پنجاب کے دیگر شہروں کی طرح لاہور میں بھی خواتین کو پبلک ٹرانسپورٹ میں ہراساں کرنے کے واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔ بیشتر خواتین اس کی شکایت بھی نہیں کرتیں۔ اب صوبائی حکومت نے لاہور کی تمام بسوں، ویگنوں، رکشوں اور ٹیکسیوں میں مرحلہ وار کیو آر ’پینک بٹن‘ نصب کرنا شروع کر دیے ہیں تاکہ خواتین کو ہراسانی سے بچایا جا سکے۔
عوام کو اس نظام کے استعمال، فوائد اور حفاظتی خصوصیات سے بھی آگاہ کیا جا رہا ہے۔ سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کے مطابق کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں مسافر کیو آر پینک بٹن کے ذریعے فوری طور پر پولیس اور سیف سٹی حکام سے رابطہ کر سکیں گے۔ اس نظام کے تحت مسافر کی لائیو لوکیشن اور گاڑی کا ڈیٹا فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں تک پہنچ جائے گا۔
لاہور کی طالبہ تحریم نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ بسوں یا رکشوں میں ہراسمنٹ کی جاتی ہے۔ کوئی ڈوپٹہ کھیچ لیتا ہے کوئی ٹچ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
’اس دوران مختلف خدشات کا سامنا رہتا ہے۔ اب یہ کیو آر پینک بٹن لگنے سے براہ راست ہیلپ لائن سے رجوع کر کے خاموشی سے شکایت درج کرائی جاسکتی ہے۔ یہ اقدام تحفظ فراہم کرتا ہے۔ لیکن اس کو بحال رکھنے کے لیے توجہ ضرور دینی چاہیے۔‘
ٹریفک پولیس افسر عرفان علی نے بتایا کہ ’ہم بسوں، رکشوں، آن لائن کیب پر کیو آر پینک بٹن لگا رہے ہیں۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ ڈرائیور کا لائسنس اور شناختی کارڈ نمبر سیف سٹی ایپ میں درج کیا جاتا ہے۔
’اس نمبر کے نام پر کیو آر بار کوڈ صفحے پر پرنٹ کر کے لگایا جاتا ہے۔ جس کو بھی شکایت ہوگی وہ اس کوڈ بار کو اپنے موبائل سےسکین کرے گا اور اس پر پولیس ہیلپ لائن یا شکایت درج کرانے کا آپشن آئے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ کیو آر بار سکین ہوتے ہی ڈرائیور اور گاڑی کی مکمل تفصیل اور لوکیشن پولیس کے پاس آجائے گی۔ شکایت کنندہ کی مدد کے لیے فوری قریبی پولیس ٹیم موقع پر پہنچ جائے گی۔ اس طرح جس کے خلاف شکایت ہوگی فوری کارروائی ممکن ہوسکے گی۔
انہوں نے بتایا کہ لاہور میں پہلے مرحلہ میں آٹو رکشوں پر کیو آر پینک بٹن لگائے جارہے ہیں ایک لاکھ سے زائد رکشوں کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کی ہر طرح کی گاڑیوں پر یہ لگائے جائیں گے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
رکشہ ڈرائیور اکرم مسیح نے بتایا کہ ٹریفک پولیس اہلکار رکشے کو روکنے کے بعد لائسنس اور شناختی کارڈ لے کر کیو آر پینک بٹن لگا رہے ہیں۔ جس میں تھوڑی دیر لگتی ہے۔
انہوں نے کہا: ’اس اقدام سے مسافروں کو تو تحفظ ملے گا ہی ہمیں بھی سواری سے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ جس طرح یہ مسافر کے لیے مدد فراہم کرے گا اسی طرح ہمارے ساتھ واردات کی صورت میں ہم بھی فوری پولیس سے رابطہ کر سکیں گے۔ البتہ جنہوں نے جرم کرنا ہے وہ باز نہیں آئیں گے۔ لیکن اب ان کے فرار اور بچت کے چانس ضرور کم ہوجائیں گے۔‘
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح کی سروس شروع تو کی جاتی لیکن مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے وجہ سے ایمرجنسی کے وقت کام نہیں کر رہی ہوتی۔ اس کو ہر گاڑی میں یقنی بنایا جائے اور اس کی مستقل طور پر نگرانی کی جائے۔