
انہوں نے شام کے شمال اور مشرق میں کردوں کے زیر تسلط صوبوں رقہ اور دیر الزور میں آبادی کی اکثریت پر مشتمل عرب قبائل کو پرامن رہنے کا کہا تاکہ شام میں مکمل امن کے لیے معاہدے کی شقوں پر بتدریج عمل درآمد کی راہ ہموار کی جا سکے۔‘
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ ترقی اور تعمیر نو کے لیے ’ایک اچھی شروعات‘ اور ’سلامتی اور استحکام کا ایک موقع‘ اور ’یہ کہ شام اپنی تقسیم کی موجودہ حالت کو ختم کر کے اتحاد اور ترقی کی ریاست کی طرف گامزن ہو گا۔‘
معاہدے پر مظلوم عابدی اور کرد انتظامیہ نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
شامی ایوان صدر نے ’جنگ بندی اور مکمل انضمام کا معاہدہ‘ شائع کیا جس پر شرع اور عابدی نے دستخط کیے تھے۔
اس میں ’شام کی حکومتی افواج اور ایس ڈی ایف کے درمیان تمام محاذوں اور رابطے کے مقامات پر جامع اور فوری جنگ بندی‘ شامل ہے۔
معاہدے میں ایس ڈی ایف کے فوجی اور سکیورٹی ارکان کے ’انضمام‘ کو ’شامی دفاع اور داخلہ کی وزارتوں کے ڈھانچے میں انفرادی بنیادوں پر، ضروری حفاظتی جانچ پڑتال کرنے کے بعد‘ بھی طے کیا گیا ہے۔
دیگر نکات میں ’دیر الزور اور رقہ صوبوں کی مکمل اور فوری انتظامی اور فوجی حکومت کو شامی حکومت کے حوالے کرنے‘ اور کردوں کے گڑھ صوبہ حسکی میں ’تمام سول اداروں کا انضمام‘ کی شرط رکھی گئی ہے۔
اس میں داعش کے ’قیدیوں اور کیمپوں‘ کے لیے ذمہ دار کردوں کی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ ’ان تنصیبات کی حفاظت کے لیے ذمہ دار فورسز‘ کو شامی حکومت میں ضم کرنا شامل ہے، جو ’ان کے لیے مکمل قانونی اور حفاظتی ذمہ داری‘ لے گی۔
ایس ڈی ایف کی قیادت ’سینیئر فوجی، سکیورٹی اور سول عہدوں‘ کے لیے امیدواروں کو جمع کرائے گی، جب کہ الشرع کو ’حسکے گورنر کے عہدے پر امیدوار کی تقرری‘ کا حکم نامہ جاری کرنا ہے۔
یہ معاہدہ کردوں کی امیدوں کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے جو شام کی خانہ جنگی کے دوران بنائی گئی ڈی فیکٹو خودمختار انتظامیہ کے فوائد کو محفوظ رکھے گا، جس میں وہ ادارے بھی شامل ہیں جو شمال اور شمال مشرق کے حصوں کا نظم و نسق اور کنٹرول کرتے تھے۔
شام کے سرکاری میڈیا نے معاہدے کے اعلان کے بعد رقہ شہر سمیت کئی دوسرے علاقوں میں جشن کی اطلاع دی ہے۔
صوبہ دیر ایزور نے کہا کہ اتوار کے روز تمام سرکاری ادارے بند تھے اور لوگوں سے گھروں میں رہنے کی تاکید کی گئی۔
جرمنی کا دورہ ملتوی
جرمن حکومت کے ایک ترجمان نے اتوار کو اے ایف پی کو بتایا کہ شام کے صدر احمد الشرع نے اس ہفتے برلن کا پہلے سے طے دورہ منسوخ کر دیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ منگل کو ہونے والا یہ دورہ، جو شامیوں کی وطن واپسی کو تیز کرنے کے لیے جرمنی کی کوششوں پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے تھا، ’شام کی جانب سے ملتوی کر دیا گیا۔‘
بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد یہ ان کا جرمنی کا پہلا دورہ ہوتا جہاں ان کو چانسلر فریڈرک مرز اور صدر فرینک والٹر سٹین میئر سے ملاقاتیں کرنا تھیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جرمنی میں کرد اور علوی شامی کمیونٹیز کی نمائندگی کرنے والوں سمیت متعدد این جی اوز نے برلن سے الشرع کے دورے کو ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
احمد الشرح نے امریکہ اور فرانس سمیت متعدد ممالک غیر ملکی دورے کیے ہیں، جن کی وجہ سے شام پر سے بین الاقوامی پابندیوں کا سلسلہ پہلے ہی اٹھا لیا گیا ہے۔
جرمن حکومت کے ایک ترجمان نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ برلن ’نئی شامی حکومت سے گہرے تعلقات اور نئی شروعات میں دلچسپی رکھتا ہے۔‘
حالیہ برسوں میں تقریباً 10 لاکھ شامی باشندے جرمنی منتقل ہوئے ہیں، جن میں سے بہت سے 2015-16 میں خانہ جنگی سے بچنے کے لیے پہنچے تھے۔
انسانی حقوق گروپوں نے مسلسل عدم استحکام اور خلاف ورزیوں کے شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں شام واپس جانے کی ترغیب دینے کی کوششوں پر تنقید کی ہے۔