ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ نوجوانوں کو درپیش تعلیمی دباؤ ان کی ذہنی صحت پر گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑ سکتا ہے۔
تحقیق میں معلوم ہوا کہ وہ 15 سالہ نوجوان جن پر تعلیمی دباؤ زیادہ تھا، ان میں ابتدائی جوانی تک ڈپریشن کا شکار ہونے کا امکان زیادہ پایا گیا۔
مطالعے نے یہ بھی ظاہر کیا کہ یہ دباؤ خود کو نقصان پہنچانے (سیلف ہارم) کے بڑھتے ہوئے خطرے سے بھی جڑا ہوا ہے اور یہ اثر 24 سال کی عمر تک برقرار رہ سکتا ہے۔
یہ تحقیق معروف جریدے Lancet Child and Adolescent Health میں شائع ہوئی اور اسے یونیورسٹی کالج لندن کے ماہرین نے انجام دیا۔
انہوں نے 4,700 ایسے نوجوانوں کی زندگیوں کا جائزہ لیا جو 1991 یا 1992 میں پیدا ہوئے۔ یہ گروہ ’چلڈرین آف دی 90s‘ کے نام سے جاری طویل المدت تحقیق کا حصہ ہے، جو شرکا کی صحت اور بہبود کو سالہا سال سے ٹریک کر رہی ہے۔
جب یہ نوجوان 15 سال کے تھے تو سکول تجربات سے متعلق ایک سوال نامے کے ذریعے ان پر تعلیمی دباؤ کی پیمائش کی گئی۔
ان کی ذہنی صحت کو 16 سے 22 سال کی عمر تک بار بار جانچا گیا جبکہ خود کو نقصان پہنچانے سے متعلق معلومات 24 سال کی عمر تک اکٹھی کی گئیں۔
محققین نے دریافت کیا کہ وہ نوجوان جو 15 سال کی عمر میں سکول کے کام کو زیادہ دباؤ کا باعث سمجھتے تھے، انہوں نے آگے چل کر ڈپریشن کی زیادہ علامات ظاہر کیں۔
یہ تعلق اس وقت سب سے زیادہ نمایاں تھا جب وہ 16 سال کے تھے، یعنی جی سی ایس ای امتحانات کے قریب، لیکن ڈپریشن کی علامات 22 سال تک برقرار رہیں۔
مصنفین نے رپورٹ کیا کہ زیادہ تعلیمی دباؤ خود کو نقصان پہنچانے کے بڑھتے ہوئے خطرے سے بھی جڑا ہوا تھا اور دباؤ میں ہر ایک پوائنٹ اضافے کے ساتھ سیلف ہارم کا امکان آٹھ فیصد بڑھ جاتا ہے۔
محققین نے جریدے میں لکھا ’انگلینڈ کے ایک بڑے طویل مدتی گروہی مطالعے میں ہم نے دیکھا کہ 15 سال کی عمر میں زیادہ تعلیمی دباؤ 16 سے 22 سال کی عمر کے درمیان پانچ مختلف مراحل میں زیادہ ڈپریشن علامات سے وابستہ تھا۔
’یہ تعلق 16 سال کی عمر میں سب سے مضبوط تھا، لیکن 22 سال تک برقرار رہا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ تعلیمی دباؤ کے اثرات ثانوی سکول سے لے کر ابتدائی جوانی تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
’اگرچہ خود کو نقصان پہنچانے کے نتائج نسبتاً کم مضبوط تھے لیکن 15 سال کی عمر کا زیادہ تعلیمی دباؤ 16 سے 24 سال کی عمر کے درمیان چار مراحل میں سیلف ہارم سے بھی وابستہ پایا گیا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ یہ نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ تعلیمی دباؤ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی ذہنی صحت کے مسائل کا ایک اہم راستہ ہو سکتا ہے جس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
مصنفین نے تجویز کیا کہ سکول کی سطح پر ایسے اقدامات کیے جائیں جو مجموعی تعلیمی دباؤ کو کم کریں تاکہ نوجوانوں کی ذہنی صحت بہتر ہو سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امتحانی دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایسے اقدامات مددگار ثابت ہو سکتے ہیں جو سماجی اور جذباتی مہارتوں اور آرام کی تکنیکوں کو فروغ دیں۔
مزید برآں، تحقیق میں نشاندہی کی گئی کہ ایسے شواہد موجود ہیں کہ ’ہائی سٹیکس امتحانات کی تعداد کم کرنے سے تعلیمی دباؤ گھٹ جاتا ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ گھر والے تعلیمی دباؤ کم کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں اور نوجوانوں کو جسمانی سرگرمی، میل جول اور مناسب نیند کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں۔
سینیئر مصنف جیمّا لیوس، پروفیسر آف سائیکیٹرک اپیڈیمیولوجی، یو سی ایل، نے کہا ’حالیہ برسوں میں برطانیہ سمیت کئی ممالک میں نوجوانوں میں ڈپریشن کی شرح میں اضافہ ہوا اور تعلیمی دباؤ بھی بڑھتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
’نوجوان کہتے ہیں کہ تعلیمی دباؤ ان کے بڑے ترین ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔ کامیابی کے لیے تھوڑا دباؤ محرک ثابت ہو سکتا ہے لیکن بہت زیادہ دباؤ حد سے بڑھ کر ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
’ہم نے پایا کہ جو نوجوان 15 سال کی عمر میں سکول کے کام کے باعث زیادہ دباؤ محسوس کرتے تھے، وہ آنے والے کئی برسوں تک ڈپریشن کی زیادہ علامات ظاہر کرتے رہے۔
’فی الحال سکولوں میں ذہنی صحت کے پروگرام زیادہ تر انفرادی طلبہ پر توجہ دیتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ تعلیمی دباؤ کو سکول کی سطح پر کم کرنے کے لیے مجموعی سکول کلچر بدلا جائے۔‘
چیریٹی ینگ مائنڈز کے ہیڈ آف ایکسٹرنل افیئرز اینڈ ریسرچ پال نوبلیٹ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’ثبوت بالکل واضح ہیں، تعلیمی دباؤ نوجوانوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچاتا ہے۔
’یہ نتائج ان نوجوانوں کے ہمارے سروے سے بھی مطابقت رکھتے ہیں جنہوں نے گذشتہ سال جی سی ایس ای اور اے لیول کے امتحان دیے، جن میں سے بڑی تعداد خودکشی کے خیالات اور خود کو نقصان پہنچانے سے دوچار تھی۔
’چھوٹے اقدامات تو کیے جا رہے ہیں، جیسے امتحانات کے وقت میں تین گھنٹے کی کمی لیکن یہ تبدیلیاں اس نظام کو بہتر بنانے کے لیے ناکافی ہیں۔
’ضرورت اس بات کی ہے کہ توجہ صرف سالانہ امتحانات پر نہ ہو بلکہ مختلف قسم کے اسسمنٹ طریقوں کو شامل کیا جائے۔
’آخر نوجوان کب تک کہتے رہیں گے کہ وہ مشکلات کا شکار ہیں، اس سے پہلے کہ واقعی بامعنی تبدیلیاں کی جائیں؟‘
© The Independent