پنجاب:ٹریفک پولیس کا 20 سال پرانا یونیفارم ’نئے سٹائل‘ کے ساتھ پھر سے بحال

پہلے مرحلے میں لاہور میں یونیفارم تبدیل ہوا ہے جو بعد میں پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی فراہم کیا جائے گا۔

حکومت پنجاب نے صوبے میں سابق وزیر اعلیٰ پرویز الہی کی جانب سے بدلا گیا ٹریفک پولیس کا یونیفارم ایک بار پھر بدل کر واپس پرانے رنگ کا کر دیا ہے۔

پہلے مرحلے میں لاہور میں یونیفارم تبدیل ہوا ہے جو بعد میں پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی فراہم کیا جائے گا۔

سابق وزیر اعلیٰ پرویز الہی کے دور حکومت میں ٹریفک پولیس کو وارڈنز میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

پاکستان کے دوسرے صوبوں کی طرح پنجاب میں بھی شاہراوں پر بڑھتی ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے مختلف ادوار میں ٹریفک پولیس کے محکمے کو اپ گریڈ کیا جاتا رہا ہے۔

پنجاب میں ٹریفک کو منظم کرنے کا نظام برطانوی دور میں 1861 کے پولیس ایکٹ کے بعد شروع ہوا۔ اس قانون کے تحت پولیس ایکٹ 1861 نافذ کیا گیا جس کے ذریعے برصغیر میں جدید پولیس نظام قائم کیا گیا اور اسی کے تحت ٹریفک کنٹرول کی ذمہ داری بھی پولیس کو دی گئی۔

اس وقت دوسرے بڑے شہروں کی طرح لاہور میں بھی سڑکوں پر ٹریفک کی نگرانی کے لیے مخصوص اہلکار تعینات کیے گئے۔ اس کے بعد ٹریفک اہلکاروں کی تعداد بھی وقت کے ساتھ بڑھتی گئی جس کے لیے باقائدہ سفید شرٹ، نیلی پتلون اور سر پر ٹوپی پہننا ہر ملازم کے لیے لازمی تھا۔

لیکن 2002 سے 2007 تک اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی نے یہ پرانا یونیفارم تبدیل کر کے ’پہلی بار پڑھے لکھے‘ اہلکار بھرتی کیے۔ جن کو وارڈنز کا نام دیا گیا اور ان کا گرے یونیفارم لازمی قرار دیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم اب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر پیر سے لاہور میں پرانا یونیفارم بحال کر دیا گیا ہے۔

لاہور ٹریفک پولیس ایجوکیشن سینٹر کی انچارج فہمیدہ ذیشان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’پہلے مرحلے میں لاہور کے تین ہزار ٹریفک اہلکاروں اور افسران کے یونیفارم تبدیل کیے گئے ہیں۔

’اس کے بعد مرحلہ وار پنجاب بھر میں یونیفارم تبدیل کر دیا جائے گا۔ خواتین اور دفاتر میں ڈیوٹی کرنے والوں کے لیے  نیلا پینٹ کوٹ اور سفید شرٹ پہننا لازمی ہے۔ جبکہ فیلڈ میں کام کرنے والے مرد ملازمین کے لیے موسم کے لحاظ سے سفید شرٹ اور نیلی پینٹ پہننا لازمی ہوگی۔‘

اس حوالے سے لاہور کے ایک شہری اے آر گل نے کہا کہ ’ہر حکومت یونیفارم تبدیل کر کے کارکردگی ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن نظام تبدیل نہیں ہوتا۔

’شہریوں کی مشکلات ویسے ہی برقرار ہیں۔ باڈی کیمرہ لگانے کے باوجود اہلکاروں کا رویہ شہریوں کے ساتھ تبدیل نہیں ہوا۔ یہ کوئی کمال نہیں پہلے بھی یہی یونیفارم تھا اسے ہی بحال کردیا گیا۔ یونفیارم تبدیل کر کے کروڑوں خرچ کر دیے جاتے ہیں لیکن عوام کو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔‘

اسی طرح ایک اور شہری صداقت مغل کہتے ہیں کہ ’شہر میں ٹریفک کا نظام اب تو سیف سٹی اتھارٹی کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اب ٹریفک اہلکاروں کی یونیفارم تبدیل کرنے کی کوئی منطق سمجھ نہیں آئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان