لاہور میں ایک نجی یونیورسٹی میں پیر کو خودکشی کی کوشش کرنے والی شعبۂ فارمیسی کی طالبہ کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
پولیس اور لاہور جنرل ہسپتال کے میڈیکل بورڈ کا کہنا ہے کہ طالبہ کی جسمانی اور ذہنی صحت میں بہتری آ رہی ہے۔
اس سے قبل 19 دسمبر کو بھی اسی یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے خودکشی کی تھی۔ یکے بعد دیگرے پیش آنے والے ان دو واقعات نے ملک بھر میں تعلیمی اداروں میں طلبہ کی ذہنی صحت، مؤثر کونسلنگ نظام اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں سے متعلق ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
لاہور جنرل ہسپتال کے نو رکنی سپیشل میڈیکل بورڈ نے، جس کی سربراہی پروفیسر جودت سلیم کر رہے ہیں، تصدیق کی مذکورہ طالبہ اب خطرے سے باہر ہیں۔
بورڈ میں شعبہ نفسیات کی سربراہ ڈاکٹر فائزہ اطہر اور ماہرِ نفسیات عالیہ صدف سمیت مختلف شعبوں کے ماہرین شامل ہیں۔
پرنسپل لاہور جنرل ہسپتال پروفیسر فاروق افضل کے مطابق بورڈ طالبہ کی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی بحالی پر بھی مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے جبکہ طالبہ اور ان کے اہلِ خانہ کی کونسلنگ کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ وہ صدمے کی کیفیت سے جلد باہر آ سکیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے بتایا کہ اب تک کی تحقیقات میں طالبہ کی یونیورسٹی سے متعلق حاضری یا انتظامیہ کے رویے سے کسی مسئلے کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
ان کے مطابق طالبہ کی یونیورسٹی حاضری 94 فیصد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طالبہ کی صحت اور خاندان کی پرائیویسی کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے کیونکہ کیس میں حساسیت زیادہ ہے۔
پولیس کے مطابق طالبہ اس وقت مکمل گفتگو کے قابل نہیں، مگر جلد ان کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا کے مطابق ابتدائی شواہد سے یہ معاملہ ذاتی نوعیت کا لگتا ہے جبکہ یونیورسٹی کا تعلق صرف اس حد تک ہے کہ واقعہ اس کی حدود میں پیش آیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پروگریسیو سٹوڈنٹس کلیکٹو کے مرکزی آرگنائزر احسان جاوید نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ 15 روز سے یونیورسٹی کا ماحول طلبہ کے لیے گھٹن زدہ ہے۔
ان کے مطابق 19 دسمبر کو ایک اور طالب علم کی خودکشی کے بعد طلبہ نے ’مینٹل ویلنس سیل‘ کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔
احسان کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے وعدہ کیا تھا کہ پانچ دن میں ویلنس سیل قائم کر دیا جائے گا،تاہم تاحال کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کے لیے قائم کی گئی کسی بھی کمیٹی میں طالبات کی نمائندگی نہیں۔
راول پنڈی کے گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج میں سائیکالوجی کے لیکچرر محمد ثاقب شبیر کا کہنا ہے کہ نوجوان اس وقت ایک "بارڈر لائن سٹیج‘ پر ہیں۔
ان کے مطابق طلبہ پر تعلیمی دباؤ بڑھ رہا ہے، ذاتی زندگی کے مسائل بھی ساتھ چل رہے ہیں، ایسے میں ہر کیس کی ذمہ داری تعلیمی ادارے پر نہیں ڈالی جا سکتی، مگر ہر یونیورسٹی میں فعال کونسلنگ اور ویلنس سینٹرز کا قیام ضروری ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر تعلیمی ماحول میں ذہنی صحت کی سہولیات مؤثر نہ ہوں، تو نوجوان طلبہ سنگین ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
انتظامیہ نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے کہ مزید احکامات تک یونیورسٹی میں تدریسی عمل آن لائن جاری رہے گا۔