مری، کوٹلی ستیاں میں واش، رین واٹر ہارویسٹنگ منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل

اس مصنوبے کا مقصد پانی، صفائی اور حفظانِ صحت سے متعلق آگاہی میں اضافہ اور پانی کی قلت سے متاثرہ ان علاقوں میں بارش کے پانی کو محفوظ بنانے (رین واٹر ہارویسٹنگ) کو ماحولیاتی تبدیلی کے مقابلے کے لیے ایک پائیدار حل کے طور پر فروغ دینا تھا۔

اس منصوبے کے ذریعے سکولوں پر مبنی تعلیم، عملی سرگرمیوں اور کمیونٹی انگیجمنٹ کے ذریعے حفظانِ صحت کے طریقوں، پانی کے بچاؤ سے متعلق شعور اور ماحولیاتی ذمہ داری کو فروغ دیا گیا (اے کے یو-آئی ای ڈی اور این ای ڈی یونیورسٹی)

اے کے یو-آئی ای ڈی اور این ای ڈی یونیورسٹی کا مری اور کوٹلی ستیاں میں واش اور رین واٹر ہارویسٹنگ ایجوکیشن پراجیکٹ کا پہلا فیز مکمل ہوگیا جس سے ان آبادیوں نے ایک سال کے دوران اس منصوبے سے فائدہ اٹھایا۔

اس مصنوبے کا مقصد پانی، صفائی اور حفظانِ صحت سے متعلق آگاہی میں اضافہ اور پانی کی قلت سے متاثرہ ان علاقوں میں بارش کے پانی کو محفوظ بنانے (رین واٹر ہارویسٹنگ) کو ماحولیاتی تبدیلی کے مقابلے کے لیے ایک پائیدار حل کے طور پر فروغ دینا تھا۔

کمیونٹی موبلائزیشن اینڈ واش ایجوکیشن انڈر روف ٹاپ رین واٹر ہارویسٹنگ اِن مری ڈسٹرکٹ کے عنوان سے جاری اس منصوبے کے پہلے مرحلے کے اختتام کی باضابطہ تقریب آغا خان یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ (IED) کی جانب سے این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے اشتراک سے، اے کے یو کے کریم آباد کیمپس میں منعقد کی گئی۔

اگرچہ مری اور کوٹلی ستیاں میں بارشیں زیادہ ہوتی ہیں تاہم پہاڑی اور ڈھلوانی جغرافیہ، پانی کے تیز بہاؤ (رن آف)، سیاحت کا دباؤ اور محدود انفراسٹرکچر کے باعث یہ علاقے طویل عرصے سے پانی کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔

حکومتِ پنجاب کے اربن یونٹ نے چھتوں پر بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کا پروگرام شروع کیا جس کے تحت ایک ہزار سے زائد (فیز اوّل میں 1,100 سے زیادہ) مکانات میں محفوظ ذخیرہ اور فلٹریشن سسٹمز نصب کیے گئے۔

اس اقدام کے ساتھ کمیونٹی ایجوکیشن کی سرگرمیاں آئی ای ڈی اور این ای ڈی یونیورسٹی کی قیادت میں انجام دی گئیں۔

اس منصوبے کے ذریعے سکولوں پر مبنی تعلیم، عملی سرگرمیوں اور کمیونٹی انگیجمنٹ کے ذریعے حفظانِ صحت کے طریقوں، پانی کے بچاؤ سے متعلق شعور اور ماحولیاتی ذمہ داری کو فروغ دیا گیا۔

اس اقدام میں براہِ راست 4,726 طلبہ اور 220 کمیونٹی اراکین نے شرکت کی، جو تعلیم پر مبنی حکمتِ عملی کی مؤثریت کو ظاہر کرتا ہے۔

ڈاکٹر فوزیہ پروین، آغا خان یونیورسٹی نے کہا کہ ’اس منصوبے نے ہمیں حکومت کے ساتھ براہِ راست کام کرنے کا ایک منفرد موقع فراہم کیا۔ پہلے فیز میں ہم نے سکولوں اور سُتھرا پنجاب جیسے شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اگلے مرحلے میں ہم کوٹلی ستیاں میں سٹیزن سائنس (شہری سائنسی شمولیت) پر توجہ کے ساتھ واٹر کوالٹی لیبارٹری قائم کریں گے۔ ہمارا مقصد ان حاصل شدہ معلومات اور تجربات کو پالیسی سازوں کے لیے قابلِ عمل سفارشات میں تبدیل کرنا ہے۔‘

اختتامی تقریب میں آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) کے نمائندوں اور کراچی سے تعلق رکھنے والے تعلیمی سٹیک ہولڈرز کے علاوہ این ای ڈی یونیورسٹی اور آغا خان یونیورسٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔

شرکا میں ڈاکٹر سلیم ورانی، وائس پرووسٹ ریسرچ، اے کے یو، ڈاکٹر فرید پنجوانی، ڈین، آئی ای ڈی؛ اور عارف حسن شامل تھے۔ منصوبے کی قیادت کرنے والی ڈاکٹر فوزیہ پروین (اے کے یو) اور ڈاکٹر عبدالغفار (این ای ڈی) نے فیز دوئم میں بھی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، جس میں کوٹلی ستیاں میں آغا خان یونیورسٹی کے تحت واٹر کوالٹی لیبارٹری کے قیام کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

یہ منصوبہ پاکستان میں پائیدار اور مؤثر موسمیاتی ردِعمل پر مبنی واش حل کے لیے مقامی شراکت داری کی ایک مضبوط مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔ منتظمین نے مری اور کوٹلی ستیاں میں اس اہم اقدام کی قیادت کا موقع فراہم کرنے پر حکومتِ پنجاب کے اربن یونٹ کا شکریہ ادا کیا۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس