لاہور میں سیف سٹی اتھارٹی کی نیکسٹ جین سیفٹی پورٹل کے نام سے موبائل ایپ پر گذشتہ ایک ماہ میں 2500 سے زیادہ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو نفسیاتی مسائل سے متعلق شناخت چھپاتے ہوئے امداد فراہم کی گئی ہے۔
مختلف تحقیقی مطالعات کے مطابق پاکستان میں ذہنی دباؤ میں اضافے کی اہم وجوہات میں مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی عدم استحکام، سماجی دباؤ، ماحولیاتی آلودگی اور سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال شامل ہیں۔
2025 میں شائع ہونے والی ایک کراس سیکشنل سٹڈی میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے 400 افراد کا جائزہ لیا گیا، جس میں 57 فیصد افراد میں ڈپریشن جبکہ تقریباً 19.5 فیصد میں اینزائٹی کی علامات پائی گئیں۔
اسی تحقیق میں 38 فیصد افراد نے ذہنی دباؤ یا نفسیاتی پریشانی کی شکایات کیں۔
پنجاب انسٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کی ایک رپورٹ کے مطابق مختلف وجوہات اور مسائل کے باعث لاہور اور پنجاب کے شہریوں کے نفسیاتی مسائل میں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔
انچارج نیکسٹ جین سیفٹی پورٹل عائشہ علی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’یہ پورٹل نئی نسل یعنی جین زی کو درپیش مسائل کے لیے بنایا گیا ہے۔
’یہاں ہمیں قانونی مدد یا ہراسمنٹ سے متعلق بھی کالز موصول ہوتی ہیں، لیکن اس ماہ سب سے زیادہ جین زی، 16 سال سے 29 سال کی عمر کے 2640 لڑکے اور لڑکیوں نے نفسیاتی مسائل حل کرنے کے لیے کالز اور لائیو چیٹ کے ذریعے رابطہ کیا۔‘
انہوں نے مزید بتایا: ’رابطہ کرنے والوں میں کئی خودکشی کے خیالات، ذہنی دباؤ، بے روزگاری یا گھریلو مسائل کا شکار تھے۔ ہمارے ساتھ ماہر نفسیات موجود ہوتے ہیں، ان سے کالر کا رابطہ کرایا جاتا ہے، جو انہیں مکمل طور پر نفسیاتی خدمات فراہم کر کے نارمل صورت حال میں لاتے ہیں۔‘
پورٹل آپریٹر عائشہ خالد نے بتایا کہ سب سے پہلے پلے سٹور سے NextGen Safety App ڈاؤن لوڈ کر کے شناختی کارڈ نمبر سے اکاؤنٹ بنایا جا سکتا ہے۔ پھر مطلوبہ آپشن پر کلک کریں اور لائیو چیٹ، کال یا ویڈیو کال کا آپشن استعمال کریں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ سروسز 24 گھنٹے آن لائن دستیاب ہوتی ہیں۔ جیسے ہی کوئی بھی میسج یا کال کرتا ہے، اس کی شناخت خفیہ رکھی جاتی ہے اور فوری طور پر اسے رسپانس کیا جاتا ہے۔ نفسیاتی مسائل سے متعلق ماہر نفسیات سے رجوع کرا دیا جاتا ہے۔
سیف سٹی اتھارٹی میں فرائض انجام دینے والے ماہر نفسیات منیر حنیف نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’اس ایپ کے ذریعے جن نوجوانوں کو نفسیاتی مسائل ہوتے ہیں، انہیں حل کیا جاتا ہے۔‘
ان کے بقول: ’ان دنوں ایک نوجوان لڑکی نے کال کر کے مدد چاہی، جسے شدید نفسیاتی مسائل کا سامنا تھا۔ گھریلو مسائل کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار تھیں۔
’انہیں خودکشی کے خیالات آتے تھے اور خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کر چکی تھیں۔ لیکن ہم نے انہیں نفسیاتی مدد فراہم کی اور اب وہ بالکل ذہنی طور پر صحت مند ہیں۔ ایسے ہی دیگر کئی مسائل سے متعلق نوجوانوں کو ماہرانہ سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔‘