پاکستان کی جانب سے سرحدی رکاوٹ اور اب ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش نے خشکی سے گھرے افغانستان کے لیے تجارت اور انسانی امداد کی فراہمی کو شدید متاثر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں سست پڑ گئی ہیں جبکہ غذائی قلت کے شکار ہزاروں افراد بنیادی سہولتوں سے محروم ہو رہے ہیں۔
گذشتہ سال کے آخر میں جب افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے باعث سرحدی گزرگاہیں بند ہوئیں تو افغان تاجروں نے متبادل راستے کے طور پر ایران کا رخ کیا۔
پاکستان کی سرحدی بندش کے بعد افغانستان کی برآمدات اور درآمدات کی ترسیل ایران کی اہم بندرگاہ بندر عباس کے ذریعے شروع کی گئی تاہم یہ راستہ بھی زیادہ دیر کارآمد نہ رہ سکا کیونکہ یہ بندرگاہ آبنائے ہرمز پر واقع ہے، جہاں جاری جنگ کے باعث سینکڑوں بحری جہاز پھنس چکے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان میں بھی افغانستان کے لیے آنے والے ہزاروں کنٹینرز رکے ہوئے ہیں۔
ان دونوں راستوں کی بندش نے افغانستان کی معیشت اور امدادی سرگرمیوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے خوراک کے مطابق غذائی قلت کے شکار خواتین اور بچوں کے لیے فراہم کی جانے والی امداد بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
اس سے نہ صرف ترسیلی اخراجات میں غیر معمولی اضافے کا سامنا ہے بلکہ سپلائی بھی تقریباً منقطع ہو چکی ہے۔
اس سے قبل زیادہ تر غذائی امداد پاکستان سے آتی تھی، تاہم سرحد بند ہونے کے بعد اسے دبئی اور ایران کے راستے منتقل کیا جا رہا تھا، جو اب عملی طور پر بند ہو چکا ہے۔
ادارے کے مطابق غذائی سپلیمنٹس بتدریج کم ہوتے گئے اور اپریل کے وسط تک مکمل طور پر ختم ہو گئے۔
افغانستان میں عالمی ادارہ خوراک کے ڈائریکٹر جان ایلییف نے کہا: ’ایسے وقت میں جب غذائی قلت پہلے ہی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، کمزور اور مجبور ماؤں اور بچوں کو طبی مراکز سے واپس بھیجا جا رہا ہے کیونکہ ہمارے پاس فراہم کرنے کے لیے خوراک موجود نہیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ادارہ پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار تھا اور رواں سال اسے اپنی مجموعی فنڈنگ کا صرف آٹھ فیصد ہی حاصل ہو سکا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور پاکستان کے ساتھ سرحد کی بندش نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ادھر امدادی سامان کی ترسیل کے لیے اب وسطی ایشیا کے طویل زمینی راستے استعمال کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔
ایک امدادی کھیپ جو پہلے دبئی سے ایران کے راستے افغانستان پہنچنی تھی، اب ایک طویل اور پیچیدہ راستے سے سعودی عرب، اردن، شام، ترکی، جارجیا، آذربائیجان اور بحیرہ کیسپین سے ہوتی ہوئی ترکمانستان پہنچ رہی ہے اور اسے روانہ ہوئے تین ماہ گزر چکے ہیں۔
کاروباری شعبہ بھی اس بحران سے شدید متاثر ہوا ہے۔ کابل کے تاجر لطف اللہ اکبری کے مطابق ان کا چین سے منگوایا گیا تعمیراتی سامان آبنائے ہرمز میں پھنسا ہوا ہے جبکہ ترسیلی اخراجات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کا کہنا ہے کہ اگر صورت حال برقرار رہی تو وہ اپنا سامان چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
اسی طرح دیگر تاجروں نے بھی شکایت کی ہے کہ ٹرانسپورٹ کمپنیاں اب سامان کی مالیت سے بھی زیادہ کرایہ طلب کر رہی ہیں، جس کے باعث درآمدی سرگرمیاں تقریباً رک گئی ہیں۔
لاجسٹکس کمپنی کے ایک عہدیدار کے مطابق جنگ سے قبل ایک کنٹینر کی ترسیل کی لاگت تقریباً تین سے ساڑھے تین ہزار ڈالر تھی، جو اب بڑھ کر سات ہزار سے زائد اور بعض صورتوں میں 11 ہزار ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
کابل میں الیکٹرانکس کے ایک تاجر کے مطابق چین سے سامان منگوانے کی لاگت جو پہلے ڈیڑھ ہزار ڈالر کے قریب تھی، اب 15 ہزار ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔
افغان حکام کے مطابق اگرچہ ملک میں مجموعی مہنگائی کی شرح نسبتاً کم یعنی تقریباً تین فیصد ہے، تاہم ایران کے راستے آنے والی اشیا پر پابندیوں نے مسائل پیدا کیے ہیں۔
حکام کو امید ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورت حال بہتر ہونے پر تجارتی سرگرمیاں معمول پر آ جائیں گی۔
افغان چیمبر آف کامرس کے مطابق اس وقت افغانستان کی 60 فیصد سے زائد تجارت وسطی ایشیا کے ذریعے ہو رہی ہے، جس سے ایران میں جاری تنازعے کے اثرات کسی حد تک کم ہوئے ہیں۔
خوراک اور پیٹرولیم مصنوعات وسطی ایشیا اور روس سے درآمد کی جا رہی ہیں جبکہ دیگر اشیا ترکی کے راستے ریل کے ذریعے ایران یا آذربائیجان کے ذریعے افغانستان پہنچ رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ صورت حال طویل عرصے تک برقرار رہی تو افغانستان کی معیشت اور انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
